MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

غازی علم الدین شہید کی یاد

1 265

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر،عبدالغنی شہزاد

- Advertisement -

آج کے کالم میں ختم نبوت کے اس عظیم نوجوان شہید کے حالات زندگی پر مختصر روشنی ڈالنے کی کوشش ہے کہ جنہوں نے ختم نبوت کے گستاخ کو جہنم واصل کرکے رہتی دنیا تک پیغام دیا کہ پوری دنیا بالخصوص برصغیر میں کوئی مائی کا لال آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا تو ان کو جہنم واصل کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ 31اکتوبر غازی علم الدین شہید کا یوم شہادت ہے اسی مناسبت سے حاصل مطالعہ آپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کررہا ہوں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کبھی کسی ناعاقبت اندیش نے ناموس رسالت پر طعنہ زنی کی ہے عشاقان مصطفی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے سربلندی ملت میں اپنا حصہ ڈالا
ہے۔عشق مصطفی صلہ اللہ علیہ و و آلہ وسلم ایسا خذینہ ہے جس کی نہ تو قیمت کا تعین ممکن ہے اور نا ہی تمام کائنات میں مثل ہی ڈھونڈنا ممکن ہے.تاریخ میں ایسے چند ایک ہی کردار موجود ہیں جن کے غیر فطری و غیر ارادی افعال نے تاریخ انسانی پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور غازی علم الدین شہید کا تاریخی کردار بھی انہی میں سے ایک ہے. جبکہ 1929 میں لاہور کی آبادی پانچ لاکھ کے لگ بھگ تھی اس وقت غازی علم الدین شہید کا نماز جنازہ ادا کرنے والوں کی تعداد چھ لاکھ سے زائد ریکارڈ کی گئی اور نماز جنازہ ساڑھے پانچ میل پر پھیلا ہوا تھا.
علم الدین 4 دسمبر 1908ء بمطابق 8 ذیقعدہ 1366ء کو لاہور پنجاب پاکستان کے کوچہ چابک سوارں میں طالع مند نامی بڑھئی (یعنی ترکھان) کے گھر میں پیدا ہوئے. علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کے ایک مدرسے میں حاصل کی اورتعلیم سے فراغت کے بعد اپ نے اپنے آبائی پِیشہ کو اختیارکیا۔ آپکے دو بھائی تھے جن میں سے ایک سرکاری ملازمت کرتے تھے اور دوسرے میاں محمد امین صاحب تھے. میاں محمد امین صاحب بھی طالع مند صاحب کے ساتھ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ اس خاندان کی شرافت و کاریگری کی دھوم دور دور تک تھی. آپکا گھرانہ متوسط گھرانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ کاریگری میں ملکہ حاصل کر چکنے کے بعد اپنے بنوں بازار کوہاٹ میں اپنا فرنیچر سازی کا کام شروع کیا اور رزق حلال کی تگ و دو میں مصروف ہو گئے…
“راجپال” نامی لاہور کے ایک ناشر نے نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف ایک گستاخانہ کتاب “رنگیلا رسول” شائع کی. اس دل آزارعمل نے اہل ایمان کے جذبات کو مجروح کیا اورمسلمانوں میں سخت غم و غصہ پیدا ہوا۔ جب مسلمان رہنماؤں نے اس کتاب کو ضبط کرنے اور ناشر کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا تو انگریز حکومت کے مجسٹریٹ نے “راجپال” کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس کی علاوہ کتاب کو ضبط کرنے کے مطالبے کو رد کر دیا گیا. اس پر ظلم یہ ہوا کہ “راجپال” نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کردیا. اب مسلمانوں کا غم و غصہ گم آسمان کو چھونے لگا اور گلی گلی احتجاج شروع ہو گیا۔
بجا ئے کہ راجپال کو سرزنش کی جاتی، دو سپاہی اور ایک حوالدار اسکی حفاظت پر مامور کر دیے گئے اور ساتھ ہی ساتھ روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگریز حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرکے مسلمان رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کردیا. بلا شبہ حکومت وقت ملعون راجپال کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔
24 ستمبر 1928 کو لاہور کے ایک شخص خدابخش نے اس شاتم رسول “راجپال” کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا، تاہم اس نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔ خدابخش گرفتار ہو گیا اور اسے 7 سال قید کی سزاسنائی گئی.
افغانستان کا ایک شخص عبدالعزیزایک مرد مجاہد کفن باندھ کر گھر سے نکلا. اس نے لاہور آکر اس شاتم رسول کی دکان کا رخ کیا مگر یہ بدبخت دکان میں موجود ہی نہیں تھا اور سوامی ستیانند راجپال کا دوست اس کی جگہ موجود تھا۔ غلط فہمی میں عبدالعزیز نے سوامی ستیانند کو ہی راجپال سمجھ کر قتل دیا۔ عبدالعزیز کو انگریز حکومت نے گرفتار کیا اور 14 سال کی سزا سنائی.
مختلف روایات اور علماء کے اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ علم الدین ایک روز دلی دروازے پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رک گئے۔ وہاں راجپال کے خلاف تقریریں ہورہی تھیں۔ جس بات نے علم الدین کو سب سے زیادہ آگ بگولہ کیا وہ راجپال کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی ہی تھی۔ آج کے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مانند علم الدین بھی اس بات کو برداشت نہیں کر سکا کہ کوئی اسکی محبوب ترین ہستی کی شان میں
گستاخی کرے ،اس دور میں دلی دروازہ لاہور سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا اور تمام تحریکوں کا گڑھ بھی. یہاں سے جو بات کی جاتی تھی وہ ملک کے طول عرض میں با آسانی پہنچتی تھی۔ یہاں پر ہونے والی گفتگو اپنے آپ میں ایک سند کی حیثیت رکھتی تھی۔ لیکن علم الدین اس وقت کا روشن خیال شخصیت کا مالک انسان تھا۔ اس نے جو سنا اس پر یقین نہیں کیا بلکہ اپنے والد محترم سے تائید
حاصل کی ،اپنے دوست ”شیدے” اور اسکے ایک دوست کی مدد سے راجپال کا حلیہ، ہسپتال روڈ پر واقع کتابوں کی دکان کا پتہ اور دیگر معلومات اکٹھی کی گئیں.
یہاں یہ روایت بھی نقل کی جاتی ہے کہ بعد از یقین ایک رات اس کا دل بہت بے قرار تھا جہاں پھر ایک رات انہیں خواب میں ایک بزرگ ملے، انہوں نے کہا: پیارے نبی صلی اللہ علیہ و و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی ہو رہی ہے اور تم ابھی تک سورہے ہو! اٹھو جلدی کرو۔ علم الدین ہڑبڑا کر اٹھے اور سیدھے شیدے کے گھر
پہنچے ،پتہ چلا کہ شیدے کو بھی ویسا ہی خواب نظرآیا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے “راجپال” کو قتل کرنے کو کہا۔ دونوں میں یہ بحث چلتی رہی کہ کون یہ کام کرے، کیونکہ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ پھر قرعہ اندازی کے ذریعے دونوں نے فیصلہ کیا۔ تین مرتبہ علم الدین کے نام کی پرچی نکلی تو شیدے کو ہار ماننی پڑی۔ علم الدین ہی شاتمِ رسول کا فیصلہ کرنے پر
مامور ہوئے۔6 اپریل 1929ء کو ایک بجے دوپہر غازی علم الدین نے کھوکھے والے کی نشآندہی پر راجپال کو اسکی دوکان واقع ہسپتال روڈ انار کلی نزد مزار قطب الدین ایبک لاہور میں داخل ہوتے ہوئے پہچانا اور جیسے ہی راجپال اپنی نشست پر بیٹھا آپ نے راجپال کو للکارا ، چھری نکالی، اور راجپال کے جگر میں پیوست کر دی۔ عاشق کے ایک ہی وار نے راجپال کا کام تمام کر دیا۔ تھانے انارکلی پولیس کو دکان کے ایک ملازم نے اطلاع دی اور غازی علم الدین نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے گرفتاری
پیش کردی،یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر آپ چاہتے تو فرار ہو سکتے تھے لیکن آپ نے فرار ہونے کی کوئی کوشش بھی نہیں
کی،مقدمہ لوئس نامی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا جس نے غازی علم الدین پر فرد جرم عائد کرکے صفائی کا موقع دیئے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کردیا۔
مورخہ 22 مئی1929 کو غازی علم الدین کو سیشن کورٹ کے نیپ نامی انگریز جج نے سزائے موت کا حکم سنایا۔ غازی علم الدین کی جانب سے سلیم بارایٹ لاء پیش ہوئے اور آپ کے حق میں دلائل دیئے مگر تمام دلائل بے سود ثابت ہوئے۔
ہائی کورٹ میں اپیل کے لیے اس وقت کے سب سے بڑے اور مشہور وکیل محمد علی جناح کی خدمات حاصل کی گئیں۔ آپ بمبئی سے لاہور تشریف لائے اور آپکی معاونت بیرسٹر فرخ حسین نے کی۔
یہاں یہ روایت بھی مشہور ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے غازی علم الدین کو کہا کہ ”آپ اس قتل کا انکار کر دو کہ آپ نے قتل نہیں کیا! آپ کی سزا ختم کروانا میری ذمہ داری ہے” جس کے جواب میں غازی علم الدین نے جواب دیا کہ ” تمام زندگی میں ایک ہی تو کام کیا ہے اور آپ اس سے بھی مکرنے کا مشورہ دے رہےہیں
۔7 جولائی 1929ء کو ہائی کورٹ نے غازی علم الدین کو سزائے موت کا حکم سنا دیا. 15 جولائی 1929ء کو ہائی کورٹ کے لارجربنچ نے بھی سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھا اور غازی علم الدین کی
اپیل خارج ہونے کی اطلاع جب غازی علم دین کو دی گئی تو آپ نے فرمایا “شکر الحمدللہ! میں یہی چاہتا تھا۔ بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں سڑنے کے بجائے تختہ دار پر چڑھ کر ناموس رسالت پر اپنی جان فدا کرنا میرے لئے ہزار ابدی سکون وراحت ہے”۔31 اکتوبر 1929 بروز جمعرات کو میانوالی جیل میں آپ کو شہید کر دیا گیا۔ اللہ ہم سب کو صحیح معنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کی حفاظت کرنے والے بنائے ۔ آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] دہلی(مسائل نیوز)بھارت میں مسلمان طالب علم سے تعصب اور نفرت کا اظہار کرنے والے پروفیسر کو معطل کر […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.