MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

علمی مجالس کا قیام و اس کی اہمیت

0 304

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحرید = فرید بگٹی

رسول معظّم ﷺ نے جس طرح نوجوان اصحابِ کرام کی تربیت کی جس طرح انہیں علم کے گوہر سے آشنائی دی قابلِ احترام و قابلِ رشک ہونے۔کے ساتھ ساتھ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ ایک سحرا میں اترے شخص نے جاہلیت کے نچلے طبقے میں رہنے والوں کو دنیا کی حکمرانی کیسے دی اور انہی سے دنیا کو بہترین تہزیب روشناس کروا دی رسول امیں ﷺ کی زندگانی میں کافی مشکلات آئے خاصکر کسی انسان کو اس کی صدیوں پر محیط تاریخ سے روگردانی سکھا کر حقیقی تاریخ اور حقیقی انسانیت کے طرف لانا اور انہیں دنیا کے بہترین طرز پر زندگی گزارنے کے سلیقے دینا یہ انتہائی مشکل ہے آپ آج کے زمانے۔کو تصور کریں کہ جدیدیت رگ رگ میں بسی ہوئی ہے منتق کے۔انبار لگے ہوئے ہیں سوچنے کی صلاحیتیں اب چودہ سو سال پہلے کی طرح نہیں بلکہ ہر زوایئے سے سوچنے۔کا ہنر اور پرکھنے کی چاہ رائج ہوچکی ہے لیکن اس دنیا میں بھی آپ کے نقطہ نظر سے شاہد ہی کوئی اتفاق کرے بھلے آپ حق پر ہوں لیکن سوچئے اس زمانے میں ایک ہی ہستی نے تئیس برس کے اندر اندر پوری دنیا۔کو اپنے۔نظریے پر قائل کردیا اس کی ایک ہی وجہ ہے جو میرے لئیے قابلِ فہم ہوئ کہ رسول امیں ﷺ کی مجلسیں علم ہی کی مجالس ہوا کرتے تھے جس کی وجہ سے عرب کے جاہلوں میں سے کوئی ابو بکر صدیق بنا کوئی عمر فاروق بنا کوئی عثمان غنی تو کوئی علی بنا یہ ایک مثال دیکر اپنا نقطہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ علم کی فروانی کس طرح تشکیل نوح کیلے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے

ترمذی شریف کے ایک حدیث میں روایت ہے کہ محفل نبیﷺ سجی ہوئی ہے اور اصحابِ کرام سرورِ دوعالم ﷺ کے انجمن میں بیٹھے دیدار کا شرف حاصل کررہے ہیں کہ پیارے نبی ﷺ فرمانے لگتے ہیں کہ اے لوگوں جب جنت سے گزرو تو خوب چرا کرو اس پر ایک صحابی نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ جنت کے باغوں سے کیا مراد ہے ؟ آپﷺ فرماتے ہیں کہ علم کے مجلس جنت کے باغ ہیں جب علمی مجلس میں بیٹھو تو خوب چرا کرو اور ایک جگہ درج ہے کہ حلقہ ذکر ہے جب ذکر میں بیٹھو تو خوب ذکر کرو اللہ کی اس کی تعریف کرو اس کی حکمتوں اور رحمتوں کا تزکرہ کرو اور خوب سیکھو

- Advertisement -

حضور ﷺ کی آمد کے موقع پر کوئی درسگاہیں تو نہ تھی اور نہ ہی کوئی تہزیبی اخلاقی علم رائج تھا کہ جس سے سیکھا جاسکتا آپ ﷺ نے آتے ہی اپنی گفتار و اقوال سے درس دینا شروع کردیا آپ ﷺ نے علم کے وہ خزانے بکھیر کر۔رکھ دئیے کہ اہل عرب آپﷺ کے محفل میں کھنچے چلے آتے انہیں اس طرح آپ کے اقوال و مجالس سے علم ملا معرفت ملی تہزیب و ہنر و ادب سے آشنا ہوئے گویا چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے اس شہر۔کی لٹریسی ریٹ نے پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے لیا اس کے پیچھے بڑے بڑے یونیورسٹیاں اور کتابیں اور بڑے دانشوروں کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ مصطفیٰ ﷺ کی مجلس تھی ان کا گفتار تھا ان کا کردار تھا عرب سحرا و نخلستان سے نکل کر دنیا پر حکمرانی کرنے لگ گئے اسی خصوصیت کو لیکر مشہور کتاب THE HUNDRED( سو عظیم آدمی) میں مصنف مائیکل ہارٹ عیسائی ہونے کے باوجود پیارے نبیﷺ کو سر فہرست میں جگہ دینے پر مجبور ہوگئے ان سے جب پوچھآ گیا تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ کس دانشمندی سے اپنے موقف پر دنیا۔کو قائل کردیا تیئس برس میں علم و حکمت کا وہ شمع روشن کیا کہ اندھیر دہر پھر سے روشن ہوئے گویا کہ اس دنیا۔کو ایک نئی زندگی مل گئ

آپﷺ کے علمی مجالس کس طرح ہوا کرتے تھے اور کیسے ایک مجلس کی رونق اور مجلس میں یکانیت پیدا کی جاسکتی ہے یہ حضور کریمﷺ کے مجلس سے معلوم ہوتا ہے حضرت جابر بن سمرا فرماتے ہیں کہ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کبھی حضور اکرم ﷺ کے مجلس میں بیٹھے ہیں ؟ مطلب یہ تھا کہ کبھی انہیں قریب سے دیکھا ہے ان کی عاداتِ طیبہ ان کے خصائل مبارک ان کا اخلاق مبارک کبھی دیکھا ہے۔۔؟

اس روایت میں ہے کہ اگر کوئی اصحابِ کرام شاعری کرتے ایک دوسرے کو شاعری سناتے تو آپ ﷺ تبسم فرماتے حالنکہ آپ ﷺ نہ شاعر تھے اور نہ ہی۔شاعری کرتے تھے اور نہ ہی۔شاعری سے آپ کو کوئی شغل تھا اس بات کی تصدیق قرآن پاک میں فرما دی گئ لیکن اگر کوئی اصحاب آپ کے مجلس میں شاعری کرتا یا اپنے دور جاہلیت کے کسی واقعہ کا تزکرہ کرتے یا اپنے دور جاہلیت کے کسی احمقانہ عمل کو۔یاد کرکے ہنستے تو آپﷺ بھی تبسم فرماتے ان کے ہنسنے میں شریک ہوجاتے خود کو ان سے disassociat نہیں کرتے بلکہ ان کے خوشی میں شریک ہوجاتے وہ اگر شعر و شاعری کریں حآلنکہ حضور کریم کا اس سے کوئی سروکار نہیں لیکن پھر بھی مجلس کے آداب کے خاطر ان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کرتے کہ یہ کیا پڑھ رہے ہو بلکہ ان کے ساتھ مانوسیت ظاہر کرتے اور ان کے ساتھ مسکراتے تاکہ وہ جو کچھ کررہے ہیں اس کے اندر میرے ساتھ اپنایت محسوس کریں اور دیکھیں کہ میں بھی خوشی محسوس کررہا ہوں اور ان کے خوشی میں شریک مسکرا رہا ہوں
آپ ﷺ کے مجالس stress free ہوا کرتے تھے کوئی بوجھ و خوفزدگی کا عالم نہیں ہوتا تھا اس حوالے سے زید بن ثابت سے مروی ہے ابو شیخ الاصبحانی روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے مجلس میں اگر کوئی شخص آخرت کی بات کرتا دوزخ جنت و روز محشر کے احوال پر تزکرہ کرتا تو حضور اکرمﷺ بھی آخرت کے ہی موضوع پر گفتگو فرماتے اور اگر کوئی صحابی دنیاوی باتیں کرتا یعنی تجارت کروبار تعلیم گھریلو مسائل وغیرہ تو آپ ﷺ بھی اسی موضوع پر لب کشائی فرماتے اور اگر کوئی کھانوں کا تزکرہ کرتا کہ کھجوروں کے اقسام و تازگی پر یا روایتی کھانوں کا ذکر کرتا تو حضور اکرمﷺ بھی۔اسی۔موضوع پر روشنی ڈالتے یعنی مجلسِ میں جو بھی جائز بات کرتے آپ ﷺ بھی ہمارے ساتھ شریک ہوجاتے ہمارے اور اپنے درمیان یا ہماری بات اور اپنی چاہت و پسند کے درمیان فاصلہ قائم نہیں کرتے تھے ہمارے موضوع کے ساتھ شریک ہوجاتے تھے انسانی جزبات و احترام کا اتنا خیال رکھتے کہ ہر شخص مانوسیت محسوس کرتا اور خوشی محسوس کرتا
ہمارے علمی حلقوں و علمی مجلسوں کا طریقہ کار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ سیکھنے اور سمجھنے میں شرم محسوس نہ ہو آداب و احترام دوستی اور محبت کے لباس میں زیب تن ہو تاکہ سیکھنے اور سکھانے والے کے درمیان کسی قسم کا کوئی فاصلہ قائم نہ رہے

رسول امین ﷺ کی گفتار سے جس طرح دنیا علم کی زیور سے آراستہ ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی آپ کے اس خوبصورت ہنر پر شیخ بغداد حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں کہ علم کتابوں سے حاصل نہیں ہوا کرتا بلکہ مردوں کے منہ سے حاصل ہوا کرتا ہے۔وہ مرد کون مردانِ خدا، متقی، تارکُ الدنیا، وارثِ انبیاء، صاحبانِ معرفت، با عمل اور مخلص بندے
یعنی علم حاصل کرنے۔کا۔ایک راستہ اہل حق و اہل معرفت کی زبان بھی ہے جسے بطور درسگاہ لیا جائے تو کوئی مزاحقہ خیز نہ ہوگا بزرگانِ دیں یہ فرماتے ہیں کہ اپنے گھرؤں کے بزرگوں کے ساتھ بیٹھا کریں انہیں اپنا وقت دیں انہیں بولنے کا موقع دیں تجسس قائم رکھیں جستجو کو علمی سطروں میں لپیٹا کریں کیونکہ یہ بزرگ لوگ زندگی کے کئی مشکلات سے گزرے ہوئے ہوتے ہیں یہ تمہیں معاشرتی اخلاق کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل سے کس طرح نبردآزما ہونا ہے بتائیں گے انہیں اپنے پاس نقش کرلیں ان کی بتائے ہوئے رازوں سے اپنی زندگی کی چال چلن میں تبدیلی لانے کی کوشش کیا کریں ان سے کچھ سیکھ کر زندگی کی طرزعمل کو بہتر بنانے۔کی جدوجہد کیا۔کریں آپ۔یقین جانیں اس زبان سے جاری علم نے جاہلوں کو عآلموں کے درجے پر فائز کردیا
صرف درسگاہوں اور کتابوں کے حدتک رہنا آپ اپنے فہم و ادراک اور سوچ میں وسعتیں پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی آپ کو علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کا موقع فرآہم کرسکتا ہے یہاں حضرت سلطان باھو ؒ فرماتے ہیں کہ علم کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا کہ راہِ وصل میں یہ درسی علم کسی کام کا نہیں…اس لیے اسرارِ معرفت اہلِ مدرسہ سے طلب نہ کر کہ کیڑا کتاب کھا کر بھی نکتہ دان نہیں بن سکتا… جب تک علمی مجلسوں میں بیٹھنے اور اہل علم کے ساتھ نشستوں میں کثرت نہیں ہوگی آپ کی فکری صلاحیتیں کبھی پروان نہیں پاسکتی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں وسعت نہیں آسکتی گو کہ کسی خاص دائرے کے اندر زندان میں کوئی قید ہو
ہمارے سماج میں معاشرتی اصولوں کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ہمارے مجالس ہوٹلوں کی زینتوں اور موبائل کی دنیا میں بند ہوکر رہ گئی ہیں اب دوستوں میں وہ جستجو کا لگن نہ رہا اب خودغرضی کا یہ عالم ہے کہ عالمی درپیش مسائل پر خود کو ایسے واحدت میں دکھیل دیتے ہیں کہ گویا ہمیں تو عالمی مسائل سے کوئی مسئلہ نہیں میرا کوئی لینا دینا نہیں شاہد ہمیں خبر نہیں کہ یورپ اور امریکہ میں ہونے والی معاشی تبدیلی تمہارے ہاتھ میں لئیے چائے کے کپ کی قیمت پچاس سے بڑھا کر سو رویے تک کرسکتا ہے ہمیں اپنے مفادات کا علم۔رکھنا ہوگا تاکہ ہمارے مجلسوں میں علمی نقاط زیر بحث رہیں فکر اور جستجو ہی نئی علمی راہیں دریافت کرنے کیلے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں .
نوجوان طلباء و طالبات اپنے اردگرد علمی حلقوں کے قیام کیلے کوشاں رہیں بعینہ ایسے ہی جیسے کالج یونیورسٹی امتحانات نزدیک ہونے پر combine study کا اہتمام کیا جاتا ہے ایسے حلقے وقتی طور پر ضروری ہوتے ہیں لیکن مستقل علمی مجلسوں کا اہتمام کرنا ناگزیر سمجھنا چاہیے علمی مکالمے و تجدید علمی مجلسیں ہی انسان کو ادب و احترام بولنے سیکھنے سمجھنے اور analysis کرنے کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے میں شائستگی اور کسی دوسرے کے نقطہ نظر کو۔سمجھنے اور اپنا بیانیہ بغیر کسی تشنیع کی نیت کے بیان کرنے کا ہنر و سلیقہ بخشتا ہے جو اس معاشرے کیلے انتہائی اہم ہے نوجوانوں کے حلقے و حلقہ احباب اگر علمی اور تجربہ کار شخصیات کے گرد ہوں تو ایسے جوان کسی بھی معاشرے میں علمی نقاط کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر بیان کرنے میں انتہائی شائستگی کا مظاہرہ کرتے معلوم ہوسکتے ہیں جو ایک صحت مند معاشرے کی نوید ثابت ہوسکتی ہے اور اگر ہم علمی و فکری مجالس کے۔قیام و نوجوانوں کے اندر فکری مجالس پر دلچسپی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہم ایک قوم بننے کے طرف پہلا قدم بڑھا سکتے ہیں اور یہی اصول ہمیں ہمارا کھویا ہوا مقام واپس دلوا سکتا ہے کتابی و درسی تعلیم چراغِ راہ کے طور پر ثابت ہورہے ہیں لیکن یہ چراغ اپنے اندر اتنی ایندھن نہیں سما۔پاتی کہ تمہیں کسی منزل پر پہنچا دے وجہ یہ کہ درسی نظام علمی خوبصورتی سے کوسوں دور ہیں کیوں لفظوں میں درد احساس اور خوشی محسوس کرنا مشکل ہے جس قدر آسان الفاظ کی ادائگی و لہجے میں ہے یہ ادائیگی یہ لہجہ علمی و فکری مجلس سے ہی آخز کئیے جاسکتے ہیں جہاں علم دینے اور علم لینے کے طریقہ کار و ضوابط سیکھے جاسکتے ہیں جہاں لہجے میں نرمی و گفتار میں شائستگی سیکھی جاسکتی ہے ہم نوجوانوں کو اب اشد ضرورت ہے کہ بےوجہ کی محفلوں کے بجائے ادبی و علمی مجالس کا اہتمام کریں تاکہ ہم ایک صحتمند معاشرے کے قیام کے طرف بڑھ سکیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.