لاہور (مسائل نیوز) پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر حملہ کیا گیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی نشست کا گھیراؤ کر لیا۔دوست مزاری کو دھکے دئیے گئے اور لوٹے مارے گئے۔حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر پر لوٹے اچھالے۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدنظمی کا شکار ہو گیا۔صورتحال بگڑنے پر سیکیورٹی طلب کر لی گئی جب کہ سیکیورٹی اہلکار ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو اسمبلی سے باہر لے گئے۔
۔ خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کے 16اپریل کو ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ۔ایجنڈے کے مطابق اجلاس میںآئین کے آرٹیکل 130کے تحت قائد ایوان کا انتخاب ہو گا۔
- Advertisement -
پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے ( ہفتہ) کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ہونے والی ووٹنگ کے موقع پر محکمہ داخلہ نے فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق قائد ایوان کے چناؤ کے پیش نظر رینجرز کو طلب کرلیاگیا ، پولیس کے ہمراہ رینجرز کے جوان بھی ڈیوٹی دیں گے ۔پنجاب اسمبلی کے اردگرد500میٹر تک دفعہ 144لگادی گئی ۔
سیاسی ورکرز اسمبلی کے 500میٹر کی حدود میں اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔اسمبلی کے اطراف 4 سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہوگی ۔مال روڈ یا دیگر کوئی راستہ بند کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی ۔ورکرز کو اسمبلی کے راستے میں اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ مدمقابل ہیں۔ مسلم ق لیگ کے رہنما پرویز الہیٰ نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر کہیں اور سے ہدایات لینے کا الزام عائد کر دیا۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن میں کسٹوڈین نہیں ہوں، وزارت اعلیٰ کا امیدوار ہوں، کوشش کریں گے وزیراعلیٰ کا انتخاب شفاف ہو لیکن شفاف الیکشن پر شہبات ہیں۔