MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ہندوتوا کی جنونیت

0 442

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر ٓ: کنول زہرا

چھ دسمبر 1992 کو بھارت میں متعصاب ہجوم نے بابری مسجد پر دھاوا بول کر اسے شہید کر دیا تھا، بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایل کے اٹاوانی کی قیادت میں شو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی، جس کی سے بابری مسجد کو منہدم کیا گیا تھا،بعد ازاں وہاں ہندو مسلم فسادات نے زور پکڑا ، جس کی وجہ سے دو ہزار مسلمانوں کو موت کے گھا ٹ اترا گیا تھا، بابری مسجد کے انہدام سے پہلے ہندو مظاہرے کے منتظمین نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اس مظاہرے میں ہندستان بھر سے تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔ بابری مسجد ہندووں کے نظریہ کے مطابق رام کی جنم بھومی پر یا رام مندر پر تعمیر کی گئی۔ جب کہ مسلمانوں نے اس نظریہ کو مسترد کیا جو تنازع کی وجہ بنا، طویل عدالتی جد وجہد کے بعد نو نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا اور ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے انہدام کو غیر قانونی کہا،بعد ازاں اراضی کی ملکیت اسی ہندو فریق کو سونپ دی جو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار تھا، بھارتی سپریم کورٹ کے اس ہومیوپیتھک فیصلے پر مسلمانوں کے جذبات ایک بار پھر مجروح ہوئے پھر بالائے ستم یہ کہ
پانچ اگست 2020 کو بھارتی وزیر اعظم مودی نے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کے مقام پر ایک ہندو مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔
نریندر مودی کایہ عمل بھی تعصابانہ رویے کی علامت ہے، کیونکہ بھارتی وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے دوبارہ الحاق کی پہلی برسی پر رام مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب کا انعقاد کی، مودی کا یہ عمل مسلمانوں کے لیے بھارت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔

- Advertisement -

بھارت میں مسلمانوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں، جان،مال اور آبرو حملوں کی زد میں ہیں،مساجد کی بے حرمتی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوتوا کی سوچ پر مبنی مودی حکومت کے زیر سایہ مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ مودی حکومت کی مسلمانوں سے نفرت کی ایک شرمناک مثال سامنے آئی ہے،جس میں مسلمان خواتین کو ایک ایپ پر نیلامی کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ان خواتین میں شبانہ اعظمی، ملالہ سمیت نامور شخصیات شامل ہیں۔ بھارتی پولیس نے متعدد شکایات کے باوجود کسی قسم کی کارروائی سے انکار کر دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پورا بھارت فاشسٹ سوچ سے آلودہ ہو چکا ہے ، بھارت میں منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، مسلمان بہن بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں ہیں، ہندوتواسوچ کے پیروکارو کا کہنا ہے کہ بھارت میں رہنا ہے تو رام رام کہنا ہو گا۔ بالی وڈ سٹارز شاہ رخ خان، عامر خان کئی بار انتہا پسند ہندوؤں کی نفرت کا شکار بن چکے ہیں ، بھارت نے جس طرح مقبوضہ کشمیر کو انسانی جیل میں تبدیل کیا گیا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔مقبوضہ وادی میں چن چن کر مسلم نوجوانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔

مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے
بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،ہندو انتہاپسندوں کی مسلمانوں سے نفرت آخری حدوں کو چھو رہی ہے،مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.