اسلام آباد(مسائل نیوز) تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختو نخوا اسمبلیوں کو ایک ساتھ تحلیل کرنے پر مختلف رائے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ دونوں اسمبلیاں ایک ساتھ ہی تحلیل کرنے کی ہدایت ہو،اسمبلی تحلیل کی تاریخ دسمبر ہی کی ہو گی۔ اسد عمر نے ہم نیوز کے پروگرام صبح سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے کہا پنجاب اسمبلی کو توڑنے سے بچانے کیلئے ہر حربہ استعمال کریں گے،رانا ثناء اللہ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت سے مختلف وزرا کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،فی الحال تو وفاقی وزرا نے صدر مملکت کا وقت ہی ضائع کیا ہے۔
حکمران تو الیکشن سے بھاگ رہے ہیں،آج جو موجودہ صورتحال ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
حکمران معیشت کی بہتری کیلئے آئے تھے مگر اپنے کیسز ختم کرا رہے ہیں۔حکمران اپنے خلاف کیسز کے خاتمے میں نہایت کامیاب ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ حکمران جس طریقے سے اقتدار میں آئے،وہ سب کے سامنے ہے ملک میں امپورٹ،ایکسپورٹ اور پیداواری حجم متاثر ہوئے ہیں،معیشت منجمد ہوچکی ہے،پی ڈی ایم اتحاد مکمل نااہل ہے۔
- Advertisement -
عمران خا ن کے خلاف توشہ خانہ اور دیگر نااہلی کیسز کچھ بھی نہیں،عمران خان کو ملکی صورتحال کا ادراک ہے۔مختلف اداروں میں ریفارمز پر پی ٹی آئی نے کام کیا،معیشت،تعلیم،کاروبار اور دیگر شعبوں میں ریفارمز کی گئیں۔استعفوں کے بعد ہماری تنخواہیں روک دی گئیں اور ہم تو نہیں لے رہے ہیں،ہمارا مطالبہ تو آج بھی الیکشن کا انعقاد ہی ہے۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ وزیراعلٰی پنجاب پرویز الٰہی نے کہا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ عمران خان کا ہے۔
وزیراعلٰی پنجاب پرویز الٰہی کی ذاتی رائے ہے کہ 3 ماہ تک اسمبلی رہے تو اچھا ہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی ہمارے اتحادی ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے بارے میں عمران خان کا فیصلہ حتمی ہو گا،مسلم لیگ ن کی قیادت صرف جھوٹ بولنے میں ماہر ہے۔