اسلام آباد (مسائل نیوز) تحریک انصاف کے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا معاملے پر اراکین کے استعفوں پران کے دستخطوں کی تصدیق کی جائے گی، ہر رکن کو اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفے کی تصدیق کرنا ہو گی،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے حکم پر تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا۔92نیوز کے مطابق پہلے مرحلے میں تحریک انصاف کے اراکین کے استعفوں پر ان کے دستخطوں کی تصدیق کی جا ئے گی کچھ اراکین کے استعفوں پر دستخط اور رول آف سائن پر دستخط مختلف ہیں۔
ایسے اراکین کو بلا کر دستخطوں کی تصدیق کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں ہر رکن کو اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفی کی تصدیق کرنا ہو گی۔ ذاتی طور پر تصدیق کےلیے بلانے کا عمل عید کے بعد شروع ہو گا۔
- Advertisement -
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی طلبی کا نوٹس جاری ہو گا،عمران خان کو وسط مئی میں سپیکر اپنے پاس بلائیں گے،جو رکن اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر رضاکارانہ طور پر استعفی کی تصدیق نہیں کرے گا اس کا استعفی قبول نہیں ہو گا۔
چند روز قبل قاسم سوری نے پاکستان تحریک انصاف کے 123 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کر لئے تھے ۔قاسم سوری نے کہا ہے کہ 123 اراکین اسمبلی کے استعفے ضابطے اور رولز کے تحت منظور کیے گئے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے استعفے منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے 123 اراکین اسمبلی کے استعفے قومی اسمبلی کے قائمہ مقام اسپیکر قاسم سوری نے منظور کر لئے ہیں۔
اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے باقائدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے ۔انہوں نے کہا تھا کہ استعفوں کی منظوری کے باعث ملک میں عام انتخابات ناگزیر ہوچکے ہے۔خیال رہے کہ تحریک انصاف کے اراکین کے استعفوں کی منظوری کے معاملے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری آمنے سامنے آگئے تھے اور اسمبلی سیکرٹریٹ نے اراکین کے ذاتی طور پر استعفوں کی تصدیق کے لئے پیش نہ ہونے تک منظوری سے انکار کر دیا تھا ،ذرائع کے مطابق عمران خان سمیت قاسم سوری کو تحریک انصاف کے 120 سے زائد اراکین کے استعفے موصول ہوئے کہ وہ رکن قومی اسمبلی کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں ،قاسم سوری نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ شعبے کو ہدایات جاری کیں کہ ان اراکین کے استعفے منظور کر کے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور الیکشن کمیشن کو بھجوادیا جائے تا کہ وہ ان کی نشستیں خالی قرار دے تاہم ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے استعفوں کی مکمل جانچ پڑتال اور تصدیق کے بغیر ان کی منظوری سے انکار کر دیا ہے اور کہا کہ ہر رکن قومی اسمبلی نے ایک ہی قسم کے فارمیٹ پر استعفا دیا جس سے شکوک وشبہات پیدا ہوئے ،ہر مستعفی رکن کو ذاتی طور پر تصدیق کے لئے بلایا جائے گا،استعفا اس کے ہاتھ سے لکھا ہو یا ٹائپ شدہ ہو اس کی تصدیق لازمی ہے ورنہ استعفا منظور نہیں ہوگا۔
رکن سے یہ بھی پوچھا جائے گا اس نے استعفا اپنی مرضی سے دیا ہے یا دباؤ میں آکر دیا ہے۔