“حکومتی پالیسیوں کا عوامی عمومی رویوں پر اثر”
فرزانہ کوثر۔۔ورلڈ ہیومن ڈویلپمنٹ سوسائیٹی آف پاکستان۔۔۔سرگودھا
بھابی اور بھائی کو قتل کردیا,ایسی خبریں ہم آئے روز دیکھتے سنتے اور پڑھتے ہیں۔ماڈل ٹاون سانحہ,ساہیوال سانحہ,اسلام آباد میں پولیس کے ہاتھوں اسامہ کا قتل,عثمان مرزا کیس,قصور میں زینب اور اسکے بعد پے درپے ایسی ہی مزید وارداتیں,انسانیت کے خلاف جرائم کی طویل فہرست بن سکتی ہیے۔لیکن ہمارے حافظے بہت کمزور ہیں۔حکومتی تساہل,دفتری نالائقیاں اور کرپشن اقربا پروری,دادرسی کا نہ ہونا,انصاف میں تاخیر,مہنگا عدالتی نظام,وکلاء کی فیسیں,ہڑتالیں,پولیس کے عمومی رویے,حکومتی ترجیحات,بلا خیز بیرونی قرضے,احتساب کا جھوٹ۔ملکی پیداواری کے گراف کا دن بدن نیچے آنا,بےروزگاری,مہنگی تعلیم, صحت کی سہولیات کا نہ ہونا,بلدیاتی مسائل,دیگر شہری خرابیاں۔ٹرانسپورٹ کے مسائل,اشیائے خوردنی کا مہنگا اور ناپید ہونا,ملکی پیداوار تک کا نایاب ہونا,بجلی گیس فون کے بلوں میں انصاف کے تمام اصولوں کو روند کر عوام کا استحصال,سبسڈی والا فراڈ۔ٹیکسوں کی بے
- Advertisement -
مہار اونٹنی,الغرض عوام ٹیکس بھی دے اور حکومت ملکی بیرونی قرضے بھی لے,پارلیمینٹیرینز اور اعلی سرکاری عہدوں کی بےمہار مراعات,ایک بےہنگم معیشت نے جہاں ملک کو نقصان پہنچایا وہاں عوام بھی۔ان ملکی مسائل سے اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہیے.لوگ بھی الجھ چکے ہیں۔وگرنہ کوئی بھی قضیہ ہو۔حکومتی۔اداروں کے دائرہ اختیار سے باہر ہرگز نہیں-لیکن حکومتی مشینری میں کوئی تو چیک اینڈ بیلنس تو ہو,لیکن احتسابی عمل کی عدم موجودگی میں عوام میں شدت انگیز رحجانات کا فروغ پانا فطری عمل ہیے,لڑکوں لڑکیوں سے ریپ خواتین و حضرات کےخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں,الغرض کسی طرف سے دیکھ لیں ,چین کی بانسری سنائی نہیں دے گی,ہر شخص دوسرے کو ہی غلط کہتا ہیے,خود ٹھیک یوجائے تو اسکا گزارا نہیں ہوگا۔بس حکومت کو خود ہی کوئی راستہ نکالنا ہوگا وگرنہ کمزور معاشرے طاقتور ریاست کو جنم نہیں دے سکتے۔۔۔۔