پولیس نے آرٹسٹک ملینرز ریپ کیس دبا دیا، متوفیہ بغیر پوسٹ مارٹم سپرد خاک
کراچی(مسائل نیوز)کورنگی پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے آرٹسٹک ملینرز ریپ کیس دبادیاگیا۔کورنگی صنعتی ایریا میں واقع فیکٹری کے قریب سے برآمد ہونے والی 3 بچوں ماں کی لاش بغیر پوسٹ مارٹم سپردک خاک کردی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون ہیروئن کا نشہ کرتی تھی، شبہ ہے کہ اسکی موت نشے کی زیادتی سے ہوئی،ایسی لاشوں کا پوسٹمارٹم نہیں کروایا جاتا۔
انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق جمعے کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ کورنگی صنعتی ایریا سے چند روز قبل ملنے والی 30 سال سے کم عمر خاتون کی لاش کو طبی وقانونی تقاضے مکمل کیے بغیر ورثا کے سپرد کردی گئی ہے ۔
لاش کی برآمدگی کی اطلاع نے سوشل میڈیا پران افواہوں کو جنم دیا تھا کہ کورنگی صنعتی ایریا کی فیکٹری میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھاتاہم پولیس حکام نے افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی یہ اعلان کردیا کہ متوفیہ کی موت منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہوئی ہے۔
پوسٹ مارٹم کے بغیر لاش ورثاکے حوالے کرنے کے اقدام نے نوجوان خاتون کی موت کی تحقیقات کے حوالے سے پولیس کے پورے رویے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ پوسٹ مارٹم کے بغیر موت کی اصل وجہ کا تعین کرنا ناممکن تھا کہ خاتون کو قتل کیا گیا ہے یا اس کی موت کسی اور وجہ سے ہوئی ہے ۔
ایس ایس پی کورنگی فیصل بشیر میمن نے ڈان کو بتایا کہ خاتون کی لاش، جس کی بعد میں شناخت عائشہ کے نام سے ہوئی، 30 اگست کو زمان ٹاؤن تھانے کی حدود میں میدان سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس نے کہا کہ ممکن ہے کہ اس کی موت”اوور ڈوز“ کے باعث ہوئی ہو لیکن بعض عناصر نےاپنے مذموم مقاصد کیلیے لاش کو صنعتی یونٹ سے جوڑکر نیا رخ دیدیا۔
ایس ایس پی فیصل بشیر میمن کا کہنا تھا کہ پولیس کو مددگار 15 پرلاش کی اطلاع ملی، جس پر متعلقہ ایس ایچ او پولیس ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، لاش کو مردہ خانے منتقل کرنے کے لیے چھیپا ایمبولینس کو طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دن بعد ورثا نے اس کی لاش کو شناخت کیا اور تدفین کیلیے لے گئے۔
پولیس کی جانب سے قانونی تقاضے پورے نہ کیے جانے سے متعلق سوال پر ایس ایس پی نے کہا کہ نشے کے عادی کی موت کی صورت میں پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا۔”ایسی لاشوں کو عام طور پر ایدھی یا چھیپا کے مردہ خانے منتقل کردیا جاتا ہے جہاں وہ انہیں کچھ دن تک رکھتے ہیں اور پھر لاوارث لاش کے طور پر اپنے قبرستان میں سپردخاک کردیتے ہیں۔“
ایس ایس پی نے بتایا کہ متوفیہ کا خاندان قیوم آباد میں رہائش پذیر ہے اور انہوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ ہیروئن کے نشے کی عادی تھی۔
زمان ٹاؤن کے ایس ایچ او ہمایوں احمد خان نے بتایا کہ خاتون نے منظور کالونی میں کسی سے شادی کی تھی جس سے اس کے تین بچے ہیں۔ اپنے پہلے شوہر سے علیحدگی کے بعد اس نے عدنان نامی شخص سے شادی کر لی جو نشے کا عادی تھا۔ عدنان نے عائشہ کو بھی نشے کا عادی بنادیا اور بعدازاں دونوں میدان کے اسٹیڈیم میں رہنے لگے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خاتون کی موت کے تین یا چار دن بعد اس کے والد اور بھائی مردہ خانے پہنچے اور لاش کوشناخت کرلیا ۔
ایس ایچ او نے شبہ ظاہر کیا کہ شایدخاتون کی موت نشے کی زیادتی سے ہوئی ہے۔انہوں نے یہی کہا کہ منشیات کے عادی افراد کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا جاتا اسی وجہ سے انہوں نے اس کیس میں بھی پوسٹ مارٹم کروانا ضروری نہیں سمجھا، اس کے علاوہ وہاں مقیم کئی گواہ ایسے تھے جو جانتے تھے کہ وہ منشیات کی عادی تھی ۔