MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

فتنہ مارچ

1 346

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: اعجازعلی ساغر اسلام آباد

- Advertisement -

آپ صحافی نہیں تحریک انصاف کے کارکن ھو آپ ھمیشہ ان کی حمایت میں لکھتے ھو آپ کی تحریروں میں عمران خان اور تحریک انصاف کی سپورٹ کا عنصر جھلکتا ہے یہ وہ الفاظ تھے جو مجھے اکثر سننے کو ملتے تھے اور بعض دوست تو یہاں تک بھی کہتے تھے کہ اگر کہیں راہ چلتے آپ کے ساتھ کوئی بدتمیزی کرے یا مارنا شروع کردے تو سمجھ لینا انہوں نے آپ کا کالم پڑھ لیا ہے کیونکہ آپ نے تحریک انصاف کی بدترین کارکردگی کو بڑے اچھے انداز پیش کیا ہے اور بلاشبہ میں نے صرف اس نظریے کی بنیاد پر ان کو سپورٹ کیا کہ یہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے اور پاکستان دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔
2018 میں عمران خان صاحب وزیراعظم بنے تو ھماری ان سے اسلام آباد کے ایک نجی ھوٹل میں ملاقات ھوئی وہ تمام صحافیوں سے براہ راست مخاطب تھے میں نے اپنی باری آنے پر ان سے صرف اتنا ہی کہا کہ خان صاحب اس ملک سے غربت اور کرپشن کا خاتمہ کریں کیونکہ جس دن ھم معاشی اعتبار سے مضبوط ھوگئے ھمیں کسی کے سہاروں کی ضرورت نہیں رہے گی دوسرا خان صاحب سفارتی لحاظ سے اپنے آپ کو مضبوط کیجیئے گا تاکہ کسی بھی مشکل میں ملک تنہا نہ رہے۔
حکومت بننے کے کچھ عرصے بعد ہی تبدیلی سرکار نے رنگ دکھانے شروع کردیے اور کرپشن جو پہلے منظم ھوتی تھی وہ سرعام ھونے لگی عوام پر حکمرانوں کے دروازے بند ھونے لگے وزراء,مشیران اور ممبرز قومی اسمبلی من مانیوں پر اتر آئے ھم حیران تھے کہ یہ وہی تحریک انصاف ہے جو اقتدار سے پہلے عوامی مسائل اور پاکستان کی ترقی کی بات کرتی تھی اور اپوزیشن کو کام نہ کرنے پر لتاڑتی تھی ایک دن ہم پاک چائینہ سینٹر گئے وہاں وزیراطلاعات و نشریات فواد چوھدری کا آفس تھا وہ تمام میل ملاقاتیں وہیں کیا کرتے تھے اور خاص کر حلقے کی عوام انہیں وہیں آکر ملتی تھی اس دن وہاں فواد چوھدری کے حلقے کی ایک بوڑھی خاتون اپنے تئیس چوبیس سالہ بیٹے کیساتھ صبح سے وزیر موصوف کے انتظار میں بیٹھی تھی خیر منسٹر صاحب باہر نکلے تو ان کے اسٹاف نے ترس کھاکر اس عورت کو وزیر صاحب سے ملوا دیا کہ سر یہ آپ سے ملنے کیلئے آئی ہیں فوادچوھدری نے اس بوڑھی عورت سے مخاطب ھوکر پوچھا کہ آپ کا کیا کام ہے اس نے کہا کہ بیٹا میں آپ کی منسٹری کے چکر لگا لگا کر تھک چکی ھوں آپ سے ملاقات ہی نہیں ھوتی فواد نے بے رخی سے کہا کہ کام کیا ہے؟
اس خاتون نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے جو گورنمنٹ ملازم ہے اور نائب قاصد ہے اسکی پوسٹنگ جہلم سے باہر ہے جسکی وجہ سے اسے آنے جانے میں بہت پریشانی ھوتی ہے آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس کی پوسٹنگ جہلم میں ہی کہیں کرادیں تاکہ میرا بیٹے کو آنے جانے میں پریشانی نہ ھو اور وہ میری آنکھوں کے سامنے رہے۔
بظاہر یہ ایک چھوٹا سا کام تھا اور اہم وفاقی وزیر کیلئے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا لیکن اقتدار کا نشہ اتنا برا ہے کہ وہ انسان سے اسکے حواس چھین لیتا ہے اور اسے کچھ نظر نہیں آتا فواد چوھدری نے سخت زبان استعمال کرتے ھوئے کہا کہ آئندہ ایسے کاموں کیلئے میرے پاس مت آنا اور پھر وہ اسٹاف پر غصہ ھوئے کہ اس کو میرے پاس آنے کیوں دیا۔ یہ ایک فواد نہیں تقریباً ساری تحریک انصاف کا یہی حال تھا اقتدار میں آنے کے بعد وہ بندے کو بندہ نہیں سمجھتے تھے اس شخص کو میڈیا نے بہت سپورٹ کیا لیکن اس نے اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا کا ہی گلہ گھونٹ دیا لاکھوں لوگ بیروزگار کردیے جب تک اقتدار میں تھا تو فوج اچھی تھی لیکن اقتدار ہاتھ سے جاتے ہی عمران خان اور تحریک انصاف نے فوج کو نشانے پر رکھ لیا اور ان پر جلسے جلوسوں میں کھل کر تنقید کرنا شروع کردی جس کا فائدہ انڈیا,اسرائیل اور امریکہ نے اٹھانا شروع کردیا۔
رجیم چینج کا نعرہ لگانے والا اپنے رہنماؤں کو واضح طور پر کہتا ہے کہ سائفر کے معاملے میں امریکہ کا نام نہیں لینا بلکہ امریکہ سے تعلقات بحال کرنے کیلئے انہوں نے امریکہ میں لابسٹ رکھ لیے تاکہ امریکہ سے تعلقات بحال کیے جاسکیں۔ آپ کہتے ہیں رجیم چینج امریکہ نے کروایا اور آپ کی حکومت گرادی پھر کھل کر امریکہ کا نام کیوں نہیں لیتے اور آپ نے امریکہ میں لابسٹ کیوں رکھا ہے کہ امریکہ سے تعلقات بحال کیے جائیں ایسا کیوں؟
عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد بھارتی وزیر راج ناتھ نے گلگت بلتستان میں انٹری کی بات کردی عمران خان کی جب پاک فوج کیخلاف تنقید بڑھی اور جھوٹ کے پلندے کھلنے شروع ھوئے تو مجبوراً ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو پریس کانفرنس کرنا پڑی کیونکہ یہ شخص نوجوان نسل کو پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کیخلاف اکسا رہا تھا اس پریس کانفرنس کے بعد بھارتی پروگراموں میں خوشیوں کے شادیانے بجائے جانے لگے اور بھارتی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کو کہتے سنا گیا کہ ھمارا آدھا کام تو عمران خان نے کردیا ہے اور اگر یہ شخص دس سال مزید اقتدار میں رہ جاتا تو ھمارا کام ھوجاتا۔ عمران خان شاید بھٹک گئے ہیں ان کی جماعت میں کچھ لوگ ان کی سیاست ختم کرنے پر تلے ہیں ان کیلئے یہی مشورہ ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ آپ اپنے بیانیے پر غور کریں بیشک آپ سیاستدانوں پر کھل کر تنقید کریں آپ کو کس نے روکا ہے لیکن خدارا ملک اور ملکی سلامتی داؤ پر نہ لگائیں آپ ایٹمی اثاثوں تک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں اس بیانیے سے باہر آجائیں اور ملک کی ترقی کی بات کریں۔ اس کے علاوہ میری نوجوانوں سے گزارش ہے کہ خدارا آپ آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے نہ بھاگیں سچ اور جھوٹ اچھے اور برے کی تمیز کریں پاک فوج کیخلاف کسی بھی کیمپئین کا حصہ نہ بنیں کیونکہ ھماری فوج ھماری سرحدوں کی محافظ ہے آپ بیشک جس کو سپورٹ کریں آپ کو کھلی آزادی ہے لیکن خدارا لہجوں میں شائستگی لازمی رکھیں اور گالم گلوچ بریگیڈ کا حصہ نہ بنیں یہ ملک بھی تمہارا ہے اور یہ فوج بھی تمہاری ہے کسی بھی فتنے کا حصہ نہ بنیں لانگ مارچ کے دوران کسی بھی متشدد کاروائی کا حصہ نہ بنیں کیونکہ آپ کی صفوں میں چھپا ملک دشمن اس کا فائدہ اٹھا کر کسی کی جان و مال کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑے گا آپ کسی کی جنگ میں خود کو مت جھونکیں ورنہ بعد میں پچھتائیں گے۔
اسکے علاوہ ایک بار پھر عمران خان سمیت تمام سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ خدارا فوج اور ریاستی اداروں کو متنازعہ نہ بنائیں کیونکہ یہ فوج اور یہ ادارے ھماری بقاء کے ضامن ہیں۔
آخر میں حکومت وقت سے گزارش ہے کہ لانگ مارچ کے شرکاء پر تب تک کسی بھی تشدد یا لاٹھی چارج سے گریز کریں جب تک ان کی طرف سے پہل نہ ھو۔
اس لانگ مارچ کے مقاصد یقیناً سیاسی ہیں جس کا مقصد اقتدار کا حصول ہے اس میں شرکت کرکے آپ کسی کے سیاسی مقاصد تو پورے کرسکتے ہیں لیکن ملک کی خدمت نہیں۔
اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں اور اس لانگ مارچ کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

خداوند کریم میرے ملک اور اسکے محافظوں کی حفاظت فرمائے اور ھمارے سیاستدانوں کو شعور عطا فرمائے کہ وہ کسی ذاتی مقصد کے حصول کی بجائے ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نے 8 مارچ کو مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاج کے باعث عورت مارچ انتظامیہ کو ناصرباغ، ایوان اقبال، الحمرا اور مال روڈ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.