کسی بھی سماج کو بنانے یا بگاڑنے میں نوجوانوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
تحریر:ساجد حسین
- Advertisement -
نوجوان ہی ملک کا سرمایہ بنتے اور یہی ملک کو مزید تباہی کی طرف بھی لے جانے کا باعث ہیں۔ ملک کے مجموعی حالات پر نظر ڈالیں اور حکومتی رویوں کو دیکھیں تو اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں یہ نسل ملک کے عدم استحکام کا باعث نہ بن جائے، کیوں کہ وطن عزیز میں سٹریٹ کرائمز اور دن دیہاڑے چوری، ڈکیتی جیسی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ ان وارداتوں میں زیادہ تر بے روزگار نوجوان ملوث ہوتے ہیں اور ان میں بیشتر میٹرک اور انٹر کے طالبعلم بھی ہوتے ہیں، جنہیں گھریلو و ملکی حالات، معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے جرائم کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
پاکستان 65 فیصد نوجوان آبادی پر مشتمل دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، لیکن نوجوانوں کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو آزمانے کے مواقع مہیا کرنے کے حوالے سے یہاں کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں۔ نوجوانوں کے مسائل کا حل صرف قرضہ سکیموں جیسے پراجیکٹس کے اجراء اور ٹیبلٹ کمپیوٹر و لیپ ٹاپس کی فراہمی کو سمجھ لیا گیا ہے۔ بالفرض اگر نوجوان حکومت سے قرضہ حاصل کر بھی لیں تو کیا گارنٹی ہے کہ ان سے قرض بروقت واپس ہوسکے گا، کیا وہ اس ضمن میں ذہنی تنائو میں مبتلا نہیں رہیں گے؟۔ پاکستان میں دو ہی نسلیں آباد ہیں۔ ایک نسل کے منہ میں سونے کا چمچہ … مٹھی میں اقتدار … سرشت میں حکمرانی … زبان پر ’’خدمت‘‘ کا نعرہ ہے، تو دوسری نسل کے ہاتھ میں کشکول … آنکھ میں حسرت … چہرے پر دکھ …دل میں سوال اور کسک ہے … ایک نسل خوشحال ہے تو دوسری مایوس … ایک نسل وہ ہے جو خاک نشین تھی مگر محلوں میں پہنچی اور قومی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھ گئی … قوم مفلس ہوگئی مگر ان کا ایوان دمکتا رہا … دوسری نسل وہ ہے جو محلات میں پیدا ہوئی اور قوم کے لئے چیتھڑوں میں رہی … لیکن جو لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوئے ہوں، انہیں بھلا ایک عام آدمی کے دکھ کا احساس اور حالات کا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے۔
ارباب اقتدار و اختیار کے استحصال کا شکار آج کی نوجوان نسل نے ہماری جگہ سنبھالنی ہے لیکن کیا وہ شعوری طور پر اتنی باصلاحیت ہے کہ پرانی نسل کی جگہ لے کر ملک کو تعمیر و ترقی کی طرف لے جاسکے ؟ یہ اپنے تئیں بنیادی سوال ہے، جس کے جواب کی یقیناً ان سطور میں ضرورت نہیں۔ تاہم اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ تالیاں بجانے اور تماشے دکھانے والے کبھی ایک نہیں ہوسکتے۔ نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو نظرانداز کرکے ارباب اختیار یہ امر فراموش کیے بیٹھے ہیں کہ سفر نعروں سے نہیں، کردار اور عمل سے کٹتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ آئے دن بیرون ممالک دورے کرتے اور سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کرکے لوٹ آتے ہیں۔ اگر ان معاہدوں پر ذرا سی بھی عملداری یقینی بنائی گئی ہوتی تو آج نوجوان نسل مایوس ہوکر ملک چھوڑ رہی ہوتی اور نہ ہی بے راہ روی کا شکار ہوتی۔ لیکن نوجوان طبقے کو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی گرداننے والے سیاست کے یہ عطائی ڈاکٹر اس ہڈی کا کردار تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں