MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بھارتی ریاست راجستھان اور اردو زبان

1 257

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالمکار : جاوید صدیقی

- Advertisement -

حالیہ دنوں میں برطانوی اشاعتی ادارے بی بی سی اردو نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں پاکستان کی عوامی و سرکاری زبان اردو کی ترویج اور دلچسپی کا ذکر کیا یہ ذکر بھارتی ریاست راجستھان میں اردو زبان سے بیشمار افراد کی اردو زبان سے محبت رغبت اور دلچسپی کے عمل کو بیان گیا ھے جبکہ دوسری جانب پاکستان جس کی قومی و سرکاری زبان اردو کی ترویج فروغ اور تحفظ نابلد اور غیر سنجیدہ با اختیار افسران کے ہاتھوں تھمادی ھے جو اپنی نااہلی بدعقلی اور بے انصاف کی ذمہداروں کو اردو زبان کو دیدیا گیا ھے۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ بار ہا بار حکم صادر کرچکی ھے کہ آئینِ پاکستان، دستورِ پاکستان کے مطابق فی الفور سرکاری، نیم سرکاری، کارپوریشنز، کمپنیز و نجی اداروں میں اردو زبان لکھی، پڑھی اور بولی جائے جبکہ انگریزی کو صرف اضافی رابطہ کیلئے استعمال کرسکتے ھیں، پاکستان میں چند افراد، چند گروہ، چند تنظیمیں اور چند نجی ادارے اردو زبان کا تحفظ اور بقاء کیلئے ھمیشہ سے کوشش کرتے چلے آرھے ھیں ۔۔ معزز قارئین!! بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع ٹونک میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں کی سو فیصد آبادی ہندو ہے اور یہاں ہر کوئی اردو پڑھنا چاہتا ہے۔ اس گاؤں کے رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ وہاں کم از کم ایک ہزار نوجوانوں نے اردو سیکھ لی ہے۔ چھوٹی کاشی کے نام سے مشہور یہ گاؤں جے پور سے تقریباً پچاسی کلومیٹر دور ہے۔یہاں اٹھارہ سو ہندو خاندان رہتے ہیں۔ گاؤں میں ایک بھی مسلم خاندان نہیں ہے لیکن اس گاؤں میں بچوں کو سنسکرت سے زیادہ اردو پڑھانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ گاؤں میں سو سے زیادہ اردو اساتذہ ھیں۔ سدڑہ گاؤں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پورے ٹونک ضلع سے اردو زبان کے سرکاری اساتذہ کی تعداد سب سے زیادہ وہاں ہے۔ سدڑہ کے رہائشی اور پنچایت سمیتی کے رکن رام کشور کہتے ہیں کہ اردو زبان نے گاؤں کے نوجوانوں کا سرکاری نوکریوں کا خواب پورا کردیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج گاؤں میں ہر سطح پر اردو کے اساتذہ موجود ہیں۔ تیسرے درجے، دوسرے درجے، اول درجے، کالج کے لیکچرر، اسکول کے پرنسپل اور یونیورسٹی میں اردو زبان کے پروفیسر گاؤں سے ہی ہیں۔سیارام مینا سدڑہ گاؤں میں آٹھویں جماعت تک ٹیچر ہیں۔ وہ خود اردو زبان کے سرکاری استاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں، پہلے بچوں کو اردو بھی نہیں آتی تھی لیکن، آج گاؤں کے بہت سے اردو ٹیچر ہیں۔ وہ ہمیں کئی نام بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی بھی اردو کے استاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں، گاؤں میں کم از کم ایک ہزار بچوں نے اردو پڑھ لی ہے۔ گاؤں سے بنائے گئے سرکاری اساتذہ نہ صرف ٹونک بلکہ دوسرے اضلاع اور ریاستوں میں بھی اردو پڑھا رہے ہیں۔ سدڑہ اسکول کے پرنسپل بیربل مینا بتاتے ہیں، سدڑہ میں بہت سے ایسے نوجوان ہیں جنہوں نے اردو پڑھ کر بی ایس ٹی سی اور بی ایڈ کیا ہے، جو اب اساتذہ کی بھرتی کے منتظر ہیں۔ اس بار یقینی طور پر کم از کم تیس نوجوان ٹیچر بننے والے ہیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں، سال دو ہزار تیرہ میں اردو کے اساتذہ کی بھرتی ہوئی تھی، جس میں درج فہرست قبائل کی چھبیس آسامیوں میں سے گیارہ سدڑہ نوجوانوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ یہ سفر سنہ انیس سو ستانوے اٹھانوے سے شروع ہوا۔ سنہ دو ہزار تیرہ چودہ تک سدڑہ کے اسکول میں صرف آٹھویں جماعت تک تعلیم ہوتی تھی۔ اس دوران یہاں اردو سے کوئی واقف نہیں تھا گاؤں کے بچے آٹھویں جماعت سے پڑھائی کیلئے نیوائی جایا کرتے تھے۔ گاؤں کے کچھ بچوں نے نیوائی اسکول سے اردو کو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھنا شروع کیا۔ یہیں سے سدڑہ میں اردو کا آغاز ہوا جو مستقبل میں اردو کی وجہ سے مشہور ہوگیا۔ سدڑہ کے رہنے والے اور پنچایت سمیتی کے رکن رام کشور بتاتے ہیں، سال انیس سو ستانوے اٹھانوے میں، آٹھویں جماعت کے بعد، ہم مزید پڑھائی کیلئے نیوائی جاتے تھے۔ ہمارے کچھ دوستوں نے وہاں اردو پڑھنا شروع کی، اور اس کے چند سال بعد ہی سرکاری استاد بن گئے۔ بارہویں جماعت کی طالبہ گایتری مینا کہتی ہیں، میں دسویں جماعت سے اردو پڑھ رہی ہوں، میں نے اب تک اردو پڑھنا لکھنا سیکھ لیا ہے۔ اپنے خاندان کے بارے میں بات کرتے ہوئے گایتری کہتی ہیں، میرے چار چچا، ایک خالہ نے اردو پڑھی ہے اور اب بی ایڈ کر رہے ہیں۔ ایک چچا اور ایک خالہ اردو کے استاد ہیں۔ سدڑہ اسکول کے پرنسپل بیربل مینا کا کہنا ہے کہ اردو پڑھنے والے بچوں میں ستر فیصد لڑکیاں ہیں۔ پچھلے سال کے بیچ میں، ایک طالبہ کلپنا نے اردو بورڈ کے امتحانات میں سو فیصد نمبر حاصل کئے تھے اور ایک اردو طالبہ سمن نے ننانوے فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔ اسکول میں گیارہویں جماعت کے سینتیس بچے اور بارہویں جماعت کے پچاس بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔ تقریباً پچاس فیصد بچے سنسکرت کے بجائے اختیاری مضمون کے طور پر اردو پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک اور طالبہ راجی شوری اردو سیکھنے کے اپنے تجربے کے بارے میں کہتی ہیں، مجھے اردو پسند ہے، اس لئے میں گیارہویں جماعت سے اردو پڑھ رہی ہوں۔ میں اردو لکھ اور پڑھ سکتی ہوں۔کچھ حروف تہجی ضرور مشکل لگتے ہیں۔ جس کیلئے سر سے مدد لی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، جیسے ہی ایک کے بعد دوسری سرکاری ملازمتیں اردو سے شروع ہوئیں، تب ہی بچوں اور گاؤں کا رجحان اردو کی طرف چلاگیا۔ آج بچے بہت شوق سے اردو سیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ اس دوران وہاں چند ہی سرکاری ملازمین تھے لیکن جیسے ہی اردو استاد کے عہدے کیلئے لوگوں کا انتخاب ہوا، گاؤں کے بچے اردو پڑھنے لگے۔ اردو ہی کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟ سدڑہ گاؤں کی تقریباً پچانوے فیصد آبادی شیڈولڈ ٹرائب سے تعلق رکھتی ہے۔ ملازمتوں میں ریزرویشن کے قانون کیمطابق درج فہرست قبائل کیلئے ملازمتوں میں ریزرویشن رکھا گیا ہے۔ ابتدا میں جب گاؤں کے بچوں نے سنہ انیس سو ستانوے اٹھانوے میں اردو پڑھنی شروع کی اور چند سالوں کے بعد وہ سرکاری استاد بن گئے، تب سے گاؤں والوں میں اردو کی طرف رجحان بڑھنے لگا۔ اساتذہ کی بھرتی میں اردو زبان کی پوسٹیں درج فہرست قبائل کیلئے مخصوص ہیں۔ ایسے میں اس زمرے سے اردو نشستوں پر امیدواروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ نشستیں خالی رہتی تھیں۔ لیکن اب جو نوجوان اردو کے ذریعے باآسانی سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے سے واقف ہوچکے ہیں، وہ اردو میں اپنا اور اپنے عزیز و اقارب کا مستقبل ڈھونڈ رہے ہیں۔ اردو کے استاد گنگا دھر مینا کہتے ہیں، اردو پڑھنے کے بعد ایم ڈی ایس یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کئی اسکول ٹیچر ہیں۔ ان سے متاثر ہو کر نوجوانوں اور بچوں نے اردو پڑھنا شروع کردی ہے۔
جب ہم نے اردو پڑھنے والے بچوں سے بات کی تو زیادہ تر خاندانوں میں ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے اردو پڑھی ہے۔ کچھ اساتذہ ہیں یا اساتذہ کی پوسٹ پر بھرتی کے منتظر ہیں۔ اردو کے استاد سیارام مینا کہتے ہیں، اردو ایک اچھی زبان ہونے کیساتھ ساتھ روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ اپنی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں، بارہ ویں کے بعد، میں نے سال دو ہزار پانچ چھ میں دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی سے استاد بننے کیلئے ڈپلومہ کورس کیا۔ کورس کے فوراً بعد ہی بھرتی ہوئی اور میں منتخب ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں، ہم سے پہلے بھی اردو سے واقفیت رکھنے والے بہت سے مقامی لوگ سرکاری ملازمتوں میں تھے۔ ہمیں ان کی رہنمائی بھی ملی۔ سدڑہ اسکول کے پرنسپل بیربل مینا کہتے ہیں، “میں نے پہلی بار سدڑہ میں دیکھا کہ گاؤں میں اردو کیلئے اتنا پیار ہے۔ تمام بچے اردو پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ، اردو سے ہی سرکاری استاد کی نوکری بھی مل رہی ہے، اس لئے والدین بھی ہیں بچوں کا مستقبل صرف اردو میں دیکھتے ہیں۔۔۔ معزز قارئین!! بی بی سی اردو کی اس رپورٹ سے کئی سوالات بھی جنم لیتے ھیں وہ ملک جو ہندو ملک ھے اور دو قومی نظریہ کے تحت انکی قومی زبان سنسکرت ھے لیکن وہ بھی سمجھتے جانتے ھیں کہ اردو بین الاقوامی زبان ھے جبکہ سنسکرت نہیں ھم بحیثیت مسلمان اور پاکستانی بھی نظریہ اسلام کے تحت پاکستان کو معروض کیا اور اس کی قومی و سرکاری زبان اردو قرار دیا لیکن ساتتر سال بیت جانے کے باوجود کچھ طبقہ کچھ پاکستان مخالف گروپ تنظیمیں اردو کو ناپسندگی تعصب لسانیت نفرت کے سبب رکاوٹ کرتی چلی آرہی ھیں جبکہ اپنے ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کیلئے اسی اردو کا سہارا بھی لیتے ھیں ان کے اس فریب اور منافقت پر جس قدر افسوس کریں کم ھیں کیونکہ انہیں سازشی عناصر کی وجہ سے اردو کو بہت نقصان ھوتا رھا ھے اردو زندہ جاوید ھے اور ہمیشہ دنیا بھر میں زندہ جاوید رھے گی لیکن ان کی نفرتوں سے ملک پاکستان ترقی و کامرانی سے سست پڑتا ھے اور رہیگا۔ من حیث القوم ھم سب کو اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] دہلی (مسائل نیوز) بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی کے ایک محلے میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.