چھ ستمبر, جرات والوں کا دن
تحریر: کنول زہرا
میرے وطن کی مٹی کے یہ بیٹے بڑے عجیب ہیں, جو اپنی جانوں کو مسلسل خطرات میں ڈال کر جنگ کے میدان سے زندہ لوٹ کر جانے کو ترجیعی نہیں دیتے بلکہ انہیں زندہ و جاوید رہنے کا شوق ہوتا ہے, سبز ہلالی پرچم کے رکھوالوں کو اس سے اتنا عشق ہوتا ہے کہ اس میں لیپٹ کر خاک وطن کو اوڑھ کر ابدی نیند سونے کو اعزاز سمجھتے ہیں, جراتوں کے یہ شاہکار پیٹھ پر نہیں بلکہ سینے پر گولی کھانے کو ترجیعی دیتے ہیں, شہادت کو اپنی حیات سمجھنے والے مادر وطن کی سلامتی کی خاطر اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے ہمارے یہ جوان ہمارے ہیرو ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے.
یوں تو قوم اپنے ان بہادروں کو کبھی نہیں بھولتی ہے مگر ہر سال چھ ستمبر کو خاص طور پر اپنے شہدا اور غازیوں کو خراج تحیسن پیش کیا جاتا ہے, چھ ستمبرکا دن بہادروں کا دن ہے, پوری قوم اس تاریخ کو 1948، 1965، 1971، کارگل کی جنگ, 27 فروری 2019 اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے شہیدوں کی یاد میں مناتی ہے۔
چھ ستمبر 1965 کو پاکستان سے کئی گنا بڑے اور دفاعی وسائل سے مالا مال طاقتور ملک نے بھارت نے بنا کسی اعلان جنگ کے رات کی تاریکی میں فوجی حملہ کیا, جس کا مقابلہ ہمارے جوانوں نے بر وقت ایسا کیا کہ ان کا لاہور میں ناشتے کا پلان شرمندہ تعبیر نہ ہوسکتا, میری عمر سے تعلق رکھنے والے افراد نے 1965 کی جھلک 27 فروری 2019 کو دیکھی ہے, جب ابھی نندن جیسے چائے کے شیدائی نے دو جنگی طیارے گنوا کر ایک پیالی چائے کی چسکی لی تھی, پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانے کا جواب جس جوان مردی کے ساتھ افواج پاکستان نے دیا ہے, قوم کو اس پر نازاں ہے.
پاکستان کے دشمن مادر وطن کے خلاف ہمیشہ سازشوں کا جا ل بُنتے آئے ہیں لیکن الحمداللہ, قوم کی دعا سے افواجِ پاکستان نے ان کی ہر چال کو ناکام بنایا۔پاک فوج کے جوانوں نے اپنی بہادری کی بدولت وطن کی شان کو بارہا بڑھایا ہے۔ الله کی رحمت اور افواج پاکستان کی جراتمندانہ کاوشوں کے سبب دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوا ہے اور نہ ہی انشا الله آئندہ کبھی ہو سکے گا۔ بس قوم کو چوکنا رہنا ہوگا, اس سوچ کو یکسر مسترد کرنا ہوگا جو قوم اور مسلح افواج کے درمیان خیلج کا باعث بن رہی ہو, ارض پاک کی سلامتی اور سر بلندی کی خاطر وطن عزیز کے لاکھوں بیٹے جام شہادت نوش کر چکے ہیں, ان گنت مائیں اپنے لال قربان کر چکی ہیں, کتنی ہی بہنیں اپنے مان کھو چکی ہیں, بہت سی سہاگنیں اپنے سہاگ مادر وطن پر نچھاور کر چکی ہیں لاکھوں بچے یتیم ہوچکے ہیں, مگر پھر بھی ان کے خانوادے بہت فخر سے اپنے آپ کو شہید کے والدین, بہن, بھائی, زوجہ اور بچے کہتے ہیں بلکہ ہماری مائیں تو اسقدر بہادر ہیں کہ ایک جوان کا جسد خاکی وصول کرکے ملک کی خدمت کے لئے اپنا دوسرا بیٹا پیش کرنے میں ذرا نہیں گھبراتی ہیں, ان عظیم ماؤں اور راہ حق کے شہیدوں کو پوری قوم خراج تحیسن پیش کرتی ہے, جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاک فوج اور عوام کے درمیان خلا پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو وہ کان کھول کر سن لیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے وطن کے محافظوں کے ساتھ ہے۔پاکستان زندہ باد, افواج پاکستان پائندہ باد