MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سرگودھا سات تحصیلوں کا ضلع ، تحریر:عابد شاہ سرگودھا

1 696

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

سات تحصیلوں کا ضلع اور پولیس۔۔۔۔۔سرگودھا اپنے محل وقوع۔۔زراعت۔۔دفاع پاکستان۔۔تعلیم۔۔صحت اور صنعت و حرفت کےاعتبار سے نہائیت اہم ضلع ہیے۔۔۔۔لیکن یہاں صورت حال دیگر علاقوں کی طرح پولیس اور عوام کی ایک جیسی ہیے۔۔۔۔عوام پولیس کیلیئے اور پولیس عوام کیلئے نیک جذبات سے عاری ہیں۔۔۔۔پولیس کے ایک اہلکار سے جب ذکر کیا گیا تو فرمانے لگے جناب ہم جب گھر سے نکلتےہیں تو پہلے عوام کو ایک سو گالی دیکر نکلتے ہیں۔۔۔عدم اعتماد کی اس فضا میں پولیس یا عوام دونوں سے کسی حوالے سے نیک امید لگائے رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہیے۔۔۔۔ایک سے ایک لائق فائق۔۔ذہین و فطین اور قابلیتوں کے تمغے لیے افسران تعینات ہوتے ہیں اور پولیس کواپنی دانش و تجربہ مطابق جرائم کی سرکوبی خاطر نئی صفبندی کرتے ہیں لیکن نتائج صفر ہی ہوتے ہیں۔

۔پولیس کا عوام کے بغیر یوں اپنی صفوں کا درست کرنا ایسا ہی ہیے جیسا پاک و ہند کشمیریوں کو شامل۔کیے بغیر کشمیر کا مسلہء حل کرنا چاہ رہیے ہیں۔۔۔۔محض پولیس تک ہی محدود نہیں ہرمحکمہ۔میں عوام اور اداروں میں باہمی عدم اعتماد کی افسوسناک فضا موجود ہیے۔۔۔لیکن ہماری آج کی بحث محض پولیس تک رہیے گی کیونکہ پولیس کسی بھی سوسائٹی کے امن و امان اور عوام کی جان و مال کی حفاظت میں بنیادی اور کلیدی کردار کی توقعات پر قائم ہیے۔۔۔۔کہا تو جاتا ہیے کہ پولیس بھی تو ہم میں سے ہی ہیے لیکن محترم ایسا ہرگز نہیں۔وردی کی کلف کا میٹیریل ہی کچھ ایسا تابناک ہوتا ہیے کہ عام زندگی میں انتہائی خاموش طبع انسان جب وردی کےزعم میں آجاتا ہیے تو اسکے رویے اسکا لہجہ اسکا کروفر یکدم ہی تبدیل ہوجاتا ہیے۔

اور وہی خاموش طبع انسان بغیر وردی عوام کے لیے قیصر روم۔۔فرعون مصر اور کسری بن جاتا ہیے۔۔۔۔جبکہ افسران اپنے ایسے ماتحت افسران جنکی شکایات ہوں انہیں فرض شناس اور محنتی گردانتےہیں کہ وہ کونسا انتظامی افسر ہیے جسکی شکائیت ہی نہ ہو۔۔گویا شکایت قابل رویے اپنانا انتظامی قابلیتوں کا حامل ہونےکی دلیل ہیے۔۔۔۔جبکہ جرائم کی بیخکنی اور امن عامہ۔کےحوالے سے یہ رویے کام نہیں آتے۔۔۔اگر امن عامہ کا قیام اور کرائم فری سوسائٹی مقصد ہیے تو جبر کے رویوں کا دور گذر چکا ہیے۔۔۔۔اور یہ مقاصد اکیلے پولیس سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔پولیس کو جسقدر اختیارات حاصل ہیں ان کےہوتےہوئے بھی اگر سوسائٹی میں امن نہیں تو پھر اختیارات دینے والوں کو سوچنا ہوگا کہ معاشرہ کو مثبت کیسے بنایا جائے۔

۔کہ اختیارات کا حربہ بھی ناکام ہوچکا ہیے۔۔۔پولیس جو جرائم خوف کرتی ہیے انہیں تحفظ دیکر امن عامہ کے خواب دیکھنا اور مثبت رویوں کو رواج دینے کےدعوے حقائق سے چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔میری اس تحریر کو عامیانہ انداز میں پولیس کیخلاف سمجھنے کی بجائے ایک محب وطن اور مثبت معاشرے کے قیام کے خواہشمند بے ضرر شہری کی تحریر سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔۔ویسے بھی میں اپنی بات منوانے کےموڈ میں نہیں بلکہ عام شہری کی حیثیت سے عوام الناس کے ردعمل سے واقف ہونے کےناطے چاہتا ہوں کہ عوام اور پولیس میں باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو اور معاشرے کےیہ دونوں اہم ستون باہم ملکر سرگودھا ضلع کو جرائم سے پاک ضلع بناکر دیگر پاکستان کےلیے خوبصورت مثال قائم کریں۔

۔۔۔بااختیار ضلعی پولیس افسران میں سے ڈسٹرکٹ پولیس آافیسر صاحب مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور انکا رول انتہائی اہم ہیے۔۔۔۔جبکہ تحصیل میں سب ڈویژنل آفیسر صاحبان جناب ڈی پی او صاحب کے دست و بازو ہیں۔۔لیکن آنکھیں اور کان قطعا” نہیں۔آنکھوں اور کانوں کا انتخاب ڈی پی او صاحب کو خود کرنا ہوگا۔کوئی شک نہیں کہ محکمہ پولیس میں سہیل ظفر ساہی جیسے فرض شناس اور ایماندار اور بھی افسران ہونگے۔۔میرا سہیل ظفر ساہی سے نہ تو کوئی تعلق ہیے اور نہ ہی جان ہہچان۔لیکن ایک مقدمہ میں انسےملاقات ہوئی اور تجربہ ہوا تو بات کر رہا ہوں۔

- Advertisement -

۔۔۔ لیکن یہاں ایسے پولیس افسران بھی ہیں جنہیں فیلڈ میں نہ لگانےکے احکامات بھی ہوجایا کرتے ہیں۔۔۔تو حضور آمدم بر سر مطلب کہ پولیس اور عوام میں باہمی عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنا اور عوام کو اپنے حقوق و فرائض سے آگہی اور قانون پسندی کے رحجانات کی آبیاری کرنے کی شدت سے ضرورت ہیے۔۔ اور اسکےساتھ ساتھ پولیس کےعمومی رویوں کو قانون کےطابع کرنا بہت ضروری ہیے۔ یہ رویہ قانونی نہیں کہ آپکے ساتھ واردات ہو اور آپ 15 پر کال کریں لیکن جب تھانہ جائیں اور 15 کال کا ذکر حوالہ کے طور پر کرے تو انکوائری آفیسر اپنے طمطراق اور ٹیڑھے انداز میں منہ کے زاویے بناکر کہے کہے کہ “15 پر جاو میرے پاس کیا لینے آئے ہو”آپ دادرسی کےلیے تھانے گئے اور وہاں آپکو ٹیڑھی گردن۔

۔ٹیڑھی نگاہ اور طعنہ زنی کا رویہ ملے تو آپکےذہن میں پولیس کےلیے کبھی بھی مثبت رائے قائم نہیں ہوگی۔۔۔۔اور پھر آپ عدم اعتماد کی اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش بسیار کرلیں۔ فضول ہیے۔۔۔جناب ڈی پی او صاحب۔۔۔! آپ آپکی پولیس فورس کبھی بھی جرائم پر اکیلے قابو نہیں پاسکتی جب تک عوام میں پولیس کااعتماد بحال نہ ہو۔۔۔۔اس اعتماد کو بحال کرنا ہی آپ کی کامیابی ہیے۔۔۔۔اگر آپ پولیس اور عوام کے باہمی اعتماد کو فروغ دے دیں تو یہ ضلع امن کا گہوارہ بن جائے گا۔۔۔اور آپ کی ذات بابرکات “نابغہ روزگار” ہستی کےطور پر دوام حاصل کرلےگی۔

۔۔راقم ایک سرکاری اہلکار ریٹائر ہیے اور سردست ورلڈ ہیومن ڈویلپمنٹ سوسائٹی آف پاکستان جسکی رجسٹریشن آخری مرحلہ میں ہیے کا صدر ہیے۔۔۔اپنے اس مقام عہدہ اور تنظیم کا فرض سمجھتا ہیے کہ اپنی سوسائٹی میں حب الوطنی امن پسندی اور شعور و آگہی کےمقاصد کے پیش نظر بہتری کی جو بھی تجویز ذہن میں۔آئے صفحہ قرطاس پر لائی جائے۔۔۔۔اگر بات مانی گئی تو میرے لیے عزت کاباعث ہوگی وگرنہ دوسری صورت میں اپنا ضمیر صاف ہوگا کہ ایک محب وطن شہری کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کردیا۔۔چوری۔۔ڈکیتی۔۔سٹریٹ کرائم۔۔سماجی اور معاشرتی جرائم وائٹ کالر جرائم سوسائٹی میں سب ہوتا ہیے لیکن سب کا سب پولیس کی کاروائی میں نہیں آتا بلکہ بہت کم رپورٹ ہوتا ہیے۔۔

۔۔مثبت معاشرے کے قیام کی خواہش رکھنے والی پولیس جرائم سے اغماض بالکل نہیں برتتی جبکہ ہمارے ہاں باوا آدم ہی نرالا ہیے۔۔۔۔عام متاثرہ شخص تو تھانہ جاتا ہی نہیں۔۔۔جس سے مجرموں کو تقویت ملتی ہیے اور انکی حوصلہ افزائی ہوتی ہیے اور یہی رویے مثبت معاشرے کےقیام میں رکاوٹ ہیں۔۔۔دو مختلف الرائے فریقین میں سے طاقتور کو ذرا اپنے کروفر سے نیچے آکر متلونیت اختیار کرکے اپنے اور اپنے محکمہ کےلیے قربانی دینا ہوگی تاکہ اعتماد بحال ہو۔ انتہائی حد اگر ضبط تحریر میں لاوں تو یہ ہوگی کہ اگر ایک بندہ کسی شخص کےخلاف محض گالی گلوچ اور معمولی ہاتھا پائی کی درخواست بھی تھانے لائے تو اسکے ملزم کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی جائے۔

ایف آئی آر لفظ ہی اسقدر خوفناک ہیے کہ سوچتے ہوئے دم نکلتا ہیے۔اب اگر تفتیش ہو اور معمولی سی گالی گلوچ کےملزم کو تھانے میں تفتیش کےلیے آنا پڑجائے تو اسکے لیے یہی بہت بڑی سزا ہوگی چہ جائیکہ ایف آئی آر تفتیش کے مراحل سے گزر کر چالان اور عدالتی۔کاروائی تک ہہنچے۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا کہ کوئی کسی کوگالی بھی دے جائے۔۔۔۔یر کوئی دوسرے کے لیے دعائیں مانگتا ہی نظر آئے گا۔۔۔۔اسمیں مسلہ یہ ہیے کہ مقدمات کےاندراج کےتناسب میں اضافہ ہوجائےگالیکن کب تک۔۔محض دو یا تین ماہ۔۔۔جب پتہ ہوگا کہ محض درخواست پرہی ایف آئی آر کٹ جائیگی تو میرا خیال ہیے جرائم کی سوچ بھی ختم ہوجائےگی۔۔ باقی حضور ہم تو رعایا ہیں اور زندگی کے دن پورے کر رہیے ہیں جبکہ جرم اور سزا کی تاریخ تو بہت پرانی ہیے۔۔۔۔سر تسلیم خم ہیے جو مزاج یار میں آئے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.