بلاول بھٹو کی پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپس آنے کی دعوت پر شاہ محمود کا ردِعمل
اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا اختیار نہیں کہ اسمبلی میں واپس آنے کی دعوت دیں یہ وزیراعظم کا استحقاق ہے۔انہوں نے بلاول بھٹو کی آفر ٹکھراتے ہوئے کہا کہ یہ دعوت وزیراعظم دے سکتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت انتخابات کی تاریخ دے تو بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
الیکشن اصلاحات کے لیے بیٹھ کر تعاون کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وہاں سے مختلف سگنلز آ رہے ہیں۔کچھ دعوت دیتے ہیں کچھ دعوت سے کتراتے ہیں۔گذشتہ روز وزیر خارجہ و پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پارلیمان میں آنے کی دعوت دی اور نہ آنے پر سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کٹھ پتلی کے لیے آخری وارننگ ہے، وہ آئے اور پارلیمان میں بیٹھے، نیب اور الیکشن اصلاحات کا حصہ بنے۔
- Advertisement -
انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ سلیکٹڈ کیخلاف نیب استعمال ہو، نہیں چاہتے کہ یہ جیل میں بند ہو اور سابق خاتون اول بچوں کے ساتھ وہاں چکر لگائے لہذا آخری وارننگ ہے کہ وہ پارلیمان میں آکر کام کرے، ورنہ جنہوں نے اپنا کام کرنا ہے اسے نہیں روک سکیں گے۔ بلاول نے کہاکہ سلیکٹڈ کو وائٹ ہاؤس نہیں، بلاول ہائوس کی سازش نے نکالا، امریکی صدر نہیں، جیالوں کی جدوجہد نے گھر بھیجا ہے، پہلی بار کسی وزیراعظم کو فوج یا عدالت کے بجائے پارلیمان نے گھر بھیجا ہے، یہی جمہوریت کا انتقام ہے۔
یہ بند کمروں کی سازش نہیں تھی، ہم اس ملک کی سڑکوں اور پارلیمان میں کھڑے ہو کر آپ کو کہتے رہے کہ یہ کام کرنے جا رہے ہیں اور وہ کام کرکے دکھایا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے بڑھ کر آپ نے سیلکٹڈ کو تو خدا حافظ کہہ دیا مگر جو ان کے سہولت کار تھے، ان کو بھی بڑی عزت کے ساتھ خدا حافظ کہہ دیا، یہ آپ کی جیت اور جمہوریت کا انتقام ہے۔بلاول بھٹونے کہاکہ جیسے مشرف ماضی کا حصہ بن چکا ہے، ویسے ہی یہ سلیکٹڈ(عمران خان)بھی ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، ان کا کوئی مستقبل نہیں۔انہوں نے کہاکہ آصف زرداری نے دانشمندی سے جیسے پرویز مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکالا ویسے ہی سلیکٹڈ اور اس کے سہولت کار کو نکالا۔