مخیر و صاحب دولت اور این جی اوز و خدمتگاران توجہ فرمائیں
تحریر: جاوید صدیقی
- Advertisement -
ایدھی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، چھیپا ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، خواجہ غریب نواز ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، جی ڈی اے ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، سہارا ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، اخوت ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، احساس ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ و دعوت اسلامی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، الخدمت ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، بنوریہ ٹاؤن ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، تنظیم اسلامی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، ہینڈز ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ ، آس ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ اور صاحب دولت ، صاحب ثروت ، صاحب حیثیت سمیت دیگر ملک بھر کے این جی اوز اور خدمتگاران کے مالکان و چیئرمین حضرات کی توجہ ایک اہم اسلامی و دینی نقطہ کی جانب مبذول کرانا اپنا فرض سمجھتا ھوں کہ قربِ رمضان المبارک ھے۔ چند روز بعد ماہِ مبارک میں مکھیوں اور مچھروں کے جھنڈ کی مانند بھکاری مختلف انداز و گروپ میں داخل ھونا شروع ھوچکے ھیں اور متحرک بھی ھیں۔ یہ ایک کو دھوکہ دیتے ھیں اور سفید پوش مستحقین کا حق چھین لیتے ھیں۔ ان پروفیشنل بھکاریوں کے متعلق مفتیان کرام نے فتویٰ بھی جاری کیا ھوا ھے کہ انکی مالی مدد کرنا انکے مکروہ کام کو تقویت دینے کے مترادف ھے جو گناہ کبیرہ ھے کیونکہ یہ حقدار کا حق سلب کررھے ھوتے ھیں۔ اللہ نے حق تلفی کو گناہ کبیرہ اور گناہ عظیم قرار دیا ھے جسکی سخت وعید اور سزا آئی ھے۔ آپکو بتاتا چلوں کہ یہ مافیا اس قدر طاقتور اور دولت مند ھے کہ تھانوں، کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز اور وزراء و مشیران تک بھتہ یعنی حصہ پہنچاتے ھیں اسی سبب انکے خلاف کوئی عملی مستقل بنیاوں پر کاروائی نہیں کی جاتی ھے۔ یہ مافیا مکة المکرمہ اور مسجد نبوی ﷺ کے باھر بھی بھیک مانگتے نظر آئیں گے لیکن حکومت سعودی عرب کے قوانین کے مطابق بھیک مانگنا جرم ھے کیونکہ سعودی حکومت اپنی ریاست میں تمام لوگوں کے حقوق بااحسن انداز سے ادا کرتی ھے تو وہاں پر مامور شرطے جب کسی کو بھیک مانگتا دیکھ لیں تو فوراً جیل میں بند کردیتے ھیں اور ملک بدر کردیتے ھیں دوسری جانب زائرین مکہ و مدینہ کیلئے ایک جانب دسترخوان وسیع کرتے ھیں تو دوسری جانب کئی مراعات سے نوازتے بھی ھیں۔ وہاں صدقہ، خیرات، زکواة اور فطرہ بڑی ذمہداری اور احتیاط کیساتھ مستحقین کو تلاش کرکے پہنچاتے ھیں یہاں کی طرح بھکاریوں میں پھینکا نہیں جاتا کیونکہ وہ جانتے ھیں کہ یہ مالی نظام اللہ اور اس کے حبیبﷺ نے جس بتایا اور سیکھایا ھے اسی طرح حکومتی و فلاحی ادارے تقسیم کار اپناتے ھیں لیکن اسلام کا قلعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جو نظام چل رھا ھے آپ سب بہت ہی اچھی طرح سے واقف ھیں۔ اب آپ سب پر مزید بھاری ذمہداری بنتی ھے کہ سفید پوش، عزت نفس اور مڈل کلاس کیلئے ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس میں رمضان المبارک کے پورے مہینہ بھر سستی ہر طرح کی اشیاء مل سکیں تاکہ سفید پوش لوگ اپنے کم بچت میں خریداری کرسکیں۔ واضع رھے کہ ایسے پیکٹ اور پرنٹ کی جائے کہ کوئی اسے بیچ نہ سکے اگر کوئی دکاندار یا تاجر خریدی تو اسے سخت سزا دی جائے وقت بہت کم رہ گیا ھے اور کام زیادہ کرنے ھیں تاکہ پاکستان سے آہیں درد کی تکالیف اور مہنگائی کے سبب بہنے والے آنسو نکل نہ پائیں کیونکہ ہر آنسو کے قطرے میں فریاد پلٹی ھوئی عرش پر پہنچے گی جونہی یہ عرش سے ٹکرا گئی تو جان لیجئے گا کہ گیہوں کیساتھ گھن بھی پس جائیگا اللہ معاف کرے ھم سب کا کیا انجام ھوگا۔ اب بھی وقت ھے صاحب دولت صاحب ثروت صاحب استحکاق سنبھل جائیں اور ان پیشہ ور بھکاریوں میں دولت زائل ہرگز ہرگز نہ کریں اور تھوڑی سی کوشش کرکے مستحق تک پہنچائیں تاکہ اللہ اور حبیب خدا ﷺ راضی ھوجائیں۔۔!