اسلام آباد (مسائل نیوز) مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری ، شہباز گل اور اعظم سواتی کی گرفتاری کی حمایت نہیں کرتا۔ثبوت کے بغیر گرفتاریوں کی روایت نہیں ہونی چاہئیے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ معاملات کے پیچھے تلخ حقائق تلخ ہوتے ہیں لیکن میں بتا نہیں سکتا۔حقائق جاننے کے لیے کمیشن بننا چاہئیے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو الیکشن میں تاخیر کی بات کہنے کا حق نہیں۔آئین کے مطابق 90 روز میں الیکشن ہونے چاہئیے اور ہوں گے۔انتخابات نہ ہونے کا کہنا آئین کی نفی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ اکتوبر میں عام انتخابات نہ ہوں،الیکشن کا خرچ اتنا بڑا نہیں کہ معیشت پر اثر ڈالے۔
کوئی جماعت قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن لڑنے میں سنجیدہ نہیں۔
- Advertisement -
ماضی میں انتخابات ملتوی ہونے کی نظیریں موجود ہیں۔2008 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد الیکشن ملتوی ہوئے تھے۔قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن کرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔قبل ازیں سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ موجودہ سیاسی نظام ملکی مسائل کے حل کی اہلیت نہیں رکھتا ہے،پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیاں غیر فعال ہیں ، سیاسی جماعتوں میں اختلافی نقط نظر سننے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے،اسی بنا پر پارلیمان گزشتہ پانچ سال میں ملکی مسائل کے حل میں ناکام رہی۔
وائس آف امریکہ کو دئیے گئے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب سیاست انتقام، دشمنی اور نفرت میں بدل جائے تو مکالمے کی گنجائش نہیں رہتی۔ پاکستان میں سیاست کو اسی نہج پر پہنچا دیا گیا ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ جب معاشی و سیاسی مسائل اس نہج پر پہنچ جائیں تو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ری امیجنگ پاکستان کے فورم سے گفتگو کا آغاز کیا ہے۔قومی مسائل پر مباحثے کا مقصد سیاسی جماعتوں کو جگانا ہے اور حل تلاش کرنا ہے۔