MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کوئٹہ شہر کی گیس سے محرومی

0 301

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عبد الغنی شہزاد

- Advertisement -

کوئٹہ شہر کی حسین وجمیل وادی گزشتہ چند سالوں سے مسائل اور گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی ہے ، پانی بجلی ، صفائی کے مسائل اپنی جگہ مگر سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ گیس پریشر کی کمی اور عدم دستیابی ہے، ہرسال کی طرح اس سال بھی کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں موسم سرما کی شدت آنے سے قبل ہی گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ سر اٹھانے لگتاہے جس سے خواتین کے مشکلات میں اضافہ ہوا اور امور خانہ داری کے متاثر ہوجانے کے ساتھ بچے بیمار ہونے لگتے ہیں ،وادی کوئٹہ میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کا استعمال بڑھ جانے سے مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی کے مسائل میں اضافہ ہو جاتا ہے گیس پریشرمیں کمی کی وجہ سے خواتین کو روزمرہ کے کام کاج میں مشکلات درپیش ہیں اس سلسلے میں گنجان آبادی پر مشتمل علاقے مثلاً نواں کلی ،سریاب، ہزار گنجی، شالدرہ ، پشتون آباد، سبزل روڈ، عیسی نگری کرانی اتحاد کالونی، خروٹ آباد اور دیگر علاقے زیادہ متاثرہیں سریاب روڈ پر سراپا احتجاج خواتین کہتی ہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی گیس نہ ہونے کی وجہ سے برتن اور ہاتھ کالے کر کے لکڑیوں پر کھانا پکانا پڑتا ہے۔ سردیوں میں ناشتہ، کھانا بنانا تو دور کی بات منہ دھونے اور دیگر روزمرہ کے کاموں کے لیے گرم پانی تک میسر نہیں ہوتا۔ کئی بار احتجاج بھی کیا لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، مشکلات ہی مشکلات ہیں اور گزشتہ 5 سال سے یہاں گیس کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی گھمبیر ہواہے گھروں میں لکڑی سمیت مہنگا سلنڈر بھروا کر گزارا کیا جاتا ہے، اس کے باوجود محکمے کی جانب سے ہزاروں روپے کے بلوں کی ادائیگی معاشی بوجھ سے کم نہیں ہے یقیناً گیس کی کمی کے بحران نے کوئٹہ کے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے یادرہے کہ رواں سال کے آغاز میں ہی کوئٹہ میں گیس پریشر کی کمی کے باعث سیاسی جماعتوں کی جانب سے میڈیا کی حدتک احتجاج تو کیا جاتا ہے مگر عملاً مؤثر تحریک سامنے نہیں آسکی ہے ، انفرادی طور پر مختلف لوگ سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے باہر احتجاج اور گیس حکام کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہتے ہیں مگر ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا ،پچھلے سال حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے کہا کہ جی ایم گیس اور متعلقہ حکام ہر سال پریشر ٹھیک کرنے کا وعدہ کرتے ہیں مگر کئی سال گزر جانے کے باوجود پورا نہیں کرتے ، بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی گیس پریشر بحال نہیں کیا گیا، شہری عذاب میں مبتلا ہیں، مزید خاموش نہیں رہ سکتے، عوام کو گیس فراہم کرنا کمپنی کا بنیادی فریضہ ہے، حلقے کے عوام ہم سے شکوہ کرتے ہیں کہ گیس پریشر کیوں بحال نہیں ہورہا، آج ہم نے سوئی گیس دفتر کے باہر عوام کے بنیادی حق کو حاصل کرنے کے لئے دھرنا دیا ہے کیوں کہ عوام کا بنیادی حق غضب کرنا ظلم ہے، جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کے عوام کا پہلا حق ہوتا ہے گزشتہ سال احتجاج کی بنیاد پر جی ایم سوئی گیس مدنی صدیقی اور بلوچستان اسمبلی کے ارکان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جس میں گیس حکام نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تین روز میں گیس پریشر کا مسئلہ حل کردیا جائے گا مگر مسئلہ ہرسال کی طرح طفل تسلیوں سے آگے بڑھ نہ سکا اس مرتبہ عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے گیس پریشر کی کمی کے متعلق سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر و دیگر کاموقف ہے کہ سا لا نہ بنیا دوں پر کمپنی کو 125ایم ایم گیس کی کمی کا سا منا ہے، گیس چوری کے تدارک اور کمپریسر کے استعمال کے خاتمہ سے ہی گیس پریشر کو بہترکیا جا سکتا ہے،لوگوں کے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کر نے کی وجہ سے انسانی جا نوں کا ضیا ع ہو رہا ہے، تیر میٹر با رے تاثر درست نہیں کہ دیگر صوبوں کے مسترد شدہ میٹرز یہاں لگائے جاتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال سو سے لیکر 125ایم ایم گیس میں کمی آرہی ہے، جنرل منیجر سوئی سدرن گیس کمپنی مدنی صدیقی نے کہا تھا کہ ملک میں قدرتی گیس میں 70فیصد سندھ، 15فیصد بلوچستان سے حاصل ہوتا ہے نئے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے گیس کی طلب میں اضافہ ہورہاہے،اکتوبر میں ڈیمانڈ سے گیس کم آرہی ہے، شہر میں سپلائی بحالی کیلئے کوشاں ہیں شہر کو 210ملین گیس فراہم کررہے ہیں چوری میں ملوث لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہیں ، بدقسمتی سے میٹر کو ٹمپر کرکے گیس چوری کی جاتی ہے روزانہ 200سے 250تک کے میٹرز تبدیل کئے جاتے ہیں میٹر ریڈنگ نہ ہونے پر میٹر تبدیل ہو جاتی ہے، کوئٹہ میں 2 لاکھ میٹرز ہیں جن میں ایک لاکھ 60ہزار کی ریڈنگ انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہےٹمپرڈ میٹر کا تعین ہونے پر ایک سال کا بل بھیج بغیر سود کے بھیجا جاتا ہے، شہر میں گیس لیکج اور بو کے پھیلا کے حوالے سے کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ لوگ گھروں میں کمپریسر کے ساتھ پائپ لگایا جاتا ہے جو گیس کمپریس کرکے جمع نہیں کرتا جس پر کمپنی کی جانب سے پریشر میں اضافہ کیا گیا جس سے شہر میں گیس کی بو پھیل گئی،انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے علاہ کوئی گیس کمپنی میٹرز نہیں بناتا تیز میٹرز سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں اس حوالے سے سیاسی اور عوامی حلقوں کا موقف ہے کہ جو گیس چور یا ٹمپرنگ میں ملوث لوگ ہیں صرف ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیئے پورے کہ پورے علاقے میں گیس کی کمی سے معلوم ہوتا ہے کہ پریشر کی کمی گیس حکام کی مرضی سے ہورہی ہے اس وقت کوئٹہ کے شہری گیس پریشر کمی اور لوڈ شیڈنگ کے ساتھ زیادہ بلز آنے پر بھی نالاں ہیں کہ ایک طرف گیس ضروریات زندگی پورا کرنے میں ناکام ہے دوسری طرف زیادہ بلز اور اوور بلنگ سمجھ سے بالاتر ہے اس سلسلے میں عوام علاقائی سطح پر احتجاج کرنے کی تراکیب سوچ رہے ہیں اس سے قبل نواں کلی کے مکینوں نے جمعیت علماءاسلام اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام گیس دفتر کے سامنے دھرنا دیاجس سے اپوزیشن اراکین اسمبلی نے بھی خطاب کیا اور سریاب کے مکینوں نے سریاب روڈ پر احتجاج کیا علاقائی سطح پر سڑکوں کی بندش اور دھرنوں پر مبنی احتجاج سے پرامن ماحول خراب ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بلوچستان سے نکلنی والی گیس سے دیگر صوبوں کے کارخانے چل سکتے ہیں تو وہ کوئٹہ جیسے چھوٹے شہر کے مکینوں کی زندگی بچانے سے کیوں قاصر ہے؟ اس حوالے سے حکومت کو اہم اور مستقل قدم اٹھانا چاہئیے عارضی طور پر کسی علاقے کا پریشر بڑھانے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا ورنہ عوام مایوسی کا شکار ہوں گے، اس سال تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس کا حل نکالیں بصورت دیگر عوام انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.