MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سیلاب متاثرین کے لئے افواج پاکستان کی امدادی کاروائیاں

5 466

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:  کنول زہرا
افواج پاکستان نے کبھی بھی اپنے بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا ہے, قیام امن کے معاملات ہو یا قدرتی آفات کے مسائل یا پھر انتظامی غفلت کے سبب عوام کو درپیش مسائل پاک فوج ہر گھڑی متاثرین کی داد رسی کے لئے ہم تن گوش رہی ہے, حالیہ بارشوں کے باعث جہاں کراچی میں پاک فوج کے جوان پیش پیش رہے وہیں صوبہ بلوچستان میں بھی ان جوانوں نے اپنی ہمت سے بڑھ کر خدمات سرانجام دیں, صوبے میں شدید بارشوں کے پیش نظر سیلابی صورتحال اختیار کر گئی جس کی وجہ سے جانی نقصان کے ساتھ مالی نقصان نے بھی لوگوں کو شدید متاثر کیا, جس میں تقریبا چھ ہزار گھر  اور دو لاکھ ایکڑ اراضی پر فصلیں متاثر ہوئیں, مشکل کی اس گھڑی میں ہمیشه کی طرح افواج پاکستان کے جوان متحرک نظر آئے, فوج اور ایف سی کے اہلکار لوگوں کو ریسکیو کرنے اور انھیں ریلیف دینے میں سر گرم عمل رہے

- Advertisement -

یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد اضافی بارشیں ہوئیں۔ بلوچستان کے 29 اضلاع حالیہ بارشوں/تیز سیلاب کی وجہ سے خاص طور پر لسبیلہ، کیچ، کوئٹہ، سبی، خضدار اور کوہلو متاثر ہوئے ہیں۔ 3953 مکانات کو نقصان پہنچا ہے
بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں حب، گڈانی، بیلہ اور دودر اور جھل مگسی میں 5 میڈیکل کیمپ قائم
گوادر
▪️ آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے گوادر کے علاقے کو کلیئر کر دیا ہے۔
اگور میں بند کوسٹل ہائی وے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
جھل مگسی
▪️ آرمی ایوی ایشن کے 4 قسم کے ہیلی کاپٹروں نے راشن اور ادویات سمیت 1.3 ٹن امدادی اشیاء فراہم کیں۔
▪️علاقے میں بارش نہیں ہوئی – پانی کی سطح کافی کم ہو گئی ہے۔
جھل مگسی کے ساتھ گندواہ کا رابطہ بحال، دیگر 2 سڑکوں پر رابطہ بحال کرنے کی کوششیں جاری، 200 افراد کو نکال لیا گیا۔
🔸 خضدار
▪️ دریائے مولا میں پانی کی سطح اب بھی بلند ہے .پانی کم ہونے کے بعد این ایچ اے
کی جانب سے M-8 کے کنیکٹیویٹی پر کام دوبارہ شروع کیا جائے گا
خضدار میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے بیلہ اور گردونواح کا دورہ کیا۔
🔸 چمن
بابے دوستی کو پانی بھرنے والی ٹیموں نے کھول دیا ہے کیونکہ یہ سیلاب کی وجہ سے بند ہے۔
🔸 لسبیلہ
ٹیلی کمیونیکیشن دوبارہ شروع ہو گئی۔
پاک فوج، ایف سی اور پاکستان کوسٹ گوراد کی جانب سے ریلیف آپریشن جاری ہے۔
RCD(علاقائی کارپوریشن ڈویلپمنٹ) پر تمام 4x مقامات صرف ٹریفک کے لیے کھولے گئے ہیں۔
🔸 ژوب
ژوب میں ایف سی اور سول انتظامیہ کی جانب سے موبائل فیلڈ میڈیکل کیمپ لگایا گیا۔ 1570 مریضوں کا علاج کیا گیا۔
🔸 قلعہ سیف اللہ
قلعہ سیف اللہ میں سیلاب آگیا۔
🔸 زیارت
کوئٹہ-زیارت روڈ کاوس تنگی اسٹیشن کے قریب سیلابی ریلے کے باعث بند ہونے والی سڑک کو کھول دیا گیا ہے۔
🔸 کوئٹہ
ہنہ اور نواں کلی میں سیلاب کی اطلاع ہے۔ ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں۔
🔸 سندھ
▪️ صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں تعینات کی گئیں۔
ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن جو پانی سے بھر گیا تھا کو آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے صاف کر دیا ہے۔
▪️ جامشورو میں 300 افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ آرمی نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا۔
لٹھ ڈیم کے اوور فلو کے باعث M-9 مختلف مقامات پر زیر آب آ گیا۔ سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ پانی نکالنے والی ٹیمیں کام میں لگ گئیں۔
▪️ دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔
🔸 جی بی
▪️ کے کے ایچ  اور جگلوٹ-سکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او
نے متعدد لینڈ سلائیڈنگ کو صاف کرتے ہوئے کھلا رکھا ہے۔
▪️ضلع غذر سیلاب کی وجہ سے منقطع ہو گیا۔ مواصلاتی ڈھانچہ کھول دیا گیا۔ مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئیں۔
🔸 کے پی
▪️ ضلع ٹانک، چترال اور صوابی بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے۔
روڈ چترال مستوج اور روڈ ٹانک گومل زام ڈیم کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
▪️پاکستان آرمی، نیوی اور ایف سی/رینجرز کے دستے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں سول انتظامیہ اور مقامی کمیونٹیز کی مسلسل مدد کر رہے ہیں۔
حالیہ بارشوں کے پیش نظر بلوچستان کے کئی علاقوں میں تباکاریاں ہوئیں ہیں۔ اس ناگہانی صورتحال میں پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کے نوجوان  متعلقہ اداروں کے ہمراہ خراب موسم کی پرواہ کیے بغیر متاثرہ  لوگوں کو ریسکیو اور ریلیف پہنچانے کیلئے پیش پیش ہیں۔ مستونگ کے علاقے کلی دھتو میں بارش سے متاثرہ افراد کے لیے ریسکیو اور ریلیف آپریشن ابھی تک جاری ہے۔ مستونگ میں خانہ بدوشوں کی بستی سیلابی ریلےکی زد میں آنے کی اطلاع پر بروقت کاروائی کرتے ہوئےایف سی بلوچستان کے جوانوں نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور انہیں راشن پیکٹ اور دیگر اشیاء ضرورت فراہم کیں۔
ایف سی بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ کے علاقے غوث آباد میں بے گھر ہونیوالے چار خاندانوں کو مالی امداد اور راشن پہنچایا گیا۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے غلام رسول پھاٹک کے قریب بارش اور سیلابی ریلے سے متاثرہ  ریلوے ٹریک پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ٹرین کی حفاظت اور کلیئرنس میں مدد کے لیے ایف سی کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔*
*قلعہ سیف اللہ کے علاقے کلی زغلونہ اور کلی الکیزہ غونا میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 3 خواتین اور 4 بچوں سمیت 8 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، مقامی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کی کوششوں سے تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ایف سی کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں امدادی رقوم اور سیلاب متاثرین میں راشن کی تقسیم کے علاوہ ادویات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔
*قلعہ عبداللہ کی تحصیل دوبندی میں شدید بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر ایف سی چمن سکاؤٹس کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔ایف سی کی جانب سے تحصیل دوبندی کے علاقے کدنی سے نقل مکانی کرنے وا لے خاندانوں کے لیے  فوڈ پارسل فراہم کیے گئے۔ علاوہ ازیں، ایف سی کے جوانوں نے کلی علی آباد میں سیلاب میں پھنسے افراد اور ریوڑ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا- متاثرین کو طبی امداد کی فراہمی کیلئے میڈیکل روم کا قیام اور مختلف بیماریوں کے لیے ادویات کی فراہمی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ چمن سے ملحقہ دیہات کلی کھدر میں موجود مدرسہ کی دیواریں اور چھتیں گرنے کے باعث طالبعلموں کو ایف سی ریسکیو ٹیم نے محفوظ مقام پر منتقل کرتے ہوئے انہیں راشن اور مدرسے کی تعمیر کیلئے امدادی رقم بھی فراہم کی ہے ۔
اسی طرح مسلم باغ اور گردونواح میں شدید بارشوں اور طغیانی کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کو قلعہ سیف اللہ سکاوٹس نے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرتے ہوئے انہیں راشن اور ادویات اور دیگر اشیاء ضرورت فراہم کیں ہیں۔
قبائلی عمائدین اور حالیہ بارشوں سے  متاٹرہ افراد نے ایف سی بلوچستان کی جذبہ خیرسگالی اور جب الوطنی کو سراہتے ہوئے ایف سی کی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا

آئی ایس پی آر کے مطابق مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، مردان سے پانی نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے بتایا ہے کہ جنوبی پنجاب میں مٹھاون، کاہا اور سانگھڑ ہل میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہے، پاک فوج کے مقامی کمانڈروں نے راجن پور اور ڈی جی خان کا دورہ کیا ہے، جہاں پر سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں اور میڈیکل کیمپ لگائے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے علاقے جھل مگسی اور گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے، گندھاوا اور گرد و نواح میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا، خضدار ایم 8 تاحال بحال نہیں ہو سکا، جس کی بحالی کا کام جاری ہے، سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق نصیر آباد میں سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا، گنداخہ میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا، چمن میں بارش نہیں ہوئی، باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے، نوشکی میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں پر ایک ہزار سے زائد سیلاب متاثرین میں پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ لسبیلہ میں صورتِ حال مستحکم ہو رہی ہے، ناکہ، بیلہ، دودر، حب اور گڈانی میں 5 فیلڈ میڈیکل کیمپ طبی امداد فراہم کر رہے ہیں، این 25 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، پلوں کی مرمت کا کام جاری ہے، گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اوتھل کا دورہ کیا، جہاں پر 1500 کلو راشن اور امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم باغ، خزینہ میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 200 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا، گلگت بلتستان، سکندر آباد کے قریب 2 مٹی کے تودے گرنے کی اطلاع ہے، ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

5 Comments
  1. […] (مسائل نیوز) پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ […]

  2. […] : پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ […]

  3. […] آباد (مسائل نیوز) پاکستان میں 6لاکھ 50ہزار سے زائد خواتین سیلاب زدہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم۔اقوام متحدہ […]

  4. […] نیوز) پاکستان آرمی، رینجرزاورسول اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دادو گرڈ […]

  5. […] نیوز)عوامی شکایات پر بی ایف اے آپریشن ٹیم نے پرنس روڈ میں قائم معروف فوڈ پوائنٹ کی انسپیکشن کی ، […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.