MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

گزشتہ سال جولائی میں (ن)لیگ نے تحریک انصاف کی حکومت گرانے کی سازش شروع کر دی تھی

0 252

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین سابق وزیر اعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں ان کے خلاف سازش شروع کر دی گئی تھی جس کی ساری تفصیلات مجھے اس وقت ملی گئی تھیں ،(ن)لیگ والے سازش کررہے ہیں ،حکومت گرانے کا پورا پلان بنایا گیا ، میں نہیں چاہتا تھا کہ آئی ایس آئی کا چیف تبدیل ہو جب تک سردیاں نہ نکل جائیں ، یہ غلط تاثر دیا گیا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتا ہوں ،جب امریکی فوج افغانستان سے جارہی تھی تو اس بات کا خدشہ تھا وہاں خانہ جنگی شروع نہ ہوجائے اور میں چاہتا تھا کہ جنگ کی حالت میں انٹیلی جنس چیف کو تبدیل نہیں کر نا چاہیے ،نہرو نے آزادی کیلئے بڑی جدوجہد کی اور بھارت کی آزاد خارجہ کی پالیسی کی بنیاد رکھی ، بانی پاکستان قائد اعظمؒ کے جانے کے بعد پاکستان آزاد خارجہ پالیسی نہیں بنا سکا ۔

- Advertisement -

عمران خان نے یہ بات سوشل میڈیا پر دیئے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کہی ۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے ادارے کہتے ہیں ہم نیوٹرل ہیں ، نیوٹرل کی اللہ نے کسی کو اجازت ہی نہیں دی ، آپ یہاں حق کے ساتھ کھڑے ہیں یا باطل کے ساتھ کھڑے ہیں ،ہم نیوٹرل نہیں ہوسکتے ،آپ نیوٹرل نہیں ہوسکتے ،اگر آپ حق اور باطل کی جنگ میں نیوٹرل ہوجائیں تو اس کا مطلب ہے آپ باطل کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے اداروں میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جو ان کا ساتھ دیتے ہیں، اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ہم کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے تھے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت ملے گی تو ہی اقتدار میں آئوں گا۔عمران خان نے کہا کہ امریکا کو اب پاکستان میں جی حضوری کرنے والے مل گئے، امریکا کی جنگ میں ہمارے 80 ہزار لوگ مارے گئے۔
مبینہ سازش کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں اس معاملے پر کھلی سماعت ہونی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب آزاد ادارہ ہے ، موجودہ چیئر مین نیب کو مسلم لیگ (ن) کے دور میں لگایا گیا ،نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ جب مصر پر اسرائیل اور برطانیہ نے حملہ کیا تو ہم مسلمان ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے برطانیہ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور بھارت کے خوف کی وجہ سے سیٹو اور سینٹو کا پاکستان حصہ بن گیا ۔
انہوںنے کہاکہ بھارت نے آتے ہی اپنی آزاد خارجہ پالیسی بنالی اور پاکستان آزاد خارجہ پالیسی بنانے میں ناکام رہا ۔انہوںنے کہاکہ بھارت کے سابق وزیراعظم نہرو نے آزادی کیلئے بہت جدو جہد کی جس طرح قائد اعظمؒ نے آزاد ی کیلئے جدوجہد کی تھی اگر قائد اعظمؒ زندہ رہ جاتے تو انہوںنے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہیں دینا تھا ۔انہوںنے کہاکہ جب ذو الفقار علی بھٹو نے آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی تواسے سازش کے ذریعے فارغ کرادیا گیا ،اس کے بعد کبھی بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہوئی ۔
انہوںنے کہاکہ ہمیں عالمی سیاست میں کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس طرح بھارت کسی بلاک کا حصہ نہیں ہے اور اس کی دنیا میں عزت ہے ، ہم نے ذلت کمائی ہے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ جب میں نے عثمان بزدار سے کہا تو اس نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے آرام سے استعفیٰ دیدیا تھا ، عثمان بزدار ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں ،اس علاقے میں نہ پانی ہے ، نہ بجلی اور نہ ہی بنیادی سہولیات ہیں ۔
ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ سارے چور اور ڈاکو ایک طرف کھڑے ہوگئے ہیں اور تحریک انصاف ایک طرف ہے اور اگلا الیکشن بہت اہم ہے کیونکہ قوم ہمارے ساتھ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے جانے کے بعد کراچی سمیت دیگر شہروں میں تاریخی جلسے منعقد ہوئے اور اس سے پہلے اتنے بڑے جلسے تحریک انصاف کے نہیں ہوئے تھے ۔انہوںنے کہاکہ یہ ساری جماعتیں ملکر پانچ فیصد بھی مینارپاکستان کے گرائونڈ کو نہیں بھر سکیں اور ہم نے اکیلے ہی بھر دیا ، لوگ گرائونڈ کے باہر بھی موجود تھے ۔
افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال پر سابق وزیر اعظم نے کہاکہ جب امریکی فوج افغانستان سے واپس جارہی تھی تو اس بات کا خدشہ اور ڈر تھا کہ وہاں سول وار نہ شروع ہو جائے اس لئے میں چاہتا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اپنے عہدے پر سردیوں تک کام کرتے رہیں تاکہ افغانستان کی صورتحال کے منفی اثرات اگر پاکستان پر آئیں تو ان کا اچھے طریقے سے مقابلہ کیا جاسکے اور دوسری بات یہ کہ مجھے پچھلے سال جولائی سے پتہ چل گیا تھا کہ اپوزیشن والے میری حکومت گرانے کیلئے سازش کررہے ہیں اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا انٹیلی جنس چیف تبدیل ہو جب تک سر دیاں نہ نکل جائیں ، یہ چھپی ہوئی بات نہیں ہے میں اوپن کہہ رہا تھا۔
انہوںنے کہاکہ جنگ کی حالت میں آپ اپنے مین انٹیلی جنس چیف کو تبدیل نہیں کرتے اور یہاں یہ تاثر دیا جارہاہے کہ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہ رہا تھا ۔انہوںنے کہاکہ میرٹ کے خلاف کرکٹ میں بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا اور قوم مجھے جانتی ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ امپورٹڈ حکومت کا یہ اتحاد غیر فطری ہے ان میں زیادہ تر لوگ ضمانتوں پر ہیں اور یہ صرف ہماری کامیابی کے ڈر سے اکٹھے ہوئے ہیں کیونکہ پھر ان کی سیاست کا خاتمہ ہو جاتا ۔انہوںنے کہاکہ مجھے ہٹانے کی سازش میں جو ملوث ہیں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس طرح عوام سڑکوں پر آ جائیںگے اور اب ان کا اگلا ہدف ہدف میری کر دار کشی کرنا ہے ،مگر عوام ان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.