آپ نے ھمارے لیے کیا,کیا ہے؟
تحریر: اعجازعلی ساغر
میں اکثر کہا کرتا ھوں کہ یہ ادب اور کتابوں کی آخری صدی ہے شاید اس کے بعد دونوں کا وجود نہ رہے ھوسکتا ہے کہ میں غلط ھوں مگر زمینی حقائق یہی ہیں کہ اب ھمارے معاشرے سے ادب و احترام اور کتابوں کا مطالعہ آہستہ آہستہ ختم ھوتا جاتا ہے میں اپنے ہم عمروں کو کہتا ھوں کہ شاید ہم ادب کی آخری نسل ھوں کیونکہ نئی جنریشن ان تمام چیزوں سے دور ھوتی جارہی ہے میرے کالم کا عنوان تو والدین اور اولاد کے حوالے سے ہے لیکن موجودہ دور کی جنریشن اور ہمارے یا ہم سے پہلے کی اولادوں کا موازنہ ضروری ہے۔
میں اپنے گاؤں کے ایک دو واقعات کا یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھوں گا کہ وہ اولادیں تو والدین کو کہتی ہیں کہ آپ نے ھمارے لیے وراثت میں کچھ نہیں چھوڑا اور ھمیں آسائشیں نہیں دیں ان کو سمجھانے کی خاطر یہ تحریر لکھنے جارہا ھوں تاکہ والدین جو اپنی اولاد کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے جب ان کی اولادیں بڑی ھوجاتی ہیں تو ماں باپ کیساتھ برا سلوک کرتی ہیں اور انہیں طعنے دیے جاتے ہیں۔
ھمارے گاؤں میں چاچا مولا بخش نامی ایک کمہار رہتا تھا جو بہت ہی غریب تھا اسکی 6 بیٹیاں اور دو بیٹے تھے وہ انتہائی غریب تھا مٹی کے برتن بناکر اور بیچ کر وہ اپنی گزر بسر کرتا اس کا بڑے بیٹے کا نام بیٹا ﷲ دتہ اور چھوٹے کا نام کاشف تھا بڑے بیٹے کو پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن غربت کی انتہا ھونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل تھا چاچا مولا بخش کو بھی اپنے بچوں کو پڑھانے کا بہت شوق تھا ایک دن چاچا مولا بخش,ان کی بیوی اماں جنتاں اور 4 بڑی بیٹیوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں چاہے جو کرنا پڑے ھم ﷲ دتہ کو پڑھائیں گے جب وہ پڑھ لکھ جائے گا تو اسکی نوکری لگ جائے گی اس طرح ھماری غربت دور ھوجائے گی (پاکستان کے دیہی علاقہ جات میں تعلیم کو جاب کیساتھ منسوب کیا جاتا ہے کہ بیٹا پڑھ لکھ کر نوکری کرے گا تو ھماری غربت دور ھوگی) لہذا چاچا مولا بخش اور ان کی بیوی اماں جنتاں نے دن رات ایک کردیا جبکہ ﷲ دتہ کی بہنوں نے بھی کھیت کھلیان میں دن رات کام کرکے اپنے بھائی کو پڑھانے کا بیڑہ اٹھا لیا۔
ﷲ دتہ پرائمری سکول سے مڈل اور مڈل سے ہائی پہنچ گیا مگر ماں باپ اور بہنوں کا جذبہ کم نہ ھوا وہ کالج اور پھر کالج سے یونیورسٹی کا سفر شروع ھوگیا ﷲ دتہ کی بہنوں کی شادیوں کی عمریں گزرتی جارہی تھیں اور ان کی جوانی ڈھل رہی تھی اب ماں باپ کو ان کی شادی کی فکریں پڑگئیں یہ فکریں تو ان کی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی پڑگئیں تھیں مگر حالات نے اجازت نہیں دی خیر آہستہ آہستہ سب کے رشتے ھونے لگے۔
ادھر ﷲ دتہ نے گریجویشن مکمل کرلی اب ماں باپ کو اس کی نوکری کی فکر پڑگئی لہذا وہ اپنے علاقے کے وڈیروں کے پاس اس کی نوکری کیلئے جانے لگے کبھی کسی کی منت تو کبھی کسی کی,بالاخر ایک وڈیرے کی مہربانی کی وجہ سے ﷲ دتہ کو سرکاری نوکری بھی مل گئی کیونکہ چاچا مولا بخش کئی دو تین نسلوں سے اس وڈیرے کے کمی تھے(کمی پنجابی زبان میں خدمت گزار کو بولتے ہیں دوسرا کمی چھوٹی ذات کے لوگوں کو بھی بولتے ہیں) ﷲ دتہ کو نوکری ملنے کے بعد اس کے والدین پورے گاؤں والوں میں مٹھائی بانٹی اور خوشی سے بتایا کہ ہمارے بیٹے کی نوکری ھوگئی ہے پورا گاؤں خوش تھا کہ چلو شکر ہے ﷲ دتہ کی جاب ھوگئی اب چاچا مولا بخش کی غربت دور ھوجائے گی اس وقت ھمارے گاؤں میں یہ دوسری سرکاری جاب ھوئی تھی خیر وقت گزرنے لگا ماں باپ کو اب ﷲ دتہ کی شادی کی فکر پڑگئی لہذا جلد ہی ایک اچھا رشتہ دیکھ کر ﷲ دتہ کی شادی کردی گئی شادی کے کچھ ماہ تو معاملات ٹھیک چلتے رہے لیکن بیٹے کی پسند پڑھی لکھی بہو نے جلد ہی اس گھر کی امید اور سہارے کو ماں باپ,بہنوں اور بھائی سے جدا کردیا اور ﷲ دتہ بیوی کو لیکر شہر شفٹ ھوگیا۔
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میں تھوڑا تھوڑا ہوش سنبھال رہا تھا بعد میں تعلیم کے سلسلے میں مجھے بھی شہر شفٹ ھونا پڑا کیونکہ گاؤں میں صرف مڈل تک کا ایک سکول تھا جبکہ شہر میں دو تین کالج تھے جو ھمارے گاؤں سے 45,50 کلومیٹر دور تھے۔
تعلیم کے دوران ہی میں نے میڈیا جوائن کرلیا اس وقت نئے نئے پرائیویٹ نیوز چینل اور اخبارات کی اوپننگ ھورہی تھی وقت گزرتا رہا میں جھنگ سے اسلام آباد آگیا۔
گاؤں کا چکر تو تواتر سے لگتا رہا لیکن چاچا مولا بخش کے گھر گئے سالوں بیت گئے جیسے میں بس سٹاپ سے اتر کر گھر کی طرف روانہ ھوا تو رستے میں اماں جنتاں مل گئیں (اماں جنتاں کا گھر رستے میں پڑتا تھا اور بس اسٹاپ آتے جاتے اس گھر پر نظر پڑتی رہتی تھی لیکن اب وہ گاؤں میں بھی جدت آچکی تھی اب کوئی کسی کے گھر نہیں جاتا)
اماں جنتاں نے پہلے تو نہیں پہچانا لیکن جب میں نے اپنا بتایا تو مجھے گلے لگا لیا اور رونے لگیں کہ بیٹا بہت عرصے بعد ملاقات ھوئی ہے آپ ھمارے گھر آتے ہی نہیں۔
خیر وہ گھر لے گئیں ویرانیاں اس گھر کو گھیرے ھوئی تھیں چاچا مولا بخش فوت ھوچکے تھے اماں سے میں نے ﷲ دتہ اور کاشف کا پوچھا اماں نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ اب ﷲ دتہ گھر نہیں آتا اس کو سالوں بیت گئے ہیں وہ ہم سے بالکل کنارہ کش ھوچکا ہے کاشف (جوکہ مڈل تک میرا کلاس فیلو تھا) بھی غربت کی وجہ سے نہیں پڑھ سکا وہ محنت مزدوری کرتا ہے جس سے ھمارا پیٹ پلتا ہے دو جوان بیٹیوں کی شادی کرنی ہے لیکن حالات آج بھی وہیں ہیں جہاں پہلے تھے۔
میں نے پوچھا اماں ﷲ دتہ کی کوئی ترقی ھوئی؟
یکدم اماں جنتاں کے چہرے پر خوشی کے تاثرات ابھرے اور آنکھوں میں نمی سی آگئی بولیں بیٹا اب ﷲ دتہ میجر بن گیا ہے اس کی اپنی گاڑیاں ہیں راولپنڈی میں کوٹھیاں ہیں بہت امیر ھوگیا ہے میرا بیٹا پھر چادر کا پلو پھیلایا اور رب سے دعا مانگنے لگیں کہ یاﷲ میرے ﷲ دتہ کو اور زیادہ رنگ بخت لگانا اسے ترقیاں دینا۔
میں بھیگی آنکھیں لیے گھر روانہ ھوا۔
اس بات کو چار پانچ سال گزر چکے ہیں پچھلے سال اماں جنتاں بھی فوت ھوگئی ہیں پتہ نہیں آج کا اے ڈی ملک ماں کے جنازے میں بھی پہنچا ھوگا یا نہیں؟ کیونکہ والد کے جنازے اور تدفین میں موصوف نہیں گئے تھے۔
پچھلے دنوں اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے اسلام آباد کیلئے روانہ ھوا تو رستے میں میری بڑی بیٹی جوکہ اڑھائی سال کی ہے کی طبیعت خراب ھوگئی اس سے پہلے کہ ھوسٹس شاپر دیتی اس نے الٹی کردی میں نے یکدم ہاتھ آگے کردیا اور اس کی الٹی اپنے ہاتھوں پر ہی کروا لی میرے سارے کپڑے خراب ھوگئے خیر اس کو صاف کیا اور ہم گھر پہنچ آئے رات کو جب میں لیٹا تو ﷲ دتہ والی اسٹوری میرے ذہن پر آگئی اور پھر میرا خیال اپنی بیٹی کی طرف چلا گیا کہ جب یہ بڑے ھوجاتے ہیں تو پھر والدین کو طرح طرح کی باتیں سناتے ہیں اپنے لیے سب کچھ قربان کردینے والے ماں باپ کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
میرے ایک کلاس فیلو جو بہت ہی غریب تھے اس کے والد ریڑھی لگاتے جبکہ والدہ بھی کھیت کھلیان میں محنت کرکے ان کیلئے روزی روٹی کما لاتے سخت سردیوں کے دن تھے ان کی والدہ صبح بیچاری بچوں کا ناشتہ بناکر کپاس چننے کیلئے جاتیں اور مغرب کے وقت سردی سے ٹھٹھرتی ٹھٹھرتی واپس آتیں ان کا معمول تھا کہ وہ گاؤں سے پانچ چھ کلومیٹر پیدل جاتیں اور واپس بھی پیدل آتیں۔
ان کا معمول تھا کہ وہ ہر روز واپسی پہ پانچ یا دس روپے کا گڑ یا چینی والا مرنڈا بچوں کیلئے لازمی لاتیں اور بچوں کو بھی ماں کا انتظار رہتا تھا کہ وہ ھمارے لیے کچھ نہ کچھ لائیں گی ایک دن اپنے دوست سے ملنے ان کے گھر گیا تو ان کی والدہ سارے دن کی تھکی ہاری واپس آئیں سب بچوں نے یک زبان پوچھا اماں ھمارا مرنڈا لائی ھو وہ مسکرائیں اور اپنی چادر کے پلو میں بندھا مرنڈا مجھ سمیت سب بچوں کو دیا۔
ایک دن میں نے ان سے پوچھا اماں آپ اتنا سفر پیدل جاتی ہیں اور پھر سارا دن محنت مزدوری کرکے واپس پیدل آتی ہیں آپ آتے جاتے پانچ پانچ رکشے والے کو کرایہ دیکر رکشے پر کیوں نہیں آتیں جاتیں,تب انہوں نے جو الفاظ کہے وہ آج بھی مجھے یاد ہیں کہ بیٹا جو پیسے میں کرائے میں لگاؤں گی انہی پیسوں سے اپنے بچوں کیلئے کھانے کی چیزیں لے آتی ھوں جب گھر آتی ھوں تو میرے بچوں کو انتظار ھوتا ہے کہ آج ھماری ماں کچھ نہ کچھ لائے گی جس رات نہیں لاتی اس رات ساری رات بچے سوال کرتے ہیں کہ اماں آج مرنڈا کیوں نہیں لائیں اب ان کو تو نہیں پتہ کہ آج ان کی ماں کو مزدوری نہیں ملی۔
یہ اسٹوریاں صرف دیہاتی بچوں کی ہیں شہروں میں تو اس سے بھی برا حال ہے والدین کے پاس جو کچھ بھی ھوتا ہے وہ اپنا سب کچھ اپنی اولاد پر لٹا دیتے ہیں اور بچے جب کچھ بن جاتے ہیں تو اسی ماں باپ سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ اولاد خاص کر بیٹے شادی کے بعد ماں باپ سے الگ ھوجاتے ہیں اور پھر وہی ماں باپ رات کو منہ پر بستر لیے زار و قطار روتے ہیں یہاں آپ کو جگہ جگہ ایسے ﷲ دتہ ملیں گے۔
آج کی نئی جنریشن سے میری اپیل ہے کہ خدا کے واسطے اپنے والدین کا خیال رکھیں بیوی اور بچوں کے حقوق اپنی جگہ لیکن پلیز ان والدین کے حقوق ضرور ادا کریں جن کی بدولت آپ آج اس مقام تک پہنچے ہیں۔
گریجویشن کے دوران ھمارے انگلش کے پروفیسر ریحان خلیل صاحب ایک شعر سنایا کرتے تھے کہ
- Advertisement -
شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا۔
آج کی اولاد والدین کا ادب کریں اور ان کی تمام ضروریات کیا خیال رکھیں ھمارے والدین کے پاس ھمیں دینے کیلئے ان کی زندگی تھی جو انہوں نے ھم پر صرف کردی۔
والدین سے اپیل ہے کہ آج کی اولاد آپ کے زمانے کی نسبت ایڈوانس ہے لہذا ان سے اپنے دور کے خیالات زبردستی منوانے کی ضد نہ کریں اپنی اولاد کو دوستوں کی طرح ہینڈل کریں ہاں البتہ ادب و احترام کا دائرہ ان کو کراس نہ کرنے دیں کیونکہ جوں جوں وقت گزرے گا یہ فرق بڑھتا جائے گا مولا علی علیہ سلام کا فرمان عالیشان ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت اپنے زمانے کے مطابق نہیں بلکہ آنیوالے وقت کے حساب سے کریں تاکہ زمانے کی بھاگ دوڑ میں کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائے۔
خداوند کریم میرے والدین سمیت جن جن کے والدین وفات پاچکے ہیں ان کے درجات بلند فرمائے اور جن کے والدین حیات ہیں ان کی عمریں دراز فرمائے۔آمین
[…] نیوز)ایک اور یوٹیوبر نے شادی کا سہر ا سر پر سجا لیا ۔ ’’وڈیرے کا بیٹا‘‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والے مزاحیہ اداکار علی گل پیر […]