لورالائی(مسائل نیوز) نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے لورالائی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پانچ مختلف قوموں کا مشترکہ گھر ہے اور یہاں بلوچ اور پشتون اپنی تاریخی سرزمین اور قدرتی وسائل کے اصل مالک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وسائل پر مقامی قوموں کا حقِ حاکمیت تسلیم کیا جائے کیونکہ ملک غلامی کے لیے نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام شہدائے جمہوریت کی برسی کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بلوچ وطن دنیا کے امیر ترین وسائل سے مالا مال ہے لیکن اس کے اپنے بچوں کو ان وسائل پر کوئی اختیار حاصل نہیں، اور یہی صورتحال پشتون وطن کی بھی ہے۔
- Advertisement -
انہوں نے کہا، “ہمیں دنیا کو بتا دینا چاہیے کہ ہم پشتون ایک قوم ہیں، ہمارا اپنا تاریخی وطن، اپنی سرزمین اور اپنی ثقافت ہے۔ ہمارے وسائل ہمارے بچوں کی خدمت میں ہونے چاہییں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تمام قدرتی نعمتوں پر وہاں کے رہنے والے قوموں کا حق سب سے پہلے تسلیم کرنا ہوگا۔
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے اندر ایک نئے جمہوری اور آئینی ڈھانچے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “پاکستان میں ہمارا اپنا ایک متحدہ پشتون صوبہ ہونا چاہیے جہاں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی ہو۔”
محمود خان اچکزئی نے حکمران طبقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مقصد ہی یہ ہے کہ ملک میں عوام کے ووٹوں سے ایک حقیقی پارلیمنٹ قائم ہو جو طاقت کا سرچشمہ ہو اور تمام داخلی اور خارجی پالیسیاں بنائے، جہاں عدلیہ اور میڈیا مکمل طور پر آزاد ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کمزور قوموں کو جینے کا حق نہیں دیا جاتا اور اگر بلوچوں اور پشتونوں نے اتحاد اور منظم جدوجہد کا مظاہرہ نہ کیا تو ان کا مستقبل بھی فلسطینیوں جیسا ہوسکتا ہے۔حمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آباؤد اجداد نے انتہائی غربت کی زندگی گزاری لیکن وطن کا سودا کسی سے نہیں کیا، ہمارے لیئے قیمتی وطن اپنے سردوں کے نذرانے پیش کرکے پالا ہے ہمیں بھی دوسرے قوموں سے سبق سے لیکر وطن کا دفاع ہر قیمت پر کرنا ہوگا۔ فلسطینیوں نے ماضی میں کمزوریاں کیں جس کی وجہ سے آج مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ہمیں کسی صورت کمزور نہیں کرنی چاہیے۔ آج امریکی صدر ٹرمپ کہتا ہے امریکہ فرسٹ اور ہر کوئی اپنے وطن اپنے مٹی کے لیے سوچتا ہے اس کا دفاع کرتا ہے ہمیں بھی اپنے اس وطن کی دفاع اور اس کے لیے سوچنا ہوگا۔ ہم کسی سے رنگ، نسل،مذہب یا فرقہ کی بنیاد پر نفرت نہیں کرتے۔ ہم تمام انسانوں کو آدم علیہ اسلام اور حوا انا بی بی کے بچے سمجھتے ہیں اور ان کو عزت واحترام کی نگاہ سے اس شرط پر دیکھتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے ثقافت کا احترام کرے ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ ہمارے عبادت گاہ کا احترام کرے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 7اکتوبر 1983کے شہدائے جمہوریت اور 11اکتوبر 1991کے شہدائے وطن کو خراج عقیدت واحترام کے سُرخ پھول پیش کرتے ہیں۔ ویسے اسلم اولس یار شہید، کا کا محمود شہید،رمضان شہید، داؤد شہیدنے مرنا تو ہر حال میں تھا اور ان کے سینکڑوں عزیز واقارب مرچکے ہیں جنہیں کوئی یاد نہیں کررہا جبکہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کو تاریخ ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ اور آج ہم اپنے شہدا کا دن لورالائی میں ایسے حالات میں منارہے ہیں کہ آج ہمارا ملک پاکستان مشکل میں ہے، ہم سب کوایک بار پھر یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم فوج اور آئی ایس آئی کے مخالف نہیں ہے۔ ہرملک میں فوج اور جاسوسی ادارے ضروری ہیں یہ ہونی چاہیے۔ ہم تو فوج اور ان کے تمام جاسوسی اداروں کی سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاکستان پانچ مختلف قوموں کا مشترکہ گھر ہے یہاں نہ کوئی کسی کا آقا ہے نہ کوئی کسی کا غلام۔ ہمیں غلام کی حیثیت سے کسی صورت نہیں رہنا۔ ہمارا ملک دنیا جہاں کی قدرتی خزانوں سے بھرپور ملک ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم ملک میں موجود تمام قدرتی نعمتوں پر وہاں کے رہنے والے قوموں کا حق چاہتے ہیں۔ دنیا کے قانون کے مطابق دنیا کے تمام ممالک یا افواج جس طرح دنیا کے افواج اور اداروں کا سیاست میں کام نہیں یا یہاں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا۔ یہاں اس ملک میں عمران خان کی پارٹی نے الیکشن جیتے لیکن زر وزور کے نتیجے میں شہباز شریف کو غلط طریقے سے مسلط کیا گیا۔ محمد علی جناح نے 1948کوئٹہ کے سٹاف کالج میں یہ کہا تھا کہ فوج کا سیاست میں کوئی کام نہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لورالائی بوری کاکڑی مسجد انگریزی استعمار کے خلاف سب سے بڑا مرکز تھا۔ بارہ خان اتمانخیل اور دیگرلوگوں سمیت علماء کرام اُس وقت خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے فکر کے حامی تھے اور انگریز استعماری کے خلاف تھے۔ اگر چہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کا تعلق کوئٹہ پشین قلعہ عبداللہ سے تھا لیکن خان شہید کی سیاست کا مرکز بوری کان مہترزئی اور یہ علاقے تھے۔ جہاں انگریزی استعمار کے خلاف سخت موقف رکھنے والے خان شہید کے ساتھی موجود تھے۔ میختر آکا کے دادا بارہ خان اگر چہ شاہی جرگہ کے ممبر تھے لیکن قومی تحریک کے ساتھی تھے۔ بوری لورالائی کا اس لیے ہم پر حق تھا اور ہے کہ ہم قومی خودمختاری کے تحریک کے جلسے یہاں منعقد کریں کیونکہ آج ان کے تمام مبارزین کے ارواح خوش ہوں گے کہ جب ہم ظالم کے مقابلے میں کم لوگ کھڑے تھے آج اس جلسے میں ہزاروں لوگ ہمارے فکر کے موجود ہیں۔سیاست ہمارے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ سیاست کو یہاں بدنام کیا گیا ہمیں عزیزی اور اقرباء پروری اس بنیاد پر کرنی چاہیے کہ اگر کوئی اپنا کسی دوسرے پر ملامت ہو تو ہمیں صاف کہہ دینا چاہیے کہ آپ ملامت ہو۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ لوگوں نے کامیاب ہڑتال کا انعقاد کیا ہمارے ساتھ یہی ظلم ہوتا رہا تو کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں ایسے ہڑتال اپنے اتحادی پارٹیوں کے ہمراہ منعقد کرینگے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ظالموں کی دنیا میں رہ رہے ہیں یہاں کمزورکو جینے کا حق نہیں دیا جارہا۔ ہمارا وطن دنیا جہاں کے بہترین قدرتی وسائل سے پُر وطن ہے، سورت رحمن میں اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے وہ تمام نعمتیں پشتونوں کے وطن میں موجود ہیں۔ بلوچ وطن وسائل سے پُر ہے لیکن اس پرانکے بچوں کا واک واختیار نہیں۔ ہمیں دنیا کو یہ بتادینا چاہیے کہ ہم پشتون ایک قوم ہے۔ ہمارا اپنا تاریخی وطن، اپنی سرزمین، اپنی ثقافت ہے۔ ہمارے وسائل ہمارے بچوں کی خدمت میں ہونی چاہیے۔ دنیا آج حیوانوں کے حقوق کی باتیں کرتی ہے لیکن جب ان کے اپنے مفادات درمیان میں آجاتے ہیں تولاکھوں انسانوں تہہ تیغ بنا لیتے ہیں۔ ٹونی بلیئر نے عراق میں صرف ایک الزام پر عراق میں ہزاروں انسانوں کا قتل عام کرکے صرف ایک لفظ Sorryسے جان خلاصی کی۔کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ عراق کے ساتھ ایٹمی اسلحہ ہے لیکن وہ نہیں تھا۔ ہمیں اپنی قوم کو منظم کرنا ہوگا۔ حضرت محمدﷺکے ساتھ پہلے جنگ میں صرف 313لوگ تھے۔ جب وہ 313منظم ہوئے تو ہزاروں کے لشکروں کو مات دی۔ تو تنظیم کے ذریعے آج دنیا میں اربوں لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے پارٹی میں شامل ہونیوالے تمام ساتھیوں کو مبارکباد دی اور منظم ہونے کا کہا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے پارٹی اس لیے بنائی ہے کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف حق کی آواز بلند کرے۔ یہ شہادتیں ہم نے اس لیئے نہیں دیئے یہ اپنے وطن کی دفاع کی راہ میں شہید ہوئے ہیں۔ ہم امریکہ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت جو معاہدہ آپ کے ساتھ کرتا ہے یہ پاکستان کے عوام کا معاہدہ نہیں ہے کیونکہ یہ حکومت عوام کی طاقت سے نہیں بلکہ زر وزور کی بنیا د پر قائم ہوئی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کل آپ پر آئینگے کہ ہمیں شہباز شریف نے ٹھیکہ دیا ہے پھر ہم سے گلہ نہیں کرنا ہوگا کہ یہاں کے عوام نے آپ کے ساتھ جو کچھ بھی کیا۔ لورالائی یہاں کے باسیوں کا ہے، وزیرستان وزیرستانیوں کا ہے۔ آزادی اُس کو کہتے ہیں کہ لورالائی کے لوگ لورالائی کے فیصلوں کے مالک ہوں گے۔ اور ہر جگہ کے رہنے والے وہاں کے مالک ہوں گے۔ بیدار قومیں اپنے آپ کو بچاسکتی ہیں اور خوابیدہ قومیں یا سستی کرنیوالے پھر فلسطینیوں کی طرح برباد ہوں گے۔