اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دسمبر تک توسیع
اسلام آباد (مسائل نیوز) سیشن کورٹ اسلام آباد نے سینیٹر اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دسمبر تک توسیع کردی۔تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ اسلام آباد میں اداروں کے خلاف ٹویٹ اور بیان بازی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دسمبر تک توسیع کردی۔جبکہ اعظم سواتی کو سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش نہ کرنے کی وکیل کی درخواست منظور کر لی گئی۔
تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے مقدمات درج کرنے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔درخواست میں وفاقی حکومت،ایف آئی اے،آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں مؤقف اپنا گیا کہ اعظم سواتی کیخالف کوئٹہ میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ سندھ کے مختلف تھانوں میں بھی مقدمات درج ہوئے۔
ایف آئی اے نے پیکا قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا اور اسی نوعیت کے دوسرے کیس میں پی ٹی آئی سینیٹر ضانت پر رہا ہوئے۔
- Advertisement -
درخواست میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اعظم سواتی کے ساتھ کسی بھی قسم کا غیر انسانی سلوک کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی حراست کے دوران اعظم سواتی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔درخوست میں استدعا کی گئی کہ پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں۔سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف ٹھٹھہ میں بھی مقدمہ درج کیا گیا،اعظم سواتی کے خلاف ٹھٹھہ کے آگر محلے کے رہائشی کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا۔
سینیٹر کے خلاف حب اور لسبیلہ میں بھی مقدمات درج کئے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹر اعظم سواتی کا کیس تمام ملکی اور غیر ملکی فورمز پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی ترجمان فوادچوہدری نے بتایا کہ پی ٹی آئی مشاورتی اجلاس کے دوران عمران خان کو اعظم سواتی کے بیٹے کا روتے ہوئے فون آیا کہ انہیں کل عدالت میں پیش کرنے سے روکا جائے یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ کل انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جائے گا ہم اس ظلم کے سامنے جھکنے والے نہیں یہ ظلم کرتے جائیں ہم رجسٹر بھرتے جائیں گے، اعظم سواتی کو انصاف نہیں ملا جس پر سخت بات کر دی تو انہیں پھر گرفتار کر لیا گیا یہ کیسا قانون ہے کہ کوئی بھی آواز اٹھاتا ہے اسے گولی مار دی جاتی ہے