MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

امریکی جریدے فوربز کی حالیہ رپورٹ میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبے کے ستھرا پنجاب پروگرام کو مؤثر اور قابلِ تقلید ماڈل قرار دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی گئی

0 48

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لاہور(مسائل نیوز)امریکی جریدے فوربز کی حالیہ رپورٹ میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں صوبے کے ستھرا پنجاب پروگرام کو مؤثر اور قابلِ تقلید ماڈل قرار دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف رائٹر پال کلین نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں لکھا کہ پنجاب حکومت انتہائی مختصر عرصے میں صوبے کے بڑے انتظامی چیلنج کو کامیاب موقعے میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی اور صرف 8 ماہ میں ملک کے سب سے گنجان آباد صوبے میں کچرے کے بحران کو دنیا کے سب سے بڑے مربوط ویسٹ مینجمنٹ نظام میں بدل دیا گیا۔ اس منصوبے کے بڑے پیمانے اور شاندار نتائج نے عملی قیادت پر اہم اسباق فراہم کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ستھرا پنجاب سے قبل تقریباً 13 کروڑ کی آبادی رکھنے والے صوبہ پنجاب میں تقریباً 7 کروڑ دیہی افراد جو 25 ہزار دیہات میں رہتے ہیں، کسی بھی قسم کی ویسٹ کلیکشن سہولت سے محروم تھے، جبکہ شہری آبادی کا صرف ایک حصہ صفائی سے متعلق جزوی خدمات حاصل کر رہا تھا۔ 75 سال کی غفلت کے باعث گلیوں اور کھیتوں میں کوڑا جمع ہوچکا تھا، نکاسی آب کے نالے ملبے سے بند تھے اور دریا کنارے کچرے کے ڈھیر بن چکے تھے۔

بحران بڑھنے پر، نئی صوبائی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پنجاب کو جلد از جلد صاف کرنا ناگزیر ہے۔ شروع سے ہی یہ مقصد انتہائی جرأت مندانہ تھا کہ پنجاب کے ہر شہر اور ہر گاؤں کو تیز ترین طریقے سے موثر اور قابلِ اعتماد ویسٹ سروس فراہم کی جائے۔

- Advertisement -

ستھرا پنجاب انتظامیہ کی ٹیم نے صرف آٹھ ماہ میں پورے صوبے کے لیے متحدہ ویسٹ کلیکشن نظام تیار کر کے نافذ کر دیا۔ اس کے لیے ایک واحد صوبائی ویسٹ اتھارٹی (LWMC) بنائی گئی جو شہروں اور دیہات میں تمام آپریشن کی نگرانی کرے گی۔ 2 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر اتنی کم مدتم یں نظام کا نفاذ ایک غیر معمولی اقدام تھا۔

اس دوران دیہی آبادی کو بھی وہی سہولیات ملیں جو شہروں کو مل رہی تھیں اور اتنی تیز رفتار عمل درآمد نے اس عام نظریے کو غلط ثابت کیا کہ بڑے منصوبے چھوٹے پائلٹ تجربات سے شروع ہونے چاہئیں۔ یہ سب ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ممکن ہوا جو حکومتی عزم، نجی شعبے کی کارکردگی اور سرمایہ کاری کو یکجا کرتا ہے۔

یہی نہیں، بلکہ رپورٹ کے مطابق ستھرا پنجاب کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ انہوں نے دنیا کا سب سے بڑا مکمل ڈیجیٹل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم ایک متحدہ گورننس انفراسٹرکچر کے تحت تیار کیا جو روزانہ 50 ہزار ٹن کوڑے کو بجلی اور قابلِ استعمال مصنوعات میں بدل دیتا ہے۔ ہر کچرا گاڑی اور کئی ڈسٹ بنز میں آئی او ٹی سینسرز، جی پی ایس ٹریکرز اور ٹیگز نصب ہیں جو ڈیٹا کا ریکارڈ مرکزی کنٹرول روم کو بھیجتے ہیں۔

تمام تر عوامل کو اے آئی الگورتھم کی مدد سے بہتر بنایا جاتا ہے جس سے ایندھن پر اخراجات کم ہوئے اور سروسز بہتر بنائی گئیں۔ لینڈ فل سائٹس پر خودکار وزن پیمائش سے ٹھیک وقت اور مقدار کا ریکارڈر رکھاجاتا ہے جبکہ تمام تر ڈیٹا ایک ڈیش بورڈ پر جمع ہوتا ہے جو ٹھیکیداروں کی کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے۔

اگر کوئی روٹ چھوڑ دیا جائے یا ٹرک میں نااہلی ہو تو سسٹم خود جرمانہ عائد کردیتا ہے۔ اس ڈیٹا پر مبنی عمل نے بدعنوانی اور جعلسازی کو تقریباً ختم کردیا اور شفافیت اور خدمات کی بہتری یقینی بنا دی۔ ستھرا پنجاب کی کامیابی ایک تین سطحی مالی ماڈل سے ممکن ہوئی جس میں سرکاری و نجی فنڈنگ شامل ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.