MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

شہر وفا سے سوتیلی ماں جیسا سلوک

0 221

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:محمدشہزادبھٹی

- Advertisement -

بہاول نگر شہر ضلع کا صدر مقام ہے، بہاول نگر ضلع 1904ء میں ریاست بہاول پور کے نواب محمد بہاول خان پنجم کے نام پر بسایا گیا۔ اس سے پہلے یہاں قریب ترین بستی روجھانوالی موجود تھی اور اس علاقے کو اسی نام سے جانا جاتا تھا۔ 1723ء میں یہ ضلع ریاست بھاولپور کا حصہ تھا جو بہاولپور، رحیم یار خان اور بہاول نگر کے اضلاع پر مشتمل تھی۔ قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاول پور کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہو گیا اور 1956ء میں ون یونٹ کے قیام کے وقت ریاست بہاول پور کو پنجاب میں ضم کر دیا گیا یوں بہاول نگر پنجاب کا ایک ضلع بن گیا۔ ضلع بہاول نگر کا حدود اربعہ کچھ یوں ہے ضلع کے شمال میں دریائے ستلج، مشرق سے مغرب کی طرف بہتا ہے اور ضلع کی حدود کا تعین بھی کرتا ہے۔ دریائے ستلج کے دوسرے کنارے یعنی شمال کی طرف ضلع اوکاڑہ، ضلع پاکپتن اور ضلع وہاڑی آتے ہیں۔ مغرب میں ضلع بہاول پور ہے اور مشرق سے جنوب کی طرف ہندوستانی علاقے فیروزپور اور بیکانیر ہیں۔ضلع میں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی ہوتی ہے۔ گرمی کا موسم اپریل سے اکتوبر تک رہتا ہے۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں شدید گرمی ہوتی ہے۔ درجہ حرارت 52 سنٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور سردیوں میں درجہ حرارت 2 سینٹی گریڈ تک رہ جاتا ہے۔ ضلع بہاول نگر پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے جو منچن آباد، بہاول نگر، چشتیاں، ہارون آباد اور فورٹ عباس۔ پانچوں تحصیلوں کے ہیڈکواٹر ضلع کے پانچ اہم شہر ہیں۔ ان میں چشتیاں سب سے قدیم شہر ہے جو خواجہ نورمحمد مہاروی جو کہ چشتی سلسلہ مشائخ سے تعلق رکھتے تھے کی وجہ سے چشتیاں کہلانے لگا۔ 1870ء کو منچن آباد میں پہلا ضلعی ہیڈ کواٹر بنایا گیا بعد ازاں 1875ء میں بہاول نگر کو تحصیل کا درجہ دے دیا گیا اور پھر 1904ء میں ضلع بنا دیا گیا۔ ہارون آباد اور فورٹ عباس محض ریلوے اسٹیشنوں کے نام تھے۔ پنجاب کا سب بڑا ضلع بہاول نگر، آج بھی پنجاب کا پسماندہ ترین ضلع ہے۔ قیام پاکستان سے لے آج تک ضلع بہاول نگر سے سوتیلی ماں جیسا سلوک ہی کیا گیا ہے۔سابقہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سی پیک میں شامل ضلع بہاول نگر کا روٹ تبدیل کر کے موٹروے ٹریک اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں سے محروم کر دیا۔ بہاول نگر ضلع پنجاب کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں بہت پسماندہ ہے۔ ضلع بہاول نگر کو شہر وفا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ اہل وفا ہیں جنہوں نے ہمیشہ جمہوریت اور آمریت کے دور میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ وفا کی ہے مگر ان کو کبھی بھی ان کی وفا کا خاطر خواہ صلہ نہیں ملا۔ ضلع بہاول نگر سے 2018ء کے بدترین دھاندلی زدہ الیکشن میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن نے کلین سویپ کر کے مخالفین کو چاروں شانے چت کیا اور تمام کی تمام سیٹیں جیت کر یہ ثابت کیا کہ بہاول نگر پاکستان مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ ہے۔ اہل بہاول نگر نے تمام احتجاجی تحریکوں، جلسوں، دھرنوں، ورکرز کنونشنز میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اعلی قیادت سے لے کر ورکرز تک نے قائدین کی آواز پر لبیک کہا۔ پچھلی حکومت کے ساڑھے 3 سال کے بدترین دور میں ضلع بہاول نگر کو ترقیاتی فنڈز/میگا پراجیکٹس کے حوالے سے محروم رکھ کر پاکستان مسلم لیگ ن اور نواز شریف سے وفا نبھانے کی سزا دی گئی۔ اب تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وفاقی اور پنجاب میں قومی حکومت کے قیام کے بعد کابینہ میں ضلع بہاول نگر کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جو اہل وفا کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ اہلیان بہاول نگر کی میاں محمد نواز شریف، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیراعلی پنجاب میاں حمزہ شہباز شریف اور نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن مریم نواز شریف صاحبہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع بہاول نگر سے ایم پی اے رانا عبدالرؤف ضلعی صدر مسلم لیگ ن بہاول نگر کو صوبائی کابینہ میں شامل کیا جائے تاکہ علاقے کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.