تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کے اثرات
تحریر:محمّد شہزاد بھٹی
یہ ایک حقیقت ہے کہ طاقتور طبقہ بھی اب حالات کے جبر کا شکار ہو چکا ہے اور سیاستدان بے بسوں کی مجبوری اور بے بسی بھانپ چکے ہیں۔ یقینا اس دیوالیہ اکانومی میں کوئی سیاستدان بھلے وہ نواز شریف ہو، زرداری ہو یا کوئی اور حکومت سنبھالنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ سیاستدان اور سیاسی جماعتیں عوامی رائے سے چلتی اور فیصلے کرتی ہیں۔ عدلیہ، میڈیا اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ، سب کے سب عوامی کٹہرے میں کھڑے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں نے اگر عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تو وہ بغیر کسی کے اشارے پر پیش ہو گی۔ تحریک کامیاب ہو گئی تو سیاستدان آئندہ الیکشن اپنی مرضی سے کرائیں گے اور آئینی ترامیم بھی کریں گےاور پھر ووٹ کو عزت بھی ملے گی۔ اگر تحریک عدم اعتماد اگر ناکام ہو گئی
تو سیاستدان پہلے کی طرح سیاست کرتے رہیں گے۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو پہلے کی طرح عوامی کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے۔ اس وقت جو حالات بن گئے ہیں اسٹیبلشمنٹ نامی جن کے پاس نگلنے اور اگلنے کیلئے کچھ بھی نہیں بچا۔ اگر وہ عمرانی سوغات کو پہلے کی طرح تحفظ دیتے ہیں تو عوامی عدالت میں الزام تراشیاں جاری رہیں گی۔
- Advertisement -
ملکی اكانومی مزید تباہ و برباد ہوتی رہے گی۔ تحریک عدم اعتماد میں عمرانی سوغات کی مدد نہیں کرتے ہیں تو ہمیشہ کی بادشاہت ہاتھ سے جاتی ہے۔اپوزیشن کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کھونے کیلئے داخلہ اور خارجہ بے پناہ کارپوریٹ مفادات ہیں۔ نئے الیکشن میں ایک سال اور چند ماہ باقی ہیں۔ الیکشن سے پہلے نئے آرمی چیف کو آنا ہے یا موجودہ کو مزید توسیع ملے گی۔ نقصان سیاستدانوں کا نہیں ان کا ہے جو مالکان ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں موجودہ دور مستقبل کے پاکستان کی نقشہ گیری کا دور ہے۔ سیاستدان یہ کٹھن دور گزار لیں گے۔
یاد رکھیں جس دن چوہدری برادران اور ایم کیو ایم سمیت دیگر پالتو سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ہو گیا کہ طاقتور کمزور ہو گئے ہیں وہ اسی دن رسیاں تڑوا کر بھاگ نکلیں گے۔ شہباز شریف اگر چوہدری برادران سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو یہی احساس دلانے کیلئے کرتے ہیں طاقتور کمزور ہو گئے ہیں رسیاں تڑوا کر بھاگو۔ پیپلز پارٹی کے قاصد اگر ایم کیو ایم والوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں تو یہی سمجھانے کیلئے کرتے ہیں بھاگو۔ مستقبل قریب میں ہم نہیں سمجھتے کوئی سیاست دان تباہ اکانومی کے اس سمندر میں آ کر ڈوبنے کا فیصلہ کرے گا۔
اگر نواز شریف، زرداری یا کسی اور نے ساڑھے تین سال تک کاندھا دینے کی باوجود اگر اب چکمہ دیا یا بے وفائی کی تو مستقبل قریب میں اسٹیبلشمنٹ نامی دیو ان کو بھی کوئی اپنا کاندھا انہیں نہیں دے گا۔ تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب ہو جاتی ہے تو بوری میں سوراخ ہو جائے گا اور پھر انکشافات کے سلسلے شروع ہو جائیں گے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیاب ہونے پر تبدیلی کی ناکامی کا بلند و بانگ اعلان ہو گا اور تبدیلی کے مالکان کو ناکامی کا جواب دینا ہو گا۔ اگر ناکام ہو گئی تو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا پہلے بھی چیرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تھی۔ بدنامی جن کی پہلے ہوئی تھی اب بھی انہیں کی ہو گی، سیاستدان کل بھی معصوم اور مظلوم بن گئے تھے ایک مرتبہ پھر معصوم شکل بنا کر میڈیا پر، جلسے جلوسوں میں پھر وہی رونا پیٹنا جاری رکھیں گے۔