پاکستان میں اساتذہ کا مقام
تحریر : تہمینہ فاطمہ
۔۔۔۔
- Advertisement -
اُستاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ آیئے ایک نظر جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان میں قوم کا معمار کیسے تیار ہوتا ہے۔جائزہ لینے سے پتا چل جائے گا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو سکا۔قارئین کرام! پاکستان میں اُستاد وہ بنتا ہو جو ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے میرٹ پر پورا نہیں اترتا۔ مطلب معلمی جیسا اہم پیشہ با امر مجوبری اختیار کیا جاتا ہے۔اب آپ ہی بتائیں کہ ان حالات میں ہم بحیثیت قوم کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔؟ قوم استاد تیار کرتا ہے لیکن جس ملک میں اُستاد ہی تیار نہ کیا جاتا ہو وہ قوم کیسے ترقی کی راہ پر رواں دواں ہو گی۔پاکستان میں جتنی سہولیات اور مراعات ڈاکٹرز’ انجینئرز’ سرکاری افسران اور سیاسی رہنماؤں کو حاصل ہیں وہ ایک اُستاد کو نہیں۔بتائیں اِن حالات میں کون اُستاد بننے کیلئے تیار ہو گا۔؟ کون سفینہء نجات کا
نا خدا بننے کیلئے تیار ہو گا۔؟ آپ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں وہاں اُستاد کا مقام کیا ہے ۔جاپان میں اُستاد بننا سب سے مشکل کام ہے۔پاکستان میں جو اُستاد بنتا ہے حالات سے سمجھوتا کرتے ہوئے بنتا ہے۔کیا قومیں سمجھوتے کرنے سے بنتی ہیں۔؟
ہم نے معلمی جیسے اہم پیشے کا مذاق اڑایا دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے۔
یہاں اُستاد کی عزت نا ہونے کے برابر ہے۔ آپ نجی مڈل کلاس اداروں میں جا کر دیکھ لیں وہاں اُستاد کی تنخواہ پانچ ہزار’ سات ہزار يا زیادہ سے زیادہ دس ہزار ہے۔معاشی پریشانیوں اور فکروں میں گرا ہوا بندہ کیا خاك قوم تیار کر سکے گا۔
پاکستانی ایجوکیشن سسٹم کامیاب اُستاد پیدا کرنے میں
نا کام ہو گیا ہے۔ سچ کہوں تو ہمیں اب اُستاد کی ضرورت نہیں رہی۔ہر کوئی اُستاد بنا پھر رہا ہے جسے تابعدار شاگردوں کی ضرورت ہے۔ہمیں اُستاد نہیں اُستاد کے روپ میں نوکر چاہیے ہوتا ہے جو رٹا لگوا کر سلیبس کور کرا دے بس۔
خُدا را اُستاد کی تیاری کے لئے ترجیہاتی اقدامات اٹھائیں۔آپ کامیاب اُستاد دیں کامیاب قوم خودبخود تیار ہو جائے گی۔ ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائیں اور اُستاد کی عزت کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائیں۔شعبہ تدریس میں دلچسپی لینے والوں کو اُستاد مقرر کریں۔ کامیاب لوگوں کو اور اچھی عادات کے مالکوں کو سامنے لے کر آئیں اور کامیاب قوم کی تیاری میں اہم کردار ادا کریں۔
سرکاری اور نجی اداروں میں اُستاد کو سہولیات اور مراعات مہیا کریں۔ اُستاد کے معاشی حالات کو دیکھ کر آج کوئی بھی اُستاد بننے کیلئے تیار نہیں۔ہر کوئی ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتا ہے۔میری آنکھوں میں اُس وقت آنسو بھر آئے جب میں نے ایک بچے سے یہ سنا کہ میں کبھی اُستاد نہیں بنوں گا۔میں نے پاکستان میں اُستاد کو ذلیل و خوار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ قارئین کرام! معلمی تو پیغمبرانہ پیشہ ہے لیکن ایک مسلمان مُلک میں کوئی معلم بننے کیلئے تیار نہیں۔
آخر میں میں حکومت پاکستان سے درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ مُلک کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو قوم پر ایک احسان کر دیں۔اساتذہ کی تیاری کیلئے ترجیحاتی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ کامیاب لوگ اور تدریس میں دلچسپی لینے والے لوگ تدریسی شعبے سے منسلک ہوں۔
جتنی رقم سیاسی رہنماؤں پر مختص کی جاتی ہے قوم کے معمار پر کی جائے تو ملک میں کوئی بھی کُرسی کی جنگ نہیں لڑے گا۔سچے کّھرے اور مخلص لوگوں کو پتا بھی چل جائے گا۔دھود کا دھود پانی کا پانی ہو جائے گا۔
اور اقتدار کی خاطر تضاد کے غلط تاثر کا خاتمہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہو جائے گا۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مُلک پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ پنجتن پاک کے صدقے شاد و آباد رکھے آمین
یہ کالم اِس اُمید پر لکھا گیا ہے شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات۔