تربیت و عمل با اثر ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
پچپن سے ھمیں ہمیشہ یہی تربیت دیجاتی رہی ھے کہ یہ ملک ھمارا ھے اور بڑی قربانیوں کے بعد اللہ نے آزاد مسلم ریاست عطا کی جس میں قرآن کے مطابق اور رسول خدا کے احکامات کے مطابق سنتوں پر عمل پیرا ھوتے ھوئے پوری اپنی زندگی گزارنی ھے۔ یہ صرف الفاظ ہی نہیں بیانات ہی ہی تربیت ہی نہیں میں نے پچپن سے جوانی تک عمل ھوتے ھوئے دیکھا۔ میرے والد ایک سرکاری محکمہ میں افسر تھے سنہ انیس سو اسی کی دھائی تھی والد کو سرکاری جیب بھی ملی تھی آپ پھونک پھونک کر استعمال کرتے تھے کہ کہیں قوم کا پیسہ ضائع نہ ھو۔ اپنے ذاتی استعمال میں کبھی بھی نہیں لاتے ڈرائیور صبح آفس لیکر جاتا اور شام واپس چھوڑ کر سرکاری کیرج میں کھڑی کرنے چلا جاتا تھا۔ اس وقت انیس گریڈ آفیسر تھے۔ صبح جب وہ آفسر جانے کیلئے تیار ھورھے تھے تو میں نے دیکھا کہ شرٹ ترپی ھوئی تھی میں نے توجہ دلاتے ھوئے کہا کہ پاپا آپ نئی شرٹ کیوں نہیں خرید لیتے مجھے انھوں نے جواب دیا کہ حلال رزق میں آٹھ بچوں کی پرورش کرنی ھے۔ مجھے علم تھا کہ سالانہ بجٹ اس وقت ایک کروڑ سے زائد آتا تھا پوری نوکری میں ایک ایک پائی تک امانت سمجھتے رھے۔ آپ نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے قبل از پاکستان گریجویشن کی تھی اور محکمہ ٹریفک پولیس میں افسر تعینات ھوئی۔ پاکستان کے معروض کے بعد پچاس کی دھائی میں انڈیا سے پاکستان ہجرت کی اور یہاں محکمہ تعلیم میں معلم تعینات ھوئے۔ آپ نے سچ و حق ایمانداری و دیانتداری کیساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے یہ راز بھی مجھے انکے انتقال کے بعد آشکار ھوئے۔ جن جن کیساتھ انسانی بنیاد پر احسانات کیئے بعد موت انھوں نے انکی نیکیوں کا ذکر کیا اور دل سے دعائیں دیں۔ والد محترم کی ایسی مذہبی و اسلامی تربیت ملی کہ انھوں نے بھی اپنے والدین کو عملی طور پر اسلامی شعائر تہذیب اور سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا دیکھا یہ عکس میں نے اپنے والدین میں پایا۔ میں صحافت کے پیشہ سے تعلق رکھتا ھوں اور اپنے والدین کی تربیت کے سبب عملی طور پر دین محمدی ﷺ پر چلنے کی بھرپور کوشش کرتا ھوں اپنے کھرے پن سچ و حق کی بناء پر سخت رویئے اور منافقانہ ذہنوں کو بھی برداشت کرنا پڑا گاہے بگاہے مالی و ذہنی تکالیف سے دوچار رھا کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ھوں کہ صراط المستقیم کے راستے میں بہت رکاوٹیں تکالیف مشکلات اور اذیت ھیں لیکن ثمر عالیشان کیونکہ یہ دنیا امتحان گاہ ھے اور جتنے سخت سوالات آتے ھیں اتنے ہی زیادہ نمبر بھی ملتے ھیں یہ سوالات کسی بندے کے نہیں بلکہ واحد لاشریک قادر مطلق کے ھیں صحیح جوابات یعنی عمل صالح کے نتائج کا بہترین ثمر رب العزت اپنی شان سے نوازتا ھے۔ میرا ایمان ھے کہ اگر کامل یقین کامل توکل کامل بھروسہ کامل اعتماد رب العزت کی ذات سے ھوجائے تو اسے ہر پریشانی ہر مشکلات ہر تکلیف ہر اذیت بے معنی لگتی ھے کیونکہ پھر بندہ خدا شکر گزار اور صابر بن جاتا ھے۔ جن پاکستانی لوگوں نے اپنے والدین کی دینی تربیت کو عملی جامع پہنایا ھے وہ کسی بھی ایسے عمل میں ہرگز نہیں پڑتے جو معاشرے اور ملک کیلئے ناسور ناپسندیدہ اور ناگوار ھوں جیسے نشے کی لت رہزنی چوری ڈکیتی لوٹ مار قتل و غارت بھیک اور ملک دشمنی جیسے مکروہ بدکار فعل شامل ھیں۔ تربیت یافتہ محنت مزدوری ایمانداری و سچائی کیساتھ ادا کرتے ھیں جبکہ غیر تربیت یافتہ لوگ ہر فعل میں منفی پہلو پہلے اپناتے ھیں۔ آج جو ملک کے حالات ھیں اس میں ھماری مذہبی و اخلاقی تربیت کا شدید فقدان پایا جاتا ھے ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم من الحیث القوم اپنی نئی نسل کو اسلامی اخلاقی اور قومی تربیت سے آراستہ ضرور کریں۔ مذہب سے لگاؤ اور ملک سے محبت اور قومی اداروں کا احترام لازماً تربیت کا خاصہ ھو کوئی شک نہیں بہترین تربیت سے ھم ایک جانب اپنی نسل میں مثبت سوچ مثبت فکر مثبت شعور اور مثبت پاکستانی حب الوطنی بن کر دنیا بھر میں اپنا اور اپنے ملک پاکستان کا نام یقیناً روشن کرسکے گا۔ انشاءاللہ تعالیٰ ۔۔۔۔!!