MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

جام کمال خان سے ایرانی سفیر کی ملاقات ، تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق

0 129

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز)وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزارت تجارت سےجاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے ایرانی سفیر کو پاکستان و ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 22ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور ایرانی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کو ’’فوڈ ایگ‘‘ نمائش میں شرکت کی دعوت دی، جو 25 سے 27 نومبر 2025 تک کراچی ایکسپو سینٹر میں ہوگی۔ یہ نمائش دونوں ممالک کے کاروباری طبقے کے لیے زرعی و غذائی شعبے میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔

’’اے پی پی ‘‘ کے مطابق جام کمال خان نے تجویز دی کہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ اور زاہدان کے گورنر کی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ سرحدی علاقوں میں تجارت اور عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دیا جا سکے۔پاکستان کے بحری امور، ریلوے اور مواصلات کے وزرا ءکو بھی ایران مدعو کیا جائے تاکہ باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

- Advertisement -

ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے دوطرفہ تجارت میں ہونے والی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے پاکستان سے 4 لاکھ ٹن چاول کی درآمد مکمل کر لی ہے، جبکہ اب وہ مویشیوں کی خوراک اور مکئی کی خریداری کے لیے تیار ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیشرفت سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

جام کمال خان نے بتایا کہ پاکستان و ایران کے مابین آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کے مسودے کا جائزہ جاری ہے اور جلد اسے باضابطہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ایرانی سفیر نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا اور بتایا کہ کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان پروازیں بحال ہو چکی ہیں، جس سے عوامی روابط اور تجارت کو فروغ ملے گا۔ دونوں رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات اور مشترکہ ثقافتی و تاریخی رشتوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ 2028 تک دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب امریکی ڈالر سالانہ تک پہنچایا جائے گا۔

وفاقی وزیرِ تجارت نے مزید بتایا کہ وزارتِ تجارت متعلقہ اداروں، بشمول ایف بی آر اور وزارتِ مواصلات، کے ساتھ ایرانی ٹرکوں کو پاکستان میں داخلے کے دوران درپیش مسائل کے حل پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاک۔ایران مشترکہ بزنس کونسل کو فعال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.