زیادہ دیر بیٹھنے اور پروٹین کی کمی پیروں میں سوجن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے: ماہرین
لاہور(مسائل نیوز)اگر آپ کے پاؤں یا ٹخنوں میں آرام کے باوجود مسلسل سوجن رہ رہی ہے تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صرف عام سوجن نہیں بلکہ جسم میں پروٹین کی کمی کی علامت بھی ہو سکتی ہے، جس کا بروقت علاج ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پروٹین خون میں موجود البومن کے ذریعے جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ جب پروٹین کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو سیال خون کی نالیوں سے باہر نکل کر بافتوں میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے خاص طور پر پاؤں اور ٹخنوں کے ارد گرد سوجن (اوڈیما) پیدا ہو سکتی ہے۔
پروٹین کی کمی کی دیگر علامات میں مسلسل تھکن، بالوں کا جھڑنا یا کمزور ہونا، ناخنوں کا ٹوٹنا، بار بار انفیکشن ہونا، زخم بھرنے میں دیر لگنا، پٹھوں کی کمزوری اور شدید صورت میں پیٹ یا چہرے پر بھی سوجن شامل ہیں۔
خصوصی خطرہ زیادہ تر بزرگ افراد، کم بھوک والے افراد، سخت کم پروٹین والی ڈائٹس کرنے والے، گردے یا جگر کے مریض، آنتوں کے امراض میں مبتلا افراد اور بڑی بیماری یا سرجری کے بعد صحت یاب افراد کو ہوتا ہے۔
- Advertisement -
لیکن ہر سوجن پروٹین کی کمی کی علامت نہیں۔ زیادہ نمک کا استعمال، طویل وقت تک بیٹھنا یا کھڑے رہنا، حمل، دل، گردے یا جگر کے مسائل، اور بعض ادویات بھی سوجن پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے مستقل سوجن کی صورت میں خود تشخیص کی بجائے طبی معائنہ ضروری ہے۔
بالغ افراد کے لیے روزانہ وزن کے ہر کلو گرام پر 0.8 سے 1 گرام پروٹین کافی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر 60 کلوگرام وزن والے فرد کو روزانہ تقریباً 48 سے 60 گرام پروٹین درکار ہوتی ہے۔ پروٹین کے بہترین ذرائع میں انڈے، دودھ، دہی، پنیر، دالیں، لوبیا، چنے، سویا، ٹوفو، مچھلی، چکن، خشک میوہ جات اور بیج شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر سوجن چند دن میں کم نہ ہو، دونوں پاؤں مسلسل سوجے ہوں، سانس لینے میں دشواری ہو یا اچانک وزن بڑھے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ درد، سرخی یا گرمی محسوس ہونے کی صورت میں بھی فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔
ماہرین آخر میں کہتے ہیں کہ متوازن غذا کے ذریعے مناسب پروٹین کا استعمال نہ صرف سوجن کو کم کرتا ہے بلکہ مجموعی صحت اور قوتِ مدافعت کے لیے بھی اہم ہے۔ شک کی صورت میں خون کا سادہ سا ٹیسٹ بھی اصل صورتحال واضح کر سکتا ہے۔