اسلام آباد(مسائل نیوز) الیکشن کمیشن نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی فارن فنڈنگ کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی فارن فنڈنگ کیس مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی فارن فنڈنگ کیس سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے۔
چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کئی بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی فارن فنڈنگ کیس بھی سنیں جائیں۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 2 اگست کو سنایا تھا۔ کیس میں تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوگیا ، جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے شوکاز نوٹس جاری کیا۔ اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کمیشن مطمئن ہو گیا ہے کہ مختلف کمپنیوں سے تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں، اس لیے تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوگیا، غیرملکی فنڈنگ میں 34 غیرملکیوں سے فنڈز لیے گئے، پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاونٹس کی تصدیق کی، اس دوران 16 نامعلوم اکاؤنٹ سامنے آئے، اکاونٹس کو چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے، پی ٹی آئی نے آرٹیکل 17کی خلاف ورزی کی، پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا جو غلط تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جمع کروایا گیا بیان حلفی مس ڈکلیئریشن ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے سے معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 351 غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی، پی ٹی آئی نے 14 ممالک میں مختلف کمپنیوں کے ذریعے فنڈز وصول کیے، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، یواے ای اور آسٹریلیا میں سے فنڈز وصول کیے گئے، بھارت، فن لینڈ، فرانس اور جرمنی سے بھی کمپنیوں کے ذریعے فنڈز لیے، آئرلینڈ، سعودی عرب، نیدر لینڈ، اسپین اور سویڈن کی کمپنیوں کے ذریعے فنڈز لیے گئے۔
بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے دیگر 2 ممبران نثار احمد راجہ اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل بینچ نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2022ء کی دفعہ 6 کے تحت ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس 8 سال تک چلنے کے بعد آج فیصلہ سنایا گیا، الیکشن کمیشن میں تحریکِ انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس 2014ء سے چل رہا تھا، جو پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا، درخواست گزار نے بیرونِ ملک سے پارٹی فنڈنگ میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی تھی، اس دوران تحریک انصاف نے 30 مرتبہ کیس میں التوا مانگا اور 6 بار کیس کے ناقابل سماعت ہونے کی درخواستیں دائر کیں جب کہ الیکشن کمیشن نے 21 بار تحریک انصاف کو دستاویزات اور مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی اور سماعت مکمل ہونے پر پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ رواں سال 21 جون کو محفوظ کیا گیا تھا۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.