بلوچستان میں باڈر ٹریڈ کی بندش سے لاکھوں گھرانے متاثر ہونے کا خدشہ، نیشنل پارٹی کا اظہارِ تشویش
نوشکی (مسائل نیوز)نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں باڈر ٹریڈ کی بندش سے لاکھوں گھرانوں کے چولہے بجھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ترجمان کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع خصوصا نوشکی، چاغی، واشک اور تربت کے عوام کی گزر بسر کا بنیادی ذریعہ باڈر ٹریڈ ہے، جس کے بغیر صوبے کی معیشت کا پہیہ رک جائے گا۔ترجمان نے بتایا کہ حالیہ باڈرز کی بندش سے تقریبا 30 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، جن میں اکثریت محنت کشوں اور بے روزگار نوجوانوں کی ہے۔ بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، پسماندگی اور معاشی بحران سے دوچار ہے، ایسے میں باڈر ٹریڈ پر پابندی لگا کر حکومت صوبے کے عوام کو مزید مایوسی اور بے یقینی کی طرف دھکیل رہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ باڈر ٹریڈ کی بندش کے منفی اثرات نہ صرف صوبے کی معیشت بلکہ امن و امان پر بھی پڑیں گے، کیونکہ جب نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہیں رہیں گے تو معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ ملے گا، جو کسی کے مفاد میں نہیں۔نیشنل پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کی معاشی حالت کا ادراک کرتے ہوئے باڈر ٹریڈ کو قانونی دائرے میں لا کر فوری طور پر بحال کیا جائے، مقامی تاجروں اور مزدوروں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ نیشنل پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی ایسی پالیسی کو تسلیم نہیں کرے گی جو بلوچستان کے عوام کے معاشی مفادات کے خلاف ہو۔