بھارتی ریاست کرناٹک میں باحجاب طالبات پر زندگی تنگ ہوگئی
کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
- Advertisement -
ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔مذکورہ لڑکی نے کہا کہ ’میں کالج جا رہی تھی جب کچھ لوگوں نے مجھ پر الزام لگایا اور کہا کہ میں برقعہ اتارنے کے بعد ہی احاطے میں داخل ہو کتی ہوں،
وہ مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے۔‘ رپورٹس کے مطابق طالبات کے احتجاج کےبعد انہیں کالج میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی تاہم انہیں علیحدہ کلاس رومز میں بٹھایا گیا۔انتظامیہ کا کہنا تھاکہ طالبات کو کلاس میں آنے کی اجازت تب دی جائے گی جب وہ حجاب اتار کر اور کالج یونیفارم پہن کر آئیں گی۔
۔ قانون تو سب کے لے ھوتا ھے ۔ تو اس مین غلط کیا ھے ۔ انکا قانون .
ہیہی ھوگا
۔ so follow the rules and go as per rule…….