مذاکرات عمران خان کی ضرورت ہے ہماری نہیں
لاہور (مسائل نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر سعد رفیق نے وفاقی وزیر راناثناء اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدان کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کرتا۔عمران خان نے پونے چار سال اپوزیشن سے ہاتھ تک نہ ملایا۔عمران خان کے دور میں قانون سازی میں مدد کی۔ ہمارے تعاون کو عمران خان این آر او کا نام دیتے تھے۔
عمران خان ہمیں این آر او کے طانے دیتے رہے جبکہ یہ این آر او دینےکے قابل ہی نہیں تھے،عمران خان کرسیاں پھلانگ کر اپنی کرسی پر جاتے تھے تاکہ اپوزیشن سے آنکھیں نہ ملاسکیں۔ اگر یہ سنجیدہ ہیں تو مزاکرات کا ماحول بھی بنانا پڑتا ہے۔دھمکیاں اور مزاکرات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے، عمران خان جان لیں اگر اسمبلیاں توڑیں تو بے آسرا آپ نے خود ہونا ہے۔
اسمبلیاں توڑنے کا مطلب عوام کے مینڈیٹ کا مذاق اڑانا ہے۔اگر آپ نے رابطہ کرنا ہے تو طریقہ کار کے ساتھ کریں۔عمران خان نے دھمکی آمیز لہجے میں مذاکرات کی پیش کش کی،مذاکرات کبھی مشروط نہیں ہوتے۔مذاکرات عمران خان کی ضرورت ہے ہماری نہیں۔انتخابات اپنے وقت پر اور شفاف ہونے چاہئیے۔ہمارے بعض اتحادیوں کو شدید تحفظات ہیں کہ ان سے بات نہیں کی جائے گی۔
مذاکرات میں کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہیں،۔جبکہ وزیر داخلہ راناثناء اللہ نے کہا کہ مذاکرات کا معاملہ پی ڈی ایم میں لے کر جائیں گے، مل کر فیصلہ کریں گے۔ ہم سیاستدان ہیں اور سیاستدان مذاکرات میں بیٹھنے سے نہیں بھاگتے۔ماضی میں یہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا، عمران خان 2014 سے دھمکیاں سے رہا ہے، کبھی کہتا ہے اسلام آباد بند کردوں گا، دھمکی آمیز طریقے سے مذاکرات کی بات نہیں مانی جا سکتی۔دھمکیاں اور شرائط ناقابل قبول ہیں۔ راناثناء اللہ بے مزید کہا کہ تیسری طاقت نے فیصلہ کر لیا ہے وہ مداخلت نہیں کرے گی۔