MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بھارت کا زیر تعمیر خفیہ اڈا پکڑا گیا

ماریشین حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ان کی ایک جزیرے پر بھارت نے ایک فوجی اڈہ قائم کیا ہے جو تین کلو میٹر رن وے پر مشتمل ہے۔

1 946

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ماریشیا میں بھارت کے فوجی اڈے کا قیام

(مسائل نیوز ڈیسک )

ماریشین حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ان کی ایک جزیرے پر بھارت نے ایک فوجی اڈہ قائم کیا ہے جو تین کلو میٹر رن وے پر مشتمل ہے۔
بھارت کا یہاں بیس قائم کرنے کے دو مقاصد ہیں، پہلا مقصد افریقہ تک رسائی کیلئے موزمبیق چینل پر نظر رکھنا ہے موزمبیق چینل مشرقی افریقہ کے دو ممالک موزمبیق اور مداگاسکر کے درمیان پانی کا گزرگاہ ہے جس کو بحیرہ ہند کا بازوں بھی کہا جاتا ہے، اور دوسرا مقصد بحیرہ ہند کے جنوب مغرب میں جہاز رانی پر نظر رکھنا اور انٹیلیجنس جمع کرنا ہے۔
بھارت اس بیس کی مدد سے موزمبیق چینل پر نظر رکھنا چاہتا ہے کیونکہ اس راستے سے چائنہ جنوبی اور مشرق افریقی ممالک سے انرجی سیکٹر میں درآمدات کرتا ہے۔

- Advertisement -

یہاں پر احباب کیلئے چین کے تجارتی راستوں کو جاننا ضروری ہے، جنوبی چین سمندر میں امریکی بحریہ اور چائنہ کی بحریہ سرگرم ہے امریکہ کے مطابق چین نے جنوبی چین کے سمندر میں مصنوعی جزیرے قائم کرکے سمندر پر قبضہ کیا ہے جس پر خطے کے ممالک فلپائنی اور جاپان کی حکومتوں کو بھی سخت تشویش ہے اور فلپائنی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سمندر ہماری ملکیت ہے، لیکن چائنیز بحریہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔
افریقہ، یورپ اور عرب ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے چائنہ کے بحری جہاز بحیرہ ہند میں ملاکا کے راستے سے گزرتے ہیں، امریکہ نے بھارت آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ کواڈ کے نام سے ایک فوجی اتحاد قائم کیا ہے جو ہر سال بحر ہند میں ملاکا کے قریب جنگی مشقیں کرتے ہیں اس اتحاد کو چین اپنے لئے خطرہ قرار دے رہا ہے کیونکہ مستقبل میں ہنگامی صورت حال کے وقت کسی بھی وقت کواڈ اس راستے کو بند کرسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ چائنہ اس راستے کا ایک متبادل تجارتی راستہ گوادر میں بنارہا ہے لیکن اس سال کواڈ ممالک نے گوادر کے نزدیک بحیرہ عر.ب میں بھی جنگی مشقیں کئے یعنی کواڈ کا گوادر پر بھی نظر ہے، بھارت امریکہ کی پشت پناہی میں سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے سر عام بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کررہا ہے۔

ماریشیا میں فوجی اڈے کا مقصد چین کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے کیلئے بحیرہ ہند کے جنوب مغربی کھونے تک رسائی ہے جہاں سے چین اپنی انرجی سیکٹرز میں ضروریات کیلئے درآمدات کرتا ہے، بھارت اس وقت امریکہ کے گود میں جاچکا ہے اس لئے پاکستان نے امریکہ کو فوجی اڈہ دینے سے انکار کرکے امریکہ کو خیر آباد کہہ دیا ہے، امریکہ نے پاکستان کو AH1Z گن شپ ہیلی کاپٹر فرخت کرنے سے انکار کیا جبکہ ترکی کو بھی اتاترک ہیلی کاپٹر پاکستان کو فروخت کرنے سے روک دیا کیونکہ اس میں امریکی ساختہ انجن استعمال ہوتا ہے، دوسری طرف امریکہ نے بھارت کو جدید جنگی ہیلی کاپٹرز اور مال بردار ہیلی کاپٹرز بھی فراہم کیئے جس نے لداخ کے پہاڑیوں میں اہم کردار ادا کیا جبکہ روس سے S 400 خریدنے کے بوجود امریکہ نے بھارت کو کچھ نہیں کہا البتہ بھارت کو اسلحے کے انبار فراہم کیئے گئے، دوسری طرف ہم ہے جس نے 20 سال اپنے ملک کو معاشی طور ہر تباہ کرکے امریکہ کیلئے نوکری کی اور آخر میں امریکہ نے لات ماردی جو سب نے دیکھ لیا اور اب بھی ہم امریکہ سے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہاتھ جوڑ رہے ہیں خیر پاکستان کی پالیسی میں بھی اب تبدیلی نظر آرہی ہے۔

بھارت بھی AAGCI کے تحت اس خطے تک رسائی چاہتا ہے جس کیلئے ماریشیا میں ملٹری بیس قائم کیا گیا چونکہ جاپان اور بھارت کواڈ میں بھی اتحادی ہے اور جنوبی چین کے سمندر میں جاپان کے ساتھ چائنہ کی کشیدگی چل رہی ہے اس لئے چائنہ کے BRI کو کاونٹر کرنے کیلئے AAGCI کو جاپان اور بھارت بحال کرنا چاہتے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.