ہزارہ ٹاؤن میں پانی کا بحران: بلوچستان ہائی کورٹ کا سخت ایکشن، واسا کے نجی ٹھیکے منسوخ کرنے کا حکم
کوئٹہ(مسائل نیوز)بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں پانی کی شدید قلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واسا، پی ایچ ای اور کیسکو حکام کی سرزنش کی ہے اور شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھنا سنگین انتظامی غفلت ہے اور عوام کو نجی مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس دوران ہزارہ ٹاؤن کے مکینوں نے عدالت کے سامنے پانی کی شدید قلت پر شکوے کے انبار لگا دیے اور الزام لگایا کہ “واٹر مافیا” سرکاری پانی چوری کرکے مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے۔
اس پر واسا اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے حکام نے فنڈز کی کمی کو منصوبوں میں تاخیر کی وجہ قرار دیا۔ پی ایچ ای حکام نے عدالت کو بتایا کہ ورلڈ بینک کی معاونت سے 40 نئے ٹیوب ویل لگانے کے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے جس کے لیے رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ کوئٹہ کے نواحی علاقوں کے لیے بھی 400 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
- Advertisement -
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اہم احکامات جاری کیے:
واسا کے غیر قانونی معاہدے منسوخ: عدالت نے واسا کی جانب سے نجی ٹھیکیداروں کو پانی کی سپلائی کے تمام معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا۔
فنڈز کا فوری اجراء: سیکرٹری پی ایچ ای کو ہدایت کی گئی کہ وہ ٹیوب ویل منصوبوں کے لیے فنڈز کی فوری فراہمی کو یقینی بنائیں۔
بجلی کی فراہمی: کیسکو کو حکم دیا گیا کہ وہ تمام مکمل شدہ ٹیوب ویلوں کو فوری طور پر بجلی کے کنکشن فراہم کرے۔