وفاقی حکومت کا ایف آئی اے کو مزید اختیارات دینے کا فیصلہ
اسلام آباد(مسائل نیوز) وفاقی حکومت نے ایف آئی اے کو مزید اختیارات دینے کا فیصلہ کر لیا۔ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے ایف آئی اے ایکٹ میں مزید ترامیم کی منظوری دے دی۔ ایف آئی اے ایکٹ میں ترمیم کی حتمی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی،ایف آئی اے مزید اختیارات ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پر بھی کارروائی کر سکے گا۔
جاری کردہ سمری کے مطابق تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 ایف آئی اے ایکٹ میں شامل نہیں اس لئے شق کو شامل کیا جائے اور ترمیم کے بعد سوشل میڈیا پر کسی قسم کی جعلی خبر اور افواہ پر کارروائی کا اختیار ایف آئی اے کو بھی ہو گا جبکہ پہلے یہ اختیار صرف پولیس کے پاس تھا۔
سمری میں کہا گیا کہ نفرت انگیز مواد،اداروں میں بغاوت پر اکسانے جیسے معاملات سوشل میڈیا پر زیادہ ہیں،سوشل میڈیا پر غلط خبروں کی بھی بھرمار ہے جبکہ غلط خبریں ریاست کے اداروں کے اہلکاروں میں بغاوت کو جنم دے سکتی ہیں۔
- Advertisement -
سمری کے مطابق غلط خبریں کسی گروہ اور کمیونٹی کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا سکتی ہیں۔پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد قانون کے تحت 7 سال تک قید کی سزا ہو سکے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایف آئی اے نے سائفر آڈیو انکوائری میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو طلب کیا۔ایف آئی اے نے شاہ محمود قریشی کو یکم نومبر کیلئے طلبی کا نوٹس جاری کیا۔وائس چیئرمین تحریک انصاف کو 12 بجے ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔
شاہ محمود قریشی کو سائفر آڈیو سے متعلق انکوائری میں طلب کیا گیا،جبکہ سائفرآڈیو لیکس کی تحقیقات سے متعلق سابق وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بھی ایف آئی اے نے طلب کیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔اعظم خان کو ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی سربراہی میں قائم انکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔