اسلام آباد بار نے عمران خان سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا
اسلام آباد (مسائل نیوز) اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر متعلقہ افراد نے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا نام استعمال کیا۔جاری کیے گئے اعلامیے میں مزید کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی سے متعلق توہین عدالت کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔من گھڑت نوٹس کو قرار داد بنانیہ بنا کر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے نام سے جاری کیا گیا۔
ایسوسی ایشن اس جھوٹی قرار داد کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلام آباد ایسوسی ایشن قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بقا پر یقین رکھتی ہے۔ایسوسی ایشن سیاسی جماعتوں کی بقاء اور سیاسی عمل کے وجود پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے گی۔
خیال رہے کہ ڈسٹرکٹ ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دئیے گئے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیانِ حلفی جمع کرا چکے ہیں۔
- Advertisement -
20 اگست کو ایک ریلی کے دوران خاتون جج کو دھمکی دینے پر گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔ 22 ستمبر کی سماعت میں عمران خان نے جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر خاتون جج کے پاس جاکر معافی مانگنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس پر عدالت نے ہدایت کی تھی کہ عمران خان معافی سے متعلق ایک ہفتے کے اندر بیان حلفی جمع کرا دیں، خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا، عدالت نے ان کے خلاف فرد جرم کی کارروائی بھی موخر کردی تھی۔
ایک روز قبل عمران خان اپنے بیان پر معافی مانگنے کے لیے خاتون ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی پہنچے تھے تاہم ان کی جج سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی البتہ انہوںنے کہا تھا کہ میں بطور چیئرمین تحریک انصاف گزشتہ 26 سال سے قانون کی حکمرانی، عدلیہ کے احترام اور آزادی کے جدوجہد کررہا ہوں اور دیگر سیاسی رہنماں کے برعکس میں نے ہمیشہ ہر عوامی اجتماع میں قانون کی حکمرانی کی بات کی۔
انہوںنے کہاکہ عدالت میں کیس کی کارروائی کے دوران مجھے احساس ہوا کہ شاید میں نے 20 اگست 2022 کو عوامی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے ریڈ لائن کراس کردی۔انہوں نے کہا کہ میرا مقصد کبھی ڈسٹرکٹ کورٹ کی معزز جزز کو دھمکی دینا نہیں تھا نہ ہی اس بیان کے پیچھے قانونی کارروائی کے سوا کے کوئی ارادہ تھا۔