MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

آئی سلوٹ یو مسٹر جنرل سید پرویز مشرف ۔۔!!

1 224

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: جاوید صدیقی
مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدر اور اسکی سرحدوں، محافظ پاک فوج کے سابق سپہ سالار کی حیثیت سے یاد رکھیں جائیں گے مگر انکا وہ کارنامہ جو ہر مومن کا خواب ہے جسکی خواہش ہر مسلمان کی تمنا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ بیس نومبر سنہ انیس سو اناسی عیسوی بروز منگل اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم کی پہلی تاریخ تھی۔ خانہ کعبہ میں نماز فجر ادا کی جارہی تھی۔ امام صاحب نے سلام پھیرا ہی تھا کہ کچھ حملہ آوروں نے انکو گھیرے میں لے لیا اور لاؤڈ اسپیکر اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس وقت حرم شریف میں ہزاروں نمازی موجود تھے۔ حرم شریف کے ان حملہ آوروں کا سرغنہ ستائیس سالہ محمد بن عبداللہ القحطانی تھا اس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ اس نے لوؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا کہ وہ اس صدی کا امام مہدی ہے۔ میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کریں۔ محمد بن عبداللہ القحطانی پانچ سو ساتھیوں سمیت خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اور حرم پاک میں داخل ہونے کے بعد تمام دروازے بند کردئیے اور ہزاروں نمازیوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس گمراہ کن ٹولے نے مقام ابراہیم علیہ سلام کے قریب جاکر اسلحہ کے زور پر دہشت پھیلانا شروع کردی۔ زبردستی لوگوں سے بیعت لینا شروع کردیا۔ کئی صدیوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب خانہ کعبہ عام انسانوں کے لئے بند کردیا گیا تھا۔ سعودی حکومت نے ان حملہ آوروں سے نمٹنے کیلئے اپنی فوج بھیجی جو بری طرح ناکام رہی۔ سعودی کمانڈوز حرم پاک میں داخل تک نہ ہوسکے تھے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی کہ خانہ کعبہ پر دہشتگردوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ یہ سن کر مسلم امہ میں غم و غصے کی لہر ڈور گئی۔ اس وقت خانہ کعبہ کو نقصان پہنچائے بغیر دہشتگردوں کا خاتمہ ممکن نہ تھا کیونکہ سعودی فوج ایسی مہارت نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت سعودی حکومت کا فرانسیسی حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی تھا لیکن فرانسیسی کمانڈوز غیر مسلم ہونے کی وجہ سے خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ تب سعودی فرمانروا شاہ خالد نے خانہ کعبہ کے دفاع کیلئے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا اور کہا کہ پاک فوج بیت اللہ کا دفاع کرے۔ اس وقت جنرل ضیاءالحق کی حکومت تھی اور پاک فوج تو پہلے ہی بیت اللہ کے تحفظ کیلئے تیار بیٹھی تھی۔ ایس ایس جی کے کمانڈوز پر مشتمل ایک خصوصی دستہ ترتیب دیا گیا اور اسے حرم پاک کی پاسبانی کیلئے سعودی عرب روانہ کیا گیا۔ ایس ایس جی کے ان کمانڈوز کی قیادت ایک میجر کو سونپی گئی۔ اسکا نام میجر سید پرویز مشرف تھا۔ جب پاکستانی کمانڈوز کا یہ دستہ حرم پاک پہنچا تو اس وقت دہشتگردوں کے قبضے کو ایک ہفتہ ہوچکا تھا۔ پاک فوج کے کمانڈوز کا یہ ٹریڈ مارک ہے کہ یہ اپنے دشمن پر اتنی تیزی سے حملہ آور ہوتے ہیں کہ انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیتے۔ یہاں پر معاملہ کچھ مختلف تھا کیونکہ بات خانہ کعبہ کی حرمت کی بھی تھی۔ میجر سید پرویز مشرف کی قیادت میں ایس ایس جی کے کمانڈوز نے حرم پاک کا کیمروں کی مدد سے جائزہ لیا۔ میجر پرویز مشرف نے دہشتگردوں کی پوزیشن کو مارک کیا اور حکمت عملی بنانی شروع کردی۔ میجر پرویز مشرف نے سعوی حکام سے کہا کہ مسجد حرام کے صحن میں پانی چھوڑ دیا جائے اور کمانڈوز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مسجد کی چھت پر اتارنے کی اجازت دیجائے۔ اجازت ملنے کے بعد ایس ایس جی کے کمانڈوز کا اصل ایکشن شروع ہوا۔ ایک طرف مسجد حرام کی چھت پر کمانڈوز اترنا شروع ہوئے تو دوسری جانب خانہ کعبہ کے صحن میں کھڑے پانی میں میجر پرویز مشرف کے حکم پر کرنٹ چھوڑ دیا گیا۔ اس فوری اور غیر متوقع کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کے ٹاپ شوٹرز غیر فعال ہوگئے اور ایس ایس جی کے کمانڈوز کے اسنائپرز نے فضا سے ہی دہشتگردوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ جونہی ایس ایس جی کمانڈوز کی پوزیشن مضبوط ہوئی صحن میں چھوڑی گئی بجلی بند کردی اور کمانڈوز نے بجلی کی تیزی کی طرح دہشتگردوں پر جھپٹے اور انہیں قابو کرلیا۔ زندہ بچ جانے والے حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہشتگردوں کا سرغنہ محمد بن عبداللہ القحطانی اسی آپریشن کے دوران پاک فوج کے کمانڈوز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا۔ میجر پرویز مشرف کی ذہانت اور ایس ایس جی کمانڈوز کی دلیری کی وجہ سے کم سے کم نقصان ہوا اور دہشتگردوں کے مذموم عزام کو خاک میں ملادیا گیا۔ یہ وہی میجر سید پرویز مشرف تھا جو بعد میں پاک فوج کا سپہ سالار بنا اور پاکستان کے صدر کا عہدہ بھی سنھبالا۔ اسی وجہ سے آج تک سعودی حکومت سید پرویز مشرف کی عزت و توقیر کرتی ہے اور انکے لئے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔ سعودی حکومت سمیت پوری مسلم امہ پرویز مشرف کی شجاعت اور بہادری کی گرویدہ ہے۔ مجھ جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی سمیت پاکستان اور عالم اسلام دعا کرتے ھیں کہ جناب سید پرویز مشرف مرحوم سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل کی لحد کو اپنے نور سے منور کردے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کردے۔ اے رب العزت تو ظاہری و باطنی ہر شے ہر راز سے واقف ھے ھم پاکستانیوں اور عالم اسلام نے زمینی حقائق کو کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل سید پرویز مشرف نے وطن عزیز پاکستان اور عالم اسلام کو مضبوط و مستحکم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا جو جس کی طویل فہرست ھے اے اللہ! ھمارے اٹھے ہاتھوں کو مایوس مت کرنا اپنے حبیب ﷺ و آلِ حبیب ﷺ کے صدقے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] میں گزشتہ روز انتقال کر جانے والے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی نماز جنازہ منگل دوپہر 1:45پر کراچی میں ادا کی جائے […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.