گلے شکوے کا حل بندوق نہیں، بلوچستان ہم سب کا ہے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
کوئٹہ (مسائل نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست سے گلے شکوے ضرور ہو سکتے ہیں، مگر ان کا حل ہرگز یہ نہیں کہ بندوق اٹھائی جائے یا ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی جائے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے، اور ہم سب نے اس وطن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک اہم بیان میں کیا، جس میں انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی اقدامات، اصلاحات اور سیکیورٹی صورتحال پر روشنی ڈالی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ ماضی کی حکومتوں کی کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے صوبے میں 16 ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بھرتی کیے گئے جس کے نتیجے میں 3 ہزار 200 بند اسکول دوبارہ فعال ہو گئے ہیں۔ یہ اقدام بلوچستان کے تعلیمی مستقبل کو روشن کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہیانہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں جہاں پہلے بنیادی سہولیات کا تصور بھی نہیں تھا، اب وہاں سرکاری سطح پر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں وزیراعلیٰ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مند جیسے پسماندہ علاقے میں پہلی بار خاتون ڈاکٹر کی تعیناتی کی گئی، جبکہ بیکڑ اسپتال میں پہلی مرتبہ بچے کی محفوظ پیدائش عمل میں آئی، جو حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا ثبوت ہے سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام سردی میں ٹھٹرتے اور گرمی میں جھلستے ہیں مگر حکومت ان کی تکالیف سے باخبر ہے اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر شہری کو *تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ کے مساوی مواقع میسر ہوں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ تمام عناصر جو بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسا رہے ہیں، دراصل ان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بندوق سے صرف تباہی آتی ہے، جبکہ ترقی، امن اور خوشحالی صرف قومی یکجہتی اور مثبت سیاست سے ممکن ہے آخر میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہاں کے عوام عزت، روزگار اور امن کے ساتھ جئیں۔”یہ صوبہ میرا، آپ کا اور ہر بلوچ، پشتون، ہزارہ، پنجابی، سندھی اور مہاجر کا ہے، آئیں مل کر اس کے مستقبل کو روشن بنائیں