MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

انکساری و عاجزی جمالی قوم کا شعار

0 210

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

رپورٹ۔ پرنس الہی بخش

- Advertisement -

عاجزی و انکساری اللہ تعالی کو پسندیدہ عمل سے ایک پسند عمل ہے اور تکبر و غرور اللہ تعالی کو کبھی پسند نہیں ہے صرف ایک ہی میرے اللہ پاک کی ذات ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے غرور اور تکبر اور زمین پر اکڑ کر چلنے والا میرے اللہ پاک کو کبھی پسند نہیں ہے اور یہی عمل میں نے جمالی قوم کے معزز شخصیت میں دیکھا ہے زندگی ایک مختصر ہے مگر مکافات عمل ضرور ہے جیسا کرو گے ویسا ہی بھرو گے لیکن میرے اللہ کی ذات دلوں کے بھید خوب جانتا ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب طلوع کرنے والا وہی میرا رب ہے اس پر ہمارہ ایمان ہے میرا ایک سماجی تنظیم کی تقریب میں جمالی قوم کے علاقے اوستہ محمد جانے کی دعوت ملی تو وہاں پر جانا ہوا تو وہاں پر موجودہ گورنر بلوچستان کے صاحبزادے میر فاروق خان جمالی کے اس انداز کو دیکھکر مجبورا مجھے یہ تحریر لکھنی پڑھی کہ اتنی بڑی شخصیت کے فرزند ہونے کے باوجود موصوف ہر ایک عام شخص چاہے رہڑی بان آکر اس سے ملتا تو وہ اپنی نششت سے اٹھ کر عوام میں گھل مل جاتے رہے اور دونوں ہاتھ باندھ کر ہاتھ ہلاتے رہے یہ انداز مجھے میرے دل کو بہا گیا کہ ایسا نوجوان جس کے والد صاحب کو اللہ تعالی نے رتبہ عہدہ عزت مال متا دیا اس کے باوجود عاجزی انکساری میں یہ صورتحال کچھ دیر تک دیکھتا رہا اور عوامی لیڈر کی شناخت اس نوجوان میں مجھے نظر آئی کیونکہ نہ تکبر اور نہ ہی اس میں کوئی اکڑ مجھے نظر نہیں آئی اور یہی بات میرے رب کی ذات کو ہسند ہے جبکہ تقریب ایک سینئر صحافی ضعیف المعر شخص سعید احمد نعمانی اسٹیج کے سامنے بیٹھا تھا خود اس کے ہاس گئے اور اس کو عزت و احترام سے وہاں سے اٹھا کر اسٹیج پر اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔
تقریب میں باری باری سب کو خطاب کا موقع دیا گیا جب اس سینئر صحافی سعید احمد نعمانی کے خطاب کی باری آئی موصوف اپنے صوفے سے احتراما اٹھے اور جناب سعید احمد نے جب خطاب کرتا رہا اور خطاب کے دوران جو سیاسی لیڈروں پر تنقید ہوتی ہے وہ باتیں بھی کی تو موصوف ہنستا مسکراتا رہا اور نہ ہی اس نے منہ سے غصے کا اظہار کیا جبکہ تقریب کے دوران کوئی اوستہ محمد کی ایک معزز شخصیت آگئ تو موصوف نے آگے جاکر اس سے گلے ملا اور اپنا چیف گیسٹ والا صوفہ اس کو دے دیا تو اس شخصیت نے بیٹھنے سے انکار کیا موصوف تقریب کے اختتام تک عوام میں گھل مل گئے اور میں یہ عمل دیکھتا رہا جبکہ موصوف کو اسی جگہ سے دوسری جگہ جانا تھا تو موصوف نے گاڑیوں کے اسٹارٹ ہونے باوجود وہاں پر پیدل جانے کو ترجیح دی اور مٹی میں پیدل اس مقام پہنچے تو وہاں پر لوگوں کا ہجوم اس کے استقبال پر کھڑے تھے اور وہاں پر چائے پارٹی کے دوران فردا فردا ہر ایک سے ملتے رہے عزت و ذلت میرے رب کے یاتھ میں ہے تاقیامت میرے رب کی ذات رہنے والی ہے جبکہ موصوف اس تقریب میں بھی کافی دیر تک اپنے عوام کے ساتھ بیٹھے رہے یہی اوصاف میں نے ایک سچے لیڈر میں دیکھی ہے مجھے یہ احساس ہوا کہ موصوف کو اللہ تعالی نے سب کچھ دیا ہے جوانی پیسہ ۔شہرت ۔عزت اس کے باوجود اس میں غرور ۔تکبر نام کی کوئی چیز نہیں دیکھی اس سے میں نے اخذ کیا ہے عاجزی انکساری کی حد کر دی اور یہ چیز دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا اور انشا اللہ یہی نوجوان اگے چل کر اپنے والد صاحب کی طرح نام پیدا کرئے گا اور ایسے سیاسی لیڈر ہی اگے چل سکتے جو عوام کے دکھ درد میں عاجزی انکساری کے ساتھ ملتے رہے میرا اس سے ایک پہلی ملاقات تھی جو کہ میرے لیے ایک سبق رہی

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.