کراچی(مسائل نیوز) کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر حملے کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کلیئرنس آپریشن میں دو دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی جبکہ ایک دہشت گرد نے چوتھی منزل پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آکر ایدھی رضاکار اور دو رینجرز اہلکاروں سمیت 5 زخمی ہوگئے۔ وقوعہ پر دو طرفہ شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وقفے وقفے سے دھماکے بھی ہورہے ہیں۔
کراچی کے معروف شاہراہ شارع فیصل کے انتہائی حساس علاقے میں قائم کراچی پولیس کے دفتر پر 8 سے 10 دہشت گرد داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ واقعے کے بعد علاقے کو سیل کردیا جبکہ شاہراہ فیصل کو عام ٹریفک کیلیے بند کیا گیا جبکہ دفتر کی بجلی بھی منقطع کردی گئی۔
دہشت گردوں کے کے پی آفس میں داخل ہونے کے بعد شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جس پر ہینڈ گرینیڈ مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ عمارت میں وقفے وقفے سے شدید فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی جارہی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ کے بعد اہلکاروں نے جوابی فائرنگ بھی کی جبکہ دیگر تھانوں سے نفری بھی طلب کی اور اہلکار مورچہ زن ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں پولیس کمانڈوز، رینجز اور پاک فوج کے دستے بھی کلیئرنس آپریشن کیلیے پہنچے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور پولیس وردی میں ملبوس 8 دہشت گرد کے پی آفس میں داخل ہوئے، جن میں سے کچھ عقبی دروازے جبکہ کچھ مرکزی دروازے سے داخل ہوئے۔ مرکزی دروازے پر دہشت گردوں نے تعینات اہلکاروں پر شدید فائرنگ بھی کی۔
ذرائع نے بتایا کہ چار دہشت گرد نیچے جبکہ اتنے ہی چھت پر مورچہ زن تھے، جو کلیئرنس آپریشن کیلیے داخل ہونے والے اہلکاروں پر فائرنگ اور کریکر پھینک رہے تھے۔
ایڈیشنل آئی جی تصدیق
بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے کے پی آفس پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکار دہشت گردوں سے مقابلہ کررہے ہیں جبکہ رینجرز کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ چکی ہے۔
کم از کم چھ دہشت عمارت میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے، ڈی آئی جی ساؤتھ
ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ نے کہا ہے کہ کم از کم چھ دہشت گرد پولیس آفس کی عمارت میں موجود ہیں ابتدائی اطلاع ہے کہ دہشت گرد عقبی راستے سے داخل ہوئے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ چکی ہے کوشش ہے کہ جلد از جلد دہشت گردوں زندہ یا مردہ گرفتار کیا جائے۔
عمارت میں اعلیٰ پولیس افسران موجود ہیں، ڈی آئی جی
ڈی آئی جی نے بتایا کہ دہشت گرد عمارت کی پہلی اور دوسری منزل پر موجود ہیں، پولیس کی مزید نفری کو طلب کیا گیا ہے، کے پی او میں اعلی افسران بھی موجود ہیں۔
آٹھ سے دس دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ رینجرز
اطلاعات ہیں کہ رینجرز کیو آر ایف نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کرلیا ہے، رینجرز نے پولیس کے ہمراہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔ ترجمان رینجرز سندھ کا کہنا ہے کہ آٹھ سے دس دہشت گردوں نے پولیس آفس پر حملہ کیا ہے جنہیں پکڑنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
فائرنگ سے ایدھی رضاکار، رینجرز اہلکار سمیت پانچ زخمی
- Advertisement -
کراچی پولیس آفس میں داخل ہونے والے ایدھی رضاکار، رینجرز اہلکار سمیت پانچ افراد دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔
دو دہشت گرد ہلاک، آئی جی سندھ کی تصدیق
آئی سندھ سندھ غلام نبی میمن نے تصدیق کی کہ کلیئرنس آپریشن کے دوران دو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جیز کے دفتر پر مبینہ حملے کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈی آئی جیز کو اپنی زون سے ضروری پولیس فورس بھیجنے کی ہدایت کردی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مجھے فوری طور پر ایڈیشنل آئی جی کے دفتر پر حملے کے ملزمان گرفتار چاہئیں، کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں، مجھے تھوڑی دیر کے بعد متعلقہ افسر سے واقعے کی رپورٹ چاہیے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پولیس آفس میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے، پولیس دہشت گردوں کی پوزیشن کا تعین کرنے کی کوشش کررہی ہے، پولیس آفس پر دستی بم پھینکنے کے بعد دہشت گرد اندر گھسنے میں کامیاب ہوئے۔
گورنرسندھ کا کراچی پولیس چیف کے دفتر پر دہشت گرد حملہ پر اظہار تشویش
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن کیلیے خصوصی فورس بھیجنے کا بھی حکم دیا۔
گورنر سندھ نے دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ گہری سازش ہے، کسی کو بھی امن وامان کی صورتحال خراب نہیں کرنے دیں گے، عوام کے تعاون سے مٹھی بھر دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پریشان نہ ہوں تھوڑی دیر میں اس جگہ کا دورہ کروں گا۔
وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کا حملہ افسوس ناک ہے، دہشت گردوں نے سندھ حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ آپریشن کو ذاتی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز تیار ہے، دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
کراچی پولیس آفس پر حملہ، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سے رپورٹ طلب کرلی
وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے رپورٹ طلب کرلی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین کیا اور شاباش دی۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کلین اپ میں وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پوری ریاستی قوت اور اشتراک عمل کو بروئے کار لانا ہوگا، دہشت گردوں نے ایک بار پھر سے کراچی کو نشانہ بنایا ہے ، بزدلانہ کارروائیوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارادے اور عزم کو توڑا نہیں جا سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم پولیس اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ شہباز شریف نے واقعے میں زخمی ہونے والوں کی صحت یابی کی دعا بھی کی۔
[…] نیوز)کراچی پولیس آفس پر دہشت گرد حملے میں آپریشن کے دوران مارے جانے والے2 دہشت گردوں کی […]
[…] نیوز)بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے 8 دہشت گرد آپریشن کے دوران ہلاک […]