کراچی (مسائل نیوز) صوبہ سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ جاری ہے، ایم کیو ایم پاکستان نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ کا عمل جاری ہے، صبح 8 بجے سے شروع ہونے والی پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی، کراچی کے 25 ٹاؤنز کی 246 یو سیز کے 984 وارڈز پر ووٹنگ ہو رہی ہے، 7 اضلاع کی ان 246 یونین کمیٹیز کے لیے ہر ووٹر 2 ووٹ ڈالے گا۔
بتایا گیا ہے کہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد ڈویژن کے 9 اضلاع میں بھی آج بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، حیدرآباد میں 2551 اس کے علاوہ دادو میں 1436، جامشورو میں 839، ٹنڈوالہیار میں 781، مٹیاری میں 715 اور ٹنڈومحمد خان میں 452 امیدوار مختلف نشستوں پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی الیکشن تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں، آج 1 کروڑ 32 لاکھ 83 ہزار 696 افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جس کے لیے 8706 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مردوں کے لیے 1204 اورخواتین کے لیے 1170پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جب کہ مشترکہ طور پر 6332 اور 389 امپروائزڈ پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔
- Advertisement -
معلوم ہوا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی اور حیدرآباد میں آج ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بلدیاتی انتخاب میں پہلے سے دھاندلی ہوچکی ہے، اس سلیے اس بلدیاتی الیکشن کوتسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کیوں کہ الیکشن کمیشن کی پہلی ذمہ داری حلقہ بندیاں ہیں لیکن جب الیکشن کمیشن کو ان کی کوتاہی پرتوجہ دلائی تو انہوں نے توجہ نہیں دی، 15 جنوری تک انصاف کی کوشش کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوششیں میئرکے لیے نہیں شہر کی صحیح نمائندگی کے لیے تھیں لیکن کراچی اور حیدرآباد کے ووٹ کے احترام کے لیے کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہیں، عوام گھرپر بیٹھ کرہمارے ساتھ احتجاج میں شامل ہوں، کون کس کو جتوانا چاہتا ہے معلوم نہیں، آج کے الیکشن کے ثمرات عوام تک پہنچنے ہی نہیں، اصول ہار کر انتخاب جیتنے والے ہم نہیں ہیں۔