امریکا میں ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت پر ’فوجی ڈولفنز‘ تعینات ہیں
واشنگٹن(ویب ڈیسک ) امریکا میں ایٹمی ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخیرے کی حفاظت پر فوجیوں کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت یافتہ ڈولفنز بھی تعینات ہیں اور یہ سلسلہ کم از کم پچھلے 50 سال سے جاری ہے۔امریکی ویب سائٹ ”ملٹری ڈاٹ کام“ کے مطابق، فوجی مقاصد کے تحت ڈولفنز کو تربیت دینے کا سلسلہ 1967 میں شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ان ڈولفنوں کو سمندری تہہ میں چھپائی گئی بارودی سرنگیں شناخت کرنے سے لے کر فوجیوں کی حفاظت اور امدادی کارروائیوں تک کی تربیت دی جاتی ہے۔
- Advertisement -
اس مقصد کےلیے ”یو ایس نیوی میرین میمل پروگرام“ کے تحت ڈولفنوں کے علاوہ دوسرے سمندری جانور بھی سدھائے جاتے ہیں تاکہ وہ عسکری تقاضوں سے مخصوص کام کرسکیں۔واضح رہے کہ ڈولفنز قدرتی طور پر طاقتور سونار سے لیس ہوتی ہیں جو انہیں زیرِ آب رہتے ہوئے دور دراز کی آوازیں سننے اور آواز کی مدد سے سمندر کی تاریک گہرائیوں میں موجود چیزوں کو دیکھنے اور شناخت کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
آواز کی مدد سے ’دیکھنے‘ اور ارد گرد کی اشیاءکو شناخت کرنے کی یہ صلاحیت ’ایکولوکیشن‘ (صوتی سمت بندی) کہلاتی ہے جو ڈولفنز کے علاوہ چمگادڑوں میں بھی زبردست ہوتی ہے۔فوجی تربیت یافتہ ڈولفنیں جیسے ہی کسی نامعلوم غوطہ خور یا دوسرے زیرِ آب خطرے کی شناخت کرتی ہیں تو فوراً اپنے نگراں کے پاس پہنچتی ہیں جو انہیں لائف جیکٹ جیسا ایک آلہ دیتا ہے۔