اسلام آباد(مسائل نیوز) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا ہے کہ پورے ملک کی حلقہ بندیاں تبدیل ہوں گی جس کے لیے 6 سے 7 ماہ درکار ہیں۔چیف الیکشن کمشنر سلطان راجہ سرپم کورٹ طلب کرنے پر گذشتہ روز عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ پورے ملک میں حلقہ بندیاں کرنی ہیں جس کے لیے 6 سے 7 ماہ چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کی حقلہ بندیاں تبدیل ہوں گی، فاٹا کی 12 نشستیں ختم اور کے پی کے میں ضم ہوئی ہیں، حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کے لیے 3 ماہ چاہئیے ہوں گے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامہ 8 صفحات پر مشتمل ہے، عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کیا جائےگا، اجلاس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے، تمام ارکان بغیر رکاوٹ ووٹ دے سکیں گے،آرٹیکل63 کے نفاذ پر عدالتی فیصلہ اثرانداز نہیں ہوگا۔
- Advertisement -
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی 3اپریل کی رولنگ آئین اور قانون کے متصادم قرار دی جاتی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی حیثیت نہیں،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔ موجودہ کیس ان معاملات پر نمٹایا جاتا ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل بھی غیرآئینی ہے، تحریک عدم اعتماد ابھی بھی زیرالتواء ہے، وزیراعظم تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد آرٹیکل 58کے تحت پابند تھے اور ہیں۔
عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس نئے وزیراعظم کے انتخاب تک ملتوی نہیں کیا جائےگا، عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اسی قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے، صدر، وزیراعظم اور اسپیکر کے احکامات سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔