’حکومت کا شاندار بزنس پلان صرف یہ ہے کہ چند ماہ کیلئے سعودی عرب اور چین پیسے دیں اور ہم دن گزاریں‘
لاہور (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے حکومت پر طنز کے تیر چلادیے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کا شاندار بزنس پلان صرف یہ ہے کہ چند ماہ کیلئے سعودی عرب اور چین پیسے دیں اور ہم دن گزاریں، حیران ہوں کہ کیسے نااہل اور نکمے لوگ پاکستان ہر مسلط کر دیے گئے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ ڈنڈے کے سہارے ملک کی سیاست اور معیشت کو کتنی دیر چلانا چاہتی ہے؟۔
خیال رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے فنڈز جلد پاکستان کو منتقل ہوں گے اور پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بہت جلد دوبارہ مستحکم ہوں گے، اس وقت بھی زرمبادلہ کے ذخائر 4 نہیں 10 ارب ڈالر ہیں کیوں کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود 6 ارب ڈالر بھی پاکستان کے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا، جینیوا میں بھی آئی ایم ایف حکام سے ملاقات ہو گی جہاں سے واپسی پر3 روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں رکیں گے۔
- Advertisement -
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے ہیں اور ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی سال 2000ء کے بعد سب سے کم درآمدی کور ہے، اس امپورٹڈ حکومت کی نااہلی اور لاپرواہی کی وجہ سے ذخائر کی سطح موجودہ خطرناک حد تک کم ہے جب کہ ہماری حکومت ختم کرنے کے بعد سے آج تک ذخائر 16.4 بلین ڈالر سے کم ہو کر صرف 4.5 ڈالر رہ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8 سال 9 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ذخائر 25 روز کی درآمدات کی ضرورت پوری کرنے کی سطح پر آگئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے بینکوں کو مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر قرض کی ادائیگیاں کی ہیں، جن میں سے امارات این بی ڈی کو 60 کروڑ ڈالر اور دبئی اسلامک بینک کو 42 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جس کے بعد زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 4.5 ارب ڈالر کی سطح پر آچکے ہیں، جو سرکاری ذخائر کی 8 سال 9 ماہ کی کم ترین سطح ہے، مارچ 2014 کے بعد پہلی مرتبہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 6 ارب ڈالرز کی سطح سے نیچے آئے ہیں۔