پی ٹی آئی کا امپورٹڈ رکن
تحریر: کنول زہرا
تحریک انصاف کے چیف آف اسٹاف شہباز گِل کا مُسلح افواج کے خلاف بیان, قابل مذمت,باعث شرمندگی, ملک کی سلامتی کے برعکس اقدام, پاک فوج میں بغاوت، تقسیم اور سازش کرنے کی وہ گھناونی کوشش ہے جس میں وہ یا ان جیسی خواہش رکھنے والا الله کے فضل سے کبھی کامیاب تو نہیں ہوگا البتہ بے نقاب ضرور ہوا ہے. چیئرمین تحریک انصاف نہ جانے کیوں بہت سی باتوں کی طرح یہ بات بھی سمجھنے سے عاری ہیں کہ تحریک انصاف کو جتنا نقصان شہباز گل نے پہنچایا ہے اتنا کسی نے نہیں پہنچایا, کہا جاتا ہے انہوں نے پی ایچ ڈی کیا ہے, امریکہ کی یونیورسٹی میں شعبہ تدریس سے وابستہ رہے ہیں مگر ان کا انداز تخاطب بے حد اخلاقی پستی کا عکاس ہے, چند روز قبل ایک بار پھر شہباز گل نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور اب کی بار تو انہوں نے ساری حدیں ہی پار کر دیں, پاکستان تحریک انصاف کے امپورٹڈ رکن شہباز گل جو پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف بھی ہیں, انہوں نے پاک فوج میں تقسیم پیدا کرنے کی بے شرم کوشش کی, انہوں نے بریگیڈئیر , کرنل, میجر, کپٹین, سکینڈ لیفٹینٹ کا رینک رکھنے والوں کو اپنی سیاسی جماعت سے منسلک ہونے کو کہا, یعنی انہوں نے فوج کو سیاسی کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا, قوم جانتی ہے کہ پاک فوج کا ایک ایک سپاہی صرف اور صرف ملک و قوم کی محبت اپنے دل میں رکھتا ہے, وطن کے سپوت کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے دفاع کا نہیں بلکہ ملک و قوم کی حفاظت کا حلف
اٹھاتے ہیں,۔
عمران خان بہت سی سازشوں کی بات کرتے ہیں, کیا وہ قوم کو شہباز گل کے بیان کے پیچھے پوشیدہ کسی سازش کا راز قوم کو بتائیں گے?
کیا عمران خان بتائیں گے کہ امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر کا متنازعہ بیان کس بیرونی سازش کا حصہ ہے?
کیا عمران خان قوم کو یہ بتائیں گے کہ کس سازش کے تحت پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا مجائدین نے پاک فوج کے شہیدوں پر نازیبا ٹوئیٹ کیے?
گذشتہ پانچ ماہ سے عمران خان اور ان کی جماعت پاک فوج پر براہ راست جو حملے کرکے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے وہ کس سازش کا حصہ ہے?
پی ٹی آئی 5 ماہ سے فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کر نے کی کوشش کر رہی ہے, جس کا عکاس ان کے زیر انتظام ٹوئٹر اکاونٹس اور ان کے جلسوں میں کی گئیں تقاریر کے ساتھ, پلے کارڈز پر درج وائیات نعرے بازی ہے
شہباز گل نے بھی اپنے متنازعہ بیان میں فوج اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی، اور ساتھ ہی دھمکایا کہ اگر آپ نے یہ بغاوت یا جنگ نہ لڑی تو پاکستان ہندوستان امریکہ کی کالونی بن جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے امپورٹڈ رکن
شہباز گل نے یہ ہی نہیں بلکہ اپنے تئیس مزید پاک فوج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ جب بندہ نوکری کر رہا ہوتا ہے، حکم ماننے پڑتے ہیں لیکن آپ نے حکم مانتے ہوئے یہ ضرور دیکھنا ہے کہ آپ کی حب الوطنی تو کہیں لائن پر تو نہیں آگئی,آپ غداری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے، آپ ایک غیر آئینی، غیر قانونی حکم کو نہیں مان رہے، آپ ایک ایسا حکم تو نہیں مان رہے، جس حکم کے ماننے کی وجہ سے آپ اپنے ملک کے دفاع کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
۔ دفاع صرف سرحدوں پر جا کر آپ نے بندوقوں کے ساتھ نہیں کرنا۔ ففتھ جنریشن وار ہے، اب ملکوں کو اندر سے توڑا جاتا ہے, یعنی پاک فوج کو وہ حب الوطنی سیکھا رہا ہے جو امریکہ کا بھی شہری ہے,
شہباز گل نے انتشار کو مزید ہوا دیتے ہوئے عوام کو سول وار کی جانب اکسانے کی مزید کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر پاکستان کی پوری قوم نے یہ جنگ اپنی سڑکوں پر چوکوں پر، گرلز، بوائز کالجز، یونیورسٹیز، ہسپتالوں ہر جگہ پر آکر نہ لڑی تو ہم ہمیشہ کے لیے ہندوستان اور امریکہ کے اثر و رسوخ میں چلے جائیں گے، ہم ایک خوددار ملک نہیں رہ پائیں گے, یہ جنگ کسی ٹینک، ہیلی کاپٹر، جنگی جہاز، بارود گرنیڈ اور میزائل سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے لڑی جاتی ہیں, اس وقت بیانیے کی جنگ جاری ہے، ہمارے ملک کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہماری خود داری ہے۔پی ٹی آئی کے امپورٹڈ رکن کے بیان کا وزن اتنا بھاری ہے کہ تحریک انصاف نہ اسے
Own
کر پا رہی ہے اور نہ ہی
Disown
کر رہی ہے, شہباز گل کی اس زہر فشانی نے عمران خان کو بند گلی میں داخل کر دیا ہے, یوں لگتا ہے جیسے یہ ہے وہ سلو پوائزن جس کا ذکر چند روز قبل عمران خان نے کیا تھا, جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے کھانے میں زہر دیا جاسکتا ہے, الله خان صاحب کو صحت دے مگر جس قسم کا زہر کا انجکشن شہباز گل نے پی ٹی آئی کو لگایا ہے, وہ کافی خطرناک ہے, جس کے سدباب کے لئے عمران خان کو سوچنا ہوگا.
سیاسی جماعتوں کا منجن فروخت کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ ملک کے لئے شخصیات نہیں بلکہ ادارے اہم ہیں, شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں ادارے وہی رہتے ہیں, ریاست اور اداروں کا مستحکم ہونا بہت ضروری ہے تاکہ پاکستان خوشحال اور سلامت رہے الہی امین