اسلام آباد (مسائل نیوز) وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کی قیادت کیخلاف مختلف اقدامات پر غور شروع کردیا۔سابق وزیراعظم عمران خان،سابق وزیر خزانہ شوکت ترین اور دیگر کیخلاف مختلف آئینی و قانونی شقوں کا شکنجہ کسنے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف آئینی و قانونی لحاظ سے گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف پاکستان پینل کوڈ 406 کے تحت کارروائی پر غور کیا جارہا ہے،پاکستان پینل کوڈ کی شق 406 خیانت مجرمانہ کے مرتکب شخص کے خلاف کارروائی کا اختیار دیتی ہے۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینیٹر کے حلف کے دوران خیبرپختونخوا اور پنجاب کے صوبائی وزرائے خزانہ کو وفاقی وزارت خزانہ سے عدم تعاون کا مشورہ دیا۔
آئین کے آرٹیکل 63 کی شق جی کے تحت نظریہ پاکستان،اقتدار اعلٰی،ملکی سالمیت اور سلامتی کے ساتھ مسلح افواج و عدلیہ کے تقدس کو تحفظ فراہم کیا گیا۔
- Advertisement -
وفاقی حکومت سابق وزیر خزانہ کے اس اقدام کو ان کے حلف سے روگردانی قرار دیتی ہے۔ ادھر خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے پر توہین عدالت کیس میں عمران خان نے نئی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی،عمران خان کی جانب سے تحریری دلائل جمع کرانے کی متفرق درخواست دائر کی گئی۔ عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ سوموٹو ہائیکورٹ کا اختیار نہیں ہے،توہین عدالت کیس ناقابل سماعت ہونے پر دلائل کو ریکارڈ پر رکھا جائے۔
تحریری دلائل کی وضاحت سماعت میں زبانی دلائل میں بھی کی جائیں گی۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت توہین عدالت کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنا نیاجواب جمع کرادیا، نئے جواب میں بھی عمران خان نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
[…] آباد (مسائل نیوز) خاتون جج کیخلاف دھمکی آمیز بیان پر عمران خان کا بچ نکلنا مشکل ہے۔ ماہر قانون […]
[…] نیوز) تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی […]