MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ھوم سکولنگ؛ بچت بھی, روشن مستقبل بھی

0 223

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: ایم فاروق انجم
دنیا بھر میں آج ہر ملک ’’تعلیم ہر بچے کا حق ہے‘‘ کا جھنڈا لہراتا نظر آتا ہے، مگر بچوں کو سکول بھجوانے کی درست عمر کیا ہونی چاہیے؟ کے لئے سوائے حکم نامہ جاری کرنے کے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی یا مشاورتی سیشن پر توجہ نہیں دی جاتی۔ عمر کے لحاظ سے بچوں کو سکول داخل کروانے کی حد ہر ملک میں مختلف ہے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق یہاں بچوں کو 5 سال سے سکول داخل کروانے کی عمر شروع ہوجاتی ہے، شمالی آئر لینڈ میں بچوں کو 4 سال کی عمر میں سکول داخل کروانا لازمی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، سکاٹ لینڈ، ہالینڈ اور آسٹریلیا میں 5 سال، آسٹریا، بیلجیئم، چیکو سلوواکیہ، فرانس اور سپین میں 6 سال جب کہ سویڈن میں 7 سال تک کی عمر کے بچوں کو سکول بھجوانے کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔
ہمارے دور میں پانچ سال کا بچہ سکول داخل کروایا جاتا تھا اور یہی اس کی سیکھنے کی سب سے بہترین عمر ہوتی تھی ۔ چار یا ساڑھے تین سال کے بچے کو سکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا ۔ پھر زمانہ پلٹا ، ہر محلے اور گلی میں پرائیویٹ سکول کھلنا شروع ہوگئے ۔ جہاں تعلیم کے ابتدائی مدارج کو پلے گروپ ، پری نرسری ، کے جی یا پریپ کا نام دے دیا گیا ۔ اب گھر بیٹھی ماوں کو تین سال کی عمر میں بچوں سے جان چھڑانے کا موقع مل گیا ، جیسے ہی بچہ بولنا شروع کرتا ان کو لگتا سکول داخل کرانے کا وقت شروع ہوچکا ہے ۔نجی سکولوں کو اور کیا چاہیے تھا ، وہ اڑھائی سال کا بچہ داخل کرنے پر بھی تیار ہوگئے اور دھڑا دھڑ ایڈمیشن ہونے لگے ۔
وہ بچہ جسے ماں کی نرم آغوش چاہیے تھی ، کھیلنے اور جی بھر کے سونے کی عمر میں سکول یونیفارم پہن کر پلا سٹک اور لکڑی کی کرسیوں پر نیند سے جھولتا رہتا ۔ جس بچے نے ابھی پیشاب پر کنٹرول نہیں سیکھا وہ صبح سات سے دو بجے تک ایک ایسی بھیڑ میں بھیج دیا گیا جہاں آنے کا مقصد اسے خود نہیں معلوم نہیں۔ گیٹ پر چیختے چلاتے اور بلکتے بچے گارڈ کے حوالے کرکے ماں باپ فخر سے گھر کو چل دیتے ۔
بچوں کی ذہنی سطح کو جانچے بغیر انہیں کبھی چھوٹی تو کبھی بڑی عمر میں سکول میں بھرتی کرا دیا جاتا ہے، جو کسی طور پر بھی درست عمل نہیں، کیوں کہ دونوں صورتوں میں نقصان بچوں کا ہی ہوتا ہے۔ ایک بچے کی ذہنی سطح اور دیگر صلاحتیں دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں، اس کی نشوونما اور بڑھوتری کی رفتار مختلف ہوتی ہے، تو پھر ایسے میں ایک ہی قانون کے تحت انہیں کیسے ایک خاص عمر میں سکول داخل ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟۔ ماہرین کے مطابق چھوٹی عمر کی وجہ سے بچوں پر پڑنے والا دبائو بعض اوقات ساری زندگی انہیں پڑھائی کے میدان میں کمزور کئے رکھتا ہے جبکہ زیادہ عمر ہونے کی صورت میں بچہ اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔
پاکستانی معاشرہ میں جہاں بچوں کی تعلیم ہی کو اب کچھ اہمیت ملنا شروع ہوئی ہے، وہاں بچوں کو سکول بھجوانے کی عمر کا درست تعین کرنے کے لئے مباحثوں یا مذاکروں کی طرف تو جلدی سے ذہن ہی نہیں جاتا۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک کے خواندہ معاشروں میں ایسا نہیں ہے۔ دو ماہ قبل ستمبر کے مہینے میں برطانیہ کے 130ماہرین تعلیم نے اپنی حکومت کو ایک خط لکھا جس میں بچے کو 5 سال کی عمر میں سکول داخل کروانے کی پابندی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ برطانوی ماہرین تعلیم کے مطابق بچے کی پرائمری تعلیم 6 یا 7 سال سے شروع کی جائے کیوں کہ 5 سال کی عمر میں داخلہ بہت جلدی ہے، 5 سال کی پابندی بچے کو تعلیمی لحاظ سے بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے اور بچوں کے سیکھنے کے عمل میں یہ پابندی ان میں خوف اور دبائو پیدا کرے گی۔
کسی خاص عمر کو پہنچنے پر بچوں کو ہر صورت سکول داخل کروانے کا حکومتی یا والدین کا رویہ درست نہیں بلکہ انہیں سیکھنے کے فطری عمل کے مطابق پروان چڑھنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جس میں مشاہدات اور سوالات کرنے کی عادت انہیں مدد فراہم کرتی ہے۔ سیکھنے کا عمل جہد مسلسل کا نام ہے یہ کسی سکول میں داخل یا فارغ ہونے سے مکمل نہیں ہوتا۔ گھر، کسی بھی بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے، لہذا یہ ضروری ہے کہ بچوں کو زبردستی ایک طے شدہ عمر میں سکول بھجوانے کے بجائے گھر پر والدین ان کی اس انداز میں تربیت کرے کہ بچے نہ صرف بخوشی سکول جائیں بلکہ وہاں خود کو سنبھال بھی سکیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس لئے والدین کو اپنے بچے میں پیدا ہونے والی جسمانی اور ذہنی تبدیلوں سے آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ بچہ خود کو تنہا نہ سمجھے اور اپنے مسائل کا حل والدین کے ساتھ مل کر تلاش کرے۔ والدین کا دوستانہ رویہ بچے کے شخصی خدوخال میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔
اگر کوئی مجبوری نہیں ہے تو پانچ سال سے پہلے بچوں کو ہر گز سکول داخل مت کروائیں ، بنیادی حروف کی پہچان اور ریڈنگ گھر میں کروائیں ، پیار سے گود میں بٹھا کر ان کو پینسل پکڑنے کا طریقہ سکھائیں ۔ نجی سکول سال بھر میں ان کو اتنا نہیں سکھا پاتے جتنا ماں ایک مہینے میں سکھا سکتی ہے۔
بطور استاد اگر میں ماوں کو مشورہ دوں تو خدا کے لیے ہوم سکولنگ کی طرف آئیں نہ صرف اضافی خرچے کی بچت ہوگی بلکہ مستبقل میں ایک صحت مند اور ذہین ترین بچہ آپ کی نسل میں پروان چڑھے گا ۔
یہ شمعیں چھوٹی چھوٹی سی
کل ممکن ہے_ خورشید بنیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.