سیکرٹریٹ سے اٹیچ محکموں کے ملازمین کو ان کے محکموں میں بھیجا جائے، اسٹاف ایسوسی ایشن
کوئٹہ (مسائل نیوز) بلوچستان سول سیکرٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر کامریڈ یونس زہری، جنرل سیکرٹری حاجی قائم خان کاکڑ نے سیکرٹریٹ کے آفیسران اور ملازمین کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے آل بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان سول سیکرٹریٹ، وزیر اعلی سیکرٹریٹ اور گورنر سیکرٹریٹ سے تمام اٹیج محکموں کے ملازمین کو ان کے محکموں میں بھیج کر اٹیچ ملازمین کے عہدیداروں پر پابندی عائد کرکے ان کی بلیک میلنگ کو روکا جائے بصورت دیگر ہم مزاحمت کرتے ہوئے بلوچستان سول سیکرٹریٹ کو غیر معینہ مدت کے لئے احتجاجاً بند کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری اور اٹیچ محکموں کے ملازمین کے عہدیداروں پر عائد ہوگی۔ ہماری بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک کاکڑ اور دیگر عہدیداروں سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی مذکورہ تنظیم سے علیحدگی اختیار کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر حاجی کریم جتک، میر خالق داد رند، محمد عارف کھوکھر، جاوید احمد بلوچ، ملک عطااللہ شاہوانی، لعل محمد بگٹی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اکتوبر 2022کو انتخابات میں ہمارے پینل میں کامیابی حاصل کی ہم اپنے گریڈ 1 سے 22 تک کے ملازمین کے حقوق اور عزت نفس پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ بلوچستان کے تمام ملازمین کی تنظمیوں نے آل بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس کے نام سے تنظیم قائم کی تھی تاکہ صوبے بھر کے ملازمین کے حقوق کا دفاع کرسکیں۔ حالانکہ سیکرٹریٹ کے ملازمین گرینڈ الائنس کے خلاف خدشات رکھتے تھے با امر مجبوری مذکورہ تنظیم کی حمایت کرکے ان کے احتجاج میں شریک ہوتے رہے اور ہم نے انتخابات میں آل بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس سے علیحدگی کا وعدہ کیا تھا ہماری تنظیم نے ہمیشہ اٹیچ محکموں کے ملازمین کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کی لیکن ہمارے خلاف ہر موقع پر کوئی نہ کوئی غلط اقدام اٹھایا گیا اور جس کا نقصان ہمارے ملازمین کو اٹھانا پڑا ہماری تنظیم کی وجہ سے ہی باہر کے اٹیچ ملازمین کے کام ہورہے ہیں اور آفیسرز اور ملازمین کو بلیک میل کرکے ذاتی مفادات بھی حاصل کرکے ہماری پوزیشن کو خراب کیا جارہا ہے جس کی واضح مثال لیکچرز، پروفیسرز ایسوسی ایشن، پاپولیشن کے آفیسروں پر مشتمل تنظیم کے عہدیداروں نے اپنی ناجائز اور غیر قانونی ٹرانسفر نہ کرنے پر سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، سیکرٹری پاپولیشن اور ڈی جی سمیت بلوچستان سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے خلاف پریس کانفرنس میں الزامات عائد کرتے ہوئے غلط ٹرینڈ چلایا جس کی وجہ سے سیکرٹریٹ کے ملازمین میں شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے آفیسران ہمارے لئے قابل احترام ہیں کچھ لوگ ڈیوٹی سے غیر حاضری اور کرپشن کو چھپانے کے لئے بلیک میلنگ کرتے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہماری تنظیم کا بلوچستان بھر سے تعلق رکھنے والے ملازمین سے ہیں جو اندرون بلوچستان سے کوئٹہ آکر اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں اور لوگوں کی خدمت کرتے ہیں انہیں مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہمارے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے عہدیداران بلیک میلنگ کے ذریعے اپنی ڈیوٹیاں کوئٹہ میں لگواکر مزے کررہے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر آفیسران پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں آج ہم آل بلوچستان ایمپلائز گرینڈ الائنس سے باقاعدہ علیحدگی کرتے ہیں اور آئندہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہم اپنی تنظیم کے فورم سے اپنے ملازمین کے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کریں گے۔ اور ہم بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک کاکڑ اور دیگر عہدیداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنا تعلق مذکورہ تنظیم سے ختم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، چیف سیکرٹری عبدالعزیز عقیلی، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن حافظ عبدالماجد سے اپیل ہے کہ وہ محکمہ تعلیم میں اصلاحات لاکر تمام ملازمین کو ان کے متعلقہ اضلاع میں تعینات کریں تاکہ وہ نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں اور صوبے سے تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں اپنی ذمہ داری نبھائیں اور سول سیکرٹریٹ میں تمام محکموں کے اٹیچ ملازمین کی تنظیموں کے عہدیداروں پر ڈیوٹی کے دوران آنے پر پابندی عائد کریں۔ اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم سول سیکرٹریٹ احتجاجا غیر معینہ مدت کے لئے بند کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور اٹیچ محکموں کے ملازمین کے عہدیداروں پر عائد ہوگی۔
- Advertisement -