ہمیں کیا کرنا چائیے؟
تحریر شمس خیال
آزادی کو ہوئے پچھتر سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ خود ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ہم آزاد بھی ہیں۔ تقسیم درحقیقت ہوئی ہے۔ آزادی جسے کہتے ہیں وہ تو شاید خواب میں بھی اب تک نصیب نہیں ہوئی۔ مجموعی طور پر انسان اضداد کا مجموعہ ہے۔ لیکن اگر یہی خصوصیت معاشرے میں آجائے تو تباہی مقدر ہے۔ انسان انفرادی طور پر مختلف الرنگ و مزاج ہے۔ ذاتی زندگی میں اسکی سوچ میں لچک ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کےلیے اور یکساں زندگی گزارنے کےلیے رب کریم نے اسے معاشرے میں پیدا کیا ہے۔ معاشرتی زندگی کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ اضداد کے مجموعے کی اجتماع ہوتے ہوئے یک رنگ ہوتی ہے۔ اتحاد کی پہچان ہوتی ہے۔ یکسوں منزل اسکا مقصد ہوتا ہے۔ افراد اسکی قوت ہوتے ہیں۔ رنگین طبعی اسکا مزاج اور سادہ و آہستہ آہستہ سفر اسکی طبیعت کا خاصا ہوتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ پچھتر سال ہوئے ہیں کہ تذبذبِ فکر اور خفگیِ منزل کا شکار ہے۔ اب تک یہ طے نہیں ہو پایا ہے کہ ہمیں کرنا کیا ہے۔ بھاگ رہے ہیں۔ راستے کا پتہ نہیں ہے۔ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، منزل معلوم نہیں ہے۔ کوئی اسلامزم چاہتا ہے تو کوئی سیکولر زندگی کو راہ نجات گردانتا ہے۔ کوئی قوم پرست سیاست کی رٹ لگائے بیٹھا ہے تو کوئی لبرلزم کا پرچارک ہے۔ یہاں کوئی مجھ جیسا طالب علم ملے تو وہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے۔ کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ بزرگ ہیں کہ بیکار زندگی گزار کر گمراہ کرنے پر تلے ہیں۔ سیاستدان ہیں کہ پیٹ اور خاندان پالنے سے فراغ نہیں۔ معاشی ماہرین ہیں کہ لوٹنے کے نئے سے نئے تدابیر سوچ رہے ہیں۔ ایک مڈل یا لور کلاس سے جب نکلتا ہے تو اوپر پہنچ کر بھیڑیا ہی بن جاتا ہے۔
تاریخ جھوٹ سے بھر دیا گیا ہے۔ ذہن حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ ان سب حالات کے ہوتے ہوئے بس اب وقت ہے ایک گھڑی رکنے کا۔ ایک گہری سانس لینے کا۔ اور پھر غور سے سوچنے کا۔ کہ کر کیا رہے ہیں۔ راستہ کونسا ہے؟ جانا کہاں ہے؟ کس دنیا میں جی رہے ہیں؟ اور اسکی ضررویات اور اس میں جینے کا ڈھنگ کیا ہے؟ یہی ابتداء ہے۔ پچھتر سال کے مرحلے کو ارتقائی مرحلہ سمجھنا چاہئیے۔ اور آگے اسی میں پھنسنا نہیں چائیے۔ ہم یہی غلطی اکثر کرتےہیں کہ
اک عمر خرچ کی تم پر
تم میرا قیمتی اثاثہ ہو
- Advertisement -
یہ سوچتے ہیں اور پھر واپس وہی پرانی غلطی دورانے میں لگ جاتے ہیں۔ ارے اگر کچھ غلط ہے تو اس میں جو عمر خرچ کی ہے وہ بھی غلطی تھی۔ اسکا ازالہ یہ ہے کہ سبق لو اور آگے بڑھو۔ انانیت کا شکار ہوجانا تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
موجودہ دنیا کس قسم کی دنیا ہے؟ یہ سمجھنا لازم ہے۔ پھر یہ ضروری ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ منزل کا ملنا تب ہی سہل اور ممکن ہے۔ تب کام کرنے سے خوشی ملے گی۔ خدمت کو عبادت سمجھ کر کرینگے۔ پریشانی پاس نہیں آئے گی اور بدعنوانی کو دور سے ہی بائی بائی ٹاٹا!
اب یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ موجودہ دنیا کس قسم کی دینا ہے؟ سو یہ دنیا سائنس کی دنیا ہے۔ سائنس یعنی علم اور حقائق پر مبنی بنا جذباتیت کے ہوتے ہوئے بالکل دھیمے سُر کی ہاں میں حقیقت کے ساتھ چلنا۔ جو جیسا ہے ویسے پیش کرنا۔ چاہے ہم چاہے یا نہ چاہے۔ چاہے وہ ہماری انا کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ فطرت کو واشگاف اور شفاف راستہ دینا۔ فطرت سے مقابلہ کرنا اور نہ ہی اس سے لڑنا۔ یہ ہے سائنس۔ مردوں کو مردہ چھوڑنا۔ زندہ لوگوں کی زندگی سہل بنانا۔ ہر کام وقت پر کرنا۔ سکون سے رہنا۔ راہ نجات اور منزل تک پہنچنے کےلیے نئے سے نئے راستے و آلات بنانا۔ یہ ہے سائنس۔ جھوٹی تعریف، خوشامد، تعصب، بغض، لالچ، بہتان، بدعنوانی، من گھڑت تاریخ اور بنا سمجھے کچھ کہنا کچھ لکھنا، ان سب کو کنارے رکھنا اور آگے بڑھنا، یہ ہے سائنس۔
اب دنیا تو سائنسی ہے۔ مغرب اسی لیے سورج بنا ہے کہ زمانے کے ساتھ چل رہا ہے اور دنیا کو سمجھ کر اس کے مطابق خود کےلیے اقدامات کر چکا ہے۔ دوسرا سوال کہ ہمیں کیا کرنا ہے؟ سو ہمیں کرنا یہ ہے کہ سائنسی بننا ہے۔ تاریخ، معاشرت، سیاست اور جدت ہر حوالے سے سائنس کے علوم اور طریقِ کار لاگو کرنے ہیں۔ سائنس جو راستہ بتائے اسی پر چلتے رہنا ہے۔ کہ سائنس فطرت سے ہم آہنگی کا نام ہے۔ اسکے خلاف ہونا گویا فطرت کے خلاف ہونا ہے۔ اور فطرت سے اختلاف گویا اپنی ناکامی پر مہر ثبت کرنا ہے۔
مغرب سائنس کا ہر ہر طریقہ لاگو کر چکا ہے۔ اور پریکٹیکل بنیے تو ہمیں بھی اس سے اخذ کرنے کو بہت کچھ سامان ملتا ہے۔ مغرب نے ریاست کو چلانے کےلیے ریاستی قوانین لاگو کیے ہیں۔ اسے کے مطابق جا رہے ہیں۔ اور مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیا ہے۔ یعنی سیکولر ریاست قائم کیے ہیں۔ نتیجہ مثبت آیا ہے۔ مغرب نے معیشت کے میدان میں مواقع مہیا کیے ہیں اور بےروزگاری دور کرنے کےلیے لوگوں پر خرچ کیا ہے کہ اپنی تدبیر سے تقدیر بنائے۔ ثمر پھر اچھا ملا۔ ہم نے اس ضمن میں تدبیر کو پسِ پشت ڈالا اور تقدیر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ مغرب نے محنت سے دنیا کو جنت بنایا۔ ہم نے جنت کے آسرے زندگی جہنم کردی۔ مغرب نے عورت کو آزادی دی کہ یہ آبادی کی نصف ہے اور جب تک یہ باشعور نہیں ہوگی، پر اعتماد نہیں ہوگی، تو اسکی کھوک سے جنم لیتا ہوا مستقبل کی نسل پریشاں حال اور غیر تربیت یافتہ ہوگی۔ نتیجہ پھر آسمان کو چھونے لگا۔ ہم نے عورتوں سے ریکھیلوں والا سلوک کیا۔ جواب مستقبل ہر آئے روز کے ساتھ زناٹیدار تھپڑوں کی صورت میں رسید کر رہا ہے۔ غرض ہر ہر شعبے میں اور ہر ہر پہلو پر کافی غور کی ضرورت ہے۔ اور یہ وقت ہے ٹھہرنے کا، پرانی غلطیوں سے رکنے کا۔ اور وقت ہے سوچنے کا اور نئی لیکن اچھی شروعات لینے کا۔ تب ہی کامیابی ممکن ہے۔